جرمنی میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے مسلمانوں اوریہودیوں کی مشترکہ تقریب

انٹرنیشنل

برلن(انٹرنیشنل ڈیسک)جرمنی سے تعلق رکھنے والے یہودی اور مسلمان رہنماؤں نے آؤشوِٹس پہنچ کر ایک یادگاری تقریب کی قیادت کی۔ یہ کثیرالعقیدہ تقریب لٹسمان اشٹٹ بستی کے یہودیوں کی بیدخلی کے چوہتر برس مکمل ہونے کی یاد میں منعقد کی گئی۔جرمن ریڈیو کے مطابق رابی ہنری برانڈٹ اور جرمنی میں مسلمانوں کی سینٹرل کونسل کے ایمان مازیک نے اس تقریب کی مشترکہ طور پر قیادت کی۔

اور آؤشوِٹس کے اذیتی مرکز کے داخلی دروازے پر شرکاء سے خطاب بھی کیا۔ اس تقریب میں دو جرمن وفاقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود تھے۔ ان میں ایک تھورنگیا کے بوڈو رامیلو تھے اور دوسری جرمن سیاسی شخصیت شیلسوگ ہوشٹائن کے وزیر اعلیٰ ڈینئل گوئنتھر تھے۔ ان دونوں نے آؤشوِٹس میموریئل پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائیں۔بنیادی طور پر یہ ایک معلوماتی اور تعلیمی دورہ تھا جس کا انتظام مشترکہ طور پر جرمن مسلمانوں کی مرکزی کونسل اور یونین آف پروگریسو جِیوز نے کیا تھا۔ اس میں خاص طور پر شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے مسلمان مہاجرین کے ہمراہ نوجوان یہودی افراد بھی شریک تھے۔واضح رہے کہ سڑسٹھ ہزار یہودیوں میں سے پینتالیس ہزار کو آؤشوِٹس میں بنائے گئے گیس چیمبرز کے ذریعے موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا تھا۔ نازی حکومت نے پولینڈ کے تیسرے بڑے شہر لوڈش کو سن 1940 میں لٹسمان اشٹٹ کا نام دیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد پولستانی حکومت نے سابقہ نام بحال کر دیا تھا۔یہ امر بھی اہم ہے کہ پولینڈ میں واقع آؤشوِٹس کے اذیتی مرکز میں مجموعی طور پر تیرہ لاکھ کے قریب یہودیوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ اس جبری منتقلی کے بعد تقریباً گیارہ لاکھ مقید افراد کو نازی فوجیوں نے مختلف طریقوں سے ہلاک کر دیا تھا۔ اس اذیتی مرکز سے صرف 196 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔لٹسمان اشٹٹ گیٹو نازی جرمن دور حکومت کے مقبوضہ علاقوں میں دوسری بڑی بستی تھی، جس میں یہودیوں کے ساتھ روما خانہ بدوشوں کو بھی پابند کیا گیا تھا۔ کارل لٹسمان نازی فوج کے اہم جرنیلوں میں شمار ہوتے تھے۔ جب روسی افواج نازیوں کو شکست دیتی ہوئی لوڈش میں داخل ہوئی تو اِس بستی میں صرف 877 یہودی چھپے ہوئے ملے تھے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر