عراق میں پرتشدد مظاہرے، خون کی ندیاں بہہ گئیں، درجنوں ہلاک، سیکٹروں زخمی

انٹرنیشنل

بغداد(این این آئی)عراق میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک کم سے کم 40 افراد ہلاک اور دو ہزار سے زاید زخمی ہو گئے۔ ملک کے بیشتر شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب عراقی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے بے دریغ استعمال کا الزام عاید کیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی وزارت داخلہ نے بتایا کہ بصرہ شہر میں سیکیورٹیفورسز پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔عراقی جوڈیشل کونسل نے اس بات پر زور دے کر خبردار

کیا کہ کہ فوج اور سیکیورٹی اداروں اور سرکاری اداروں کے مراکز پر قابل سزا جرم تصور ہو گا۔ سیکیورٹی اداروں پرحملوں میں ملوث شخص کوسزائے موت دی جائے گی۔ ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ جنوبی عراق میں ایک مسلح گروپ کے مرکز میں آگ لگانے کے بعد 11 مظاہرین ہلاک ہو گئے ۔ عراقی حکومت نے جنوبی صوبوں میں انسداد دہشت گردی فورسز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ۔دوسری جانب عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ نے تصدیق کی کہ اس کی افواج دہشت گردوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے مطابق نمٹے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں تخریب کاروں کو گھسنے کی اجازت نہ دیں اور فسادیوں کی نشاندہی کرکے ان کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کو مطلع کریں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی ادروں، سرکاری اور نجی املاک پر حملے یا کسی بھی دوسری تخریبی کارروائی میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ مظاہروں کی آڑ میں ملک میں تباہی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عراق کے شیعہ اکثریتی شہر کربلا میں مظاہرین نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر پھاڑ دیں۔ انہوں نے ایران کی سمندرپار کارروائیوں میں سرگرم القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ العربیہ کے نامہنگار کے مطابق کربلا میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔سکیورٹی عہدیداروں نے پہلے اعلان کیا تھا کہ عراق میں جمعہ کے روز ہونے والے احتجاج میں 23 مظاہرین ہلاک اور 1779 زخمی ہوئے ہں۔ یہ ہلاکتیں بصرہ اور واسط گورنریوں میں ہوئی ہیں۔ بصرہ میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے 10 سکیورٹی اہلکاروں کو زخمی کردیا۔عراق میں انسانی حقوق ہائی کمیشن کے مطابق بغداد ، میسانذ قار اور مثنی کے علاقوں سیکیورٹی فورسز مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 21 افراد ہلاکت ہو گئے تھے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے پہلے چاروں صوبوں میں بصرہ اور دیوانیہ زخمیوں کی تعداد 1779 تک جا پہنچی تھی۔ زخمیوں میں زیادہ تر گولیاں لگنے آنسوگیس کی شیلنگ یا دھاتی گولیوں سے متاثر ہوئے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بابل، دیوانیہ، میسان، واسط، ذی قار اور بصرہ میں کم سے کم 27 سرکاری عمارتوں اورسیکیورٹی ہیڈ کوارٹرز کو آگ لگائی گئی۔ بابل، کربلا اور نجف میں مظاہرین نے احتجاجی دھرنے بھی دیئے۔سیکیورٹی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کے روز مظاہرین نے العمارہ شہر میں ایک مسلح گروپ کے مرکز کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تو اس دوران ہونے والے تشدد کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔بغداد سے 350 کلومیٹر جنوب میں واقع العمارہ شہر میں مظاہرین نے الحشد الشعبی ملیشیا کے ایک مشہور گروہ عصائب الحق کے صدر دفتر پر حملہ کیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر