دنیانہیں‘ دل

زیرو پوائنٹ

امیر تیمور تاریخ کاآخری بڑا فاتح تھا‘ ازبکستان کے اس غریب زادے نے دنیا کی سب سے بڑی فوج بنائی اور آدھی دنیا روند ڈالی‘ رائفل کا موجد بھی یہ تھا‘ تیموری رائفل میں تیر لوڈ ہوتے تھے‘ سپاہی ٹریگر دباتا تھا اورتیر فورس کے ساتھ دور جا گرتاتھا‘ آپ نے دیکھا ہو گا دنیا بھر کی رائفلوں کا دستہ لکڑی کا ہوتا ہے‘ لکڑی کا یہ دستہ امیر تیمور کی یادگار ہے‘ اس نے تیر پھینکنے والی رائفل میں لکڑی کا دستہ لگوایا تھا‘یہ آج تک لگ رہا ہے‘ جنگ میں بارود اور بموں کا استعمال بھی امیر تیمور نے شروع کرایا تھا۔

یہ مٹی کی ہانڈی میں بارود بھرتا تھا‘ ہانڈی کی گردن میں رسی باندھی جاتی تھی‘ وہ ہانڈی میں فتیلہ رکھ کر اسے

آگ لگاتا تھا‘ سپاہی رسی پکڑ کر ہانڈی کو سر پر گھماتا تھا اور دشمن پر پھینک دیتا تھا اور دشمن زخمی ہو جاتا تھا‘ یہ بم کی ابتدائی شکل تھی‘ تیمور کے بعد بارود کی نئی قسمیں آئیں اور لوہے کے بم شروع ہو گئے یہاں تک کہ1867ء میں الفریڈ نوبل نے ڈائنامائیٹ ایجاد کر لیا۔ امیر تیمور تین براعظموں کو اپنے قدموں میں روندنے والا آخری بادشاہ تھا‘ ماضی کے 58 اور موجودہ 27 ملک فتح کیے‘ پوری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دی اور تاریخ کے منہ پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا‘ وہ علماء‘ شعراء اور ادباء کا بہت احترام کرتا تھا‘ وہ فتح کے بعد شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا تھا‘ سر کاٹ کر ان کے مینار بنا تا تھا اور آخر میں پورے شہر کو آگ لگا دیتا تھا‘ اس کی تلوار سے صرف علماء کو پناہ ملتی تھی‘ اس کا حکم تھا کوئی فوجی‘ کوئی سپاہی کسی عالم کو ہاتھ نہیں لگائے گا‘ وہ آخر میں ان علماء کرام کے ساتھ مناظرہ کرتا تھا‘ یہ اس کی زندگی کی واحد انٹرٹینمنٹ تھی‘ وہ اپنی پسند کے علماء کو اپنے ساتھ رکھتا تھا‘ علماء کے اس دستے میں ایک پادری بھی شامل تھا‘ تیمور18 فروری 1405ء کو چین جاتے ہوئے فرب کے مقام پر انتقال کر گیا تو اس کی بائیو گرافی کے باقی حصے اسی پادری نے تحریر کیے تھے۔
پادری تیمور کے قریب تھا لہٰذا وہ اس سے ہر قسم کی بات کر لیتا تھا‘ پادری نے ایک دن تیمور سے پوچھا ”آپ کی زندگی کا سب سے خوش گوار دن کون ساتھا“ یہ سوال برق کی طرح تیمور پر گزرا اور اس نے ذرا سا سوچ کر دکھی لہجے میں جواب دیا ”میں نے پوری زندگی ایک بھی دن سکھ اور خوشی کے ساتھ نہیں گزارا‘ پوری عمر بھاگ دوڑ اور جنگ و جدل میں گزار دی‘ یہ جواب پادری کے لیے حیران کن تھا‘ کیوں؟کیوں کہ یہ دنیا کے سب سے بڑے فاتح کے الفاظ تھے۔

یہ زندگی کا ایک پہلو تھا‘ آپ اب دوسرا پہلو بھی ملاحظہ کیجیے‘ یہ ایک لڑکی کی کہانی ہے‘ لڑکی 1910ء میں مقدونیہ کے شہر سکوپجی میں پیدا ہوئی تھی‘ یہ علاقہ اس وقت خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا‘ وہ اٹھارہ سال اس شہر میں رہی‘ پہلی جنگ عظیم کے بعد مقدونیہ سے آئر لینڈ اور پھر انڈیا آ گئی‘ کلکتہ اس کی منزل تھا‘ وہ کیتھولک تھی‘ نن تھی‘ خود کو اللہ‘ عیسائیت اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا‘ انڈیا اس وقت غربت کی انتہا کو چھو رہا تھا۔

کلکتہ اس غربت کا خوف ناک نمونہ تھا‘ رہی سہی کسر قحط‘ ٹی بی اور کوڑھ نے پوری کر دی لہٰذا شہر میں دور دور تک بیماری‘ قحط اورغربت کے انبار لگے تھے‘ وہ نوجوان تھی لیکن غربت اور بیماری اس کے دل پر گری اور اس نے اپنی باقی زندگی کلکتہ کے لیے وقف کر دی‘ کلکتہ اس کا مسکن بن گیا‘ وہ 1931ء سے 1997ء تک 6ٰ6 سال کلکتہ رہی اور اپنے ہاتھوں سے دکھی انسانیت کے دکھ پونچھتی رہی‘ یہ ان 69 برسوں میں پوری دنیا میں مشہور ہو گئی‘ 1979ء میں اسے نوبل پرائز بھی مل گیا اور یہ دنیا کے بااثر ترین لوگوں میں بھی شمار ہونے لگی۔

یہ 87 سال کی عمر میں 5 ستمبر1997ء کو کلکتہ میں آنجہانی ہوئی اور پوری دنیا میں اس کی موت کا سوگ منایا گیا‘ جی ہاں آپ نے درست پہچانا‘ اس کا نام مدرٹریسا تھا‘ کسی نے 1995ء میں اس مدر ٹریسا سے پوچھا تھا”آپ کی زندگی کا دکھی ترین دن کون سا تھا“ مدر ٹریسا نے مسکرا کر جواب دیا ”میں جب بھی لوگوں کو دکھی دیکھتی ہوں تو دکھی ہو جاتی ہوں“ پوچھنے والے نے پوچھا ”لیکن کیا آپ کبھی اپنی وجہ سے بھی دکھی ہوئی“ مدر ٹریسا نے تاریخی جواب دیا۔

اس نے کہا”میری عمر اس وقت85 سال ہے‘ میں اگر اپنی لاشعوری عمر کے پہلے پانچ سال نکال دوں تو میں کہہ سکتی ہوں میں نے ہوش و حواس میں 80 سال گزارے ہیں‘ میں نے ان 80 برسوں میں ایک بھی دن ایسا نہیں گزارا جب میں اپنے لیے غم زدہ یا دکھی ہوئی ہوں‘ میں سارا دن گزار کر جب بستر پر لیٹتی ہوں تو شکر ادا کرتے کرتے سو جاتی ہوں اور صبح خوشی خوشی اٹھتی ہوں‘ دکھ کیا ہوتا ہے میں ذاتی زندگی میں اس سے کبھی روشناس نہیں ہوئی“۔

آپ امیر تیمور اور مدر ٹریسا کا فرق دیکھیے‘ ایک دنیا کا سب سے بڑا فاتح تھا لیکن اس نے 69 سال کی عمر تک خوشی کا ایک بھی دن نہیں گزاراتھا اور دوسری ایک بے یارومددگار عورت جس نے اپنی زندگی کے 66 سال اجنبی لوگوں میں گزار دیے تھے مگر اسے ایک دن کے لیے بھی ملال‘ دکھ یا تکلیف کا احساس نہیں ہوا تھا‘ ان دونوں میں کیا فرق تھا؟ ان دونوں میں غرض اوربے غرضی کا فرق تھا‘ فتح اور خدمت کا فرق تھا‘ امیر تیمور غرض کی تلوار سے دنیا فتح کرتا رہا۔

وہ لوگوں کے سر اتارتا رہا جب کہ مدر ٹریسا بے غرضی سے دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی‘ وہ روتی آنکھیں پونچھتی رہی اور جھکی گردنوں کو سہارا دیتی رہی لہٰذا آخر میں امیر تیمور روتا‘ سسکتا ہوا دنیا سے رخصت ہو گیا‘ اسے پوری زندگی خوشی کا ایک بھی دن نصیب نہیں ہوا جب کہ مدر ٹریسا کے دل پر اپنے لیے دکھ کا ایک بھی سایہ نہیں اترا‘ وہ پوری زندگی خوش رہی‘ کیوں؟ وجہ صاف ظاہر تھی‘ مدر ٹریسا نے پوری زندگی خدمت میں گزار دی جب کہ امیر تیمور پوری زندگی دنیا فتح کرتا رہا۔

یہ فرق‘ یہ وجہ ثابت کرتی ہے دنیا کو فتح کرنے کے خبط میں مبتلا لوگوں کے ہاتھ افسوس اور دکھ کے سوا کچھ نہیں آتاجب کہ اپنی زندگی دنیا کی خدمت کے لیے وقف کرنے والے لوگ کبھی دکھی نہیں ہوتے‘ آپ کو یہ فرق آج بھی دکھائی دے گا‘ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے بعد دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ پہلی دنیا پریشان اور دکھی ہے جب کہ دوسری دنیا مطمئن اور خوش ہے‘ آپ دائیں بائیں دیکھیں آپ کو اس وقت دنیا کو فتح کرنے کے خبط میں مبتلا لوگ دکھی اور پریشان ملیں گے۔

کیوں؟ کیوں کہ ان کی ساری فتوحات لاک ڈاؤن ہو چکی ہیں‘ فیکٹریاں‘ کمپنیاں‘ دفتر‘ بازار‘ منڈیاں اور ویئر ہاؤسز بند ہو چکے ہیں‘ ملازم گھروں میں جا چھپے ہیں‘ گاڑیاں گیراجوں میں لاک ہیں اور یہ خود موت کے خوف کی وجہ سے باہرجھانک تک نہیں رہے جب کہ آپ کو لوگوں کی خدمت کرنے والے لوگ مطمئن اور خوش ملیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ اللہ نے انہیں لوگوں کی خدمت کا موقع فراہم کر دیا ہے‘ یہ لوگوں کے لیے راشن جمع کر رہے ہیں اور یہ راشن گھر گھر پہنچا رہے ہیں۔

میری قوارن ٹائین میں روزانہ درجنوں لوگوں سے بات ہوتی ہے‘ آپ یقین کریں مجھے آواز سے اندازہ ہو جاتا ہے دوسری طرف امیر تیمور ہے یا مدر ٹریسا‘ دونوں کی آواز اور جذبات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے‘ امیر تیمور پوچھتے ہیں ”یہ کورونا کب تک چلے گا‘ ہمارا کیا بنے گا‘ مارکیٹ کب کھلے گی اور ہماری نوکریوں اور بزنسز کا کیا بنے گا؟“جب کہ مدر ٹریسا جیسے لوگ کہتے ہیں ”چودھری صاحب ہم نے یہ کر لیا ہے‘ ہم یہ کرنا چاہتے ہیں‘ کیا آپ ہماری کچھ مدد کر سکتے ہیں“ دونوں کے لہجے اور آواز کی انرجی مختلف ہوتی ہے۔

یہ ہماری زندگی کا پہلا خوف ناک عالمی بحران ہے‘ ہمیں اس میں وہ تمام تجربات ہوئے جن سے ہماری سینئر نسلیں محروم تھیں‘ مثلاً ہمیں پتا چلا محلات‘ رقبے‘ فیکٹریاں‘ گاڑیاں‘ ملازم اور بینک بیلنس یہ تمام چیزیں بے معنی ہیں اور زندگی وہ ہے جو ہم نے گزار لی‘ دولت وہ ہے جسے ہم نے انجوائے کر لیا‘ گاڑیاں وہ ہیں جو ہم نے چلا لیں اور کھانا اور پینا وہ ہے جو ہم نے پی لیا اور کھا لیا اور بس‘ آپ دائیں بائیں دیکھ لیں آپ کو امیر اور غریب دونوں بے بس اور بے یارومددگار نظر آئیں گے۔ آپ کو محسوس ہو گا ہم قبر جیسی زندگی گزار رہے ہیں‘ ہمارے عزیز‘ رشتے دار اور بچے بچیاں ہمارے سامنے گھوم پھر رہے ہوتے ہیں لیکن ہم ان سے گلے نہیں مل سکتے۔

ہم کہیں آ سکتے ہیں اور نہ جاسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ہم سے ملنے آ سکتا ہے‘ محل ہیں‘ گاڑیاں ہیں یا بینک بیلنس ہیں‘ یہ سب بے کار ہیں لیکن بے کاری کے اس موسم میں بھی دوسروں کی خدمت کرنے والے لوگ خوش ہیں‘ یہ اس وقت بھی نیکیاں سمیٹ رہے ہیں اور خوشیاں بانٹ رہے ہیں لہٰذا میرا مشورہ ہے کرونا جب ختم ہو جائے اور ہم جب قرنطینہ سے باہر آ جائیں تو پھر دنیا فتح کرنا بند کر کے دل فتح کرنا شروع کریں‘ کیوں؟ کیوں کہ دلوں کو قرار بہرحال اسی سے ملتا ہے‘ کام یاب بہرحال مدرٹریسا جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں‘ امیر تیمور بے چارے قبر جیسی زندگی گزار کر قبر میں جا سوتے ہیں اور بس۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر