بالا کوٹ تک رسائی ناممکن،عالمی اداروں نے بھارتی حملے پر سوالات اٹھا دئیے

انٹرنیشنل

واشنگٹن(این این آئی) امریکا کے سب سے معتبر دفاعی میڈیا ادارے جینز انفارمیشن گروپ نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے قریب دہشت گرد گروپ کے مبینہ کیمپ پر حملے اور 350 سے زائد افراد کو مارنے کے دعوے پر سوالات اٹھا دئیے۔لندن کے ادارے کے تجزیہ کار راہْل بیدی نے امریکی اخبارسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارنے کے حوالے سے جو کچھ بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔وہ اب تک صرف افواہ ہے، انہوں نے ایک دہشت گرد گروپ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے لیکن خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود ان

کیمپوں کو کچھ عرصہ قبل ہی ختم کردیا گیا تھا۔امریکی اخبارنے نئی دہلی میں بھارتی ماہرین اور سفارت کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے فضائی حملے میں اہداف غیر واضح تھے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر حملے کا جواب دینے کے اعلان کے بعد اگر سرحد پر کچھ دہشت گرد گروپ کام کر بھی رہے ہوتے تو حالیہ دنوں میں انہیں ختم کردیا گیا ہو گا۔ایک اور اہم برطانوی عالمی نشریاتی ادارے نے بالاکوٹ کے علاقے جبا کے مقامی افراد سے انٹرویو کیے جن کے مطابق انہوں نے رات گئے پانچ دھماکے سنے، ان کا کہنا تھا کہ کچھ جھونپڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے لیکن حملے میں کوئی بھی مارا نہیں گیا۔لندن کے ادارے گارجین نے کہا کہ یہ بات واضح نہیں کہ جیٹ طیاروں کے حملے میں کسی خاص چیز کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں یا پھر یہ آپریشن اس احتیاط سے انجام دیا گیا کہ پاکستانی جوابی کارروائی کا خطرہ مول لیے بغیر 14فروری کے خود کش حملے کے بعد جنم لینے والے غم و غصے کو کم کیا جا سکے۔برطانوی اخبار نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بالا کوٹ لائن آف کنٹرول سے 80 کلو میٹر دور خیبر پختونخوا میں اور پاکستان کی تسلیم شدہ حدود کے کافی اندر واقع ہے۔اس بارے میں مزید کہا گیا کہ وہاں پر حملہ پچھلی بھارتی جوابی کارروائیوں میں تیزی کی نمائندگی کرے گا۔معروف امریکی نشریاتی ادارے نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ پلوامہ میں دہشت گرد حملے کے بعد اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر