شاہد خاقان عباسی سے ملاقات ،ٹرمپ کامبینہ انکار،وزیرخارجہ نے کھری کھری سنادیں

اہم خبریں

نیویارک( آئی این پی ) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم سے ملاقات سے انکار نہیں کیا ، ایسی خبریں صرف افواہیں ہیں ، چوہدری نثار کے سینیٹ میں بیان سے متعلق سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ میری اتنی اوقات نہیں کہ میں چوہدری نثار کے سینیٹ میں بیان سے متعلق سوال کا جواب دوں ، امریکی حکام کو تفصیلی آگاہ کردیا ہے کہ پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہیں نہیں ہیں، ہم نے دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے ،وزیر اعظم کی امریکی نائب صدر سے ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی ۔ وہ بدھ کو نجی ٹی وی پرگرام میں گفتگو کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور امریکی نائب صدر کے درمیان ملاقات ہوئی ۔ جو کہ بہت اچھے ماحول میں ہوئی اور ملاقات میں کوئی بھی الزام تراشی نائب صدر کی طرف سے نہیں کی گئی ۔ وزیر اعظم نے امریکی صدر کو بتایا کہ ہم نے دہشتگردوں کے خلاف طویل جنگ لڑ کر ملک میں امن و امان قائم کیا ۔ امریکی نائب صدر سے کہا کہ بتایا جائے اربوں ڈالر پاکستان کو کہاں دیئے گئے ۔ ہمارا اس جنگ میں بہت زیادہ خرچہ ہوا مگر اس حساب سے پیسے ہمیں نہیں دیئے گئے ۔ امریکی نائب صدر نے کہ اکہ خط میں امن کے لئے ہمارے پارٹنر بنیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں امریکہ تعلق متوازن ہو ۔ امریکہ کو کہا گیا کہ پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہیں نہیں ہیں اور کہا کہ طالبان کے پاس افغانستان کا 40 فیصد علاقہ ہے تو انہیں کس اور جگہ پناہ گاہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ افغانستان کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہیں ۔ ہمارے خلاف جب کارروائی ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ان علاقوں میں رہتے ہیں جو ہمارے قبضے میں نہیں ہے ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے انہیں کہا کہ ہم بارڈر مینجمنٹ کرنا چاہتے ہیں اور افغان پناہ گزینوں کی مکمل طور پر واپسی کے بعد آپ کی شکایات مکمل طور پر دور ہو جائیں گی ۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم سے ملاقات سے انکار نہیں کیا ۔ ایسی خبریں صرف افواہیں ہیں ۔ امریکی نائب صدر نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو ہمارے لئے ناگوار ہوتی ۔ چوہدری نثار کے سینیٹ میں بیان سے متعلق سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ میری اتنی اوقات نہیں کہ میں ان کی بات کا جواب دوں ۔ مگر برکس اعلامیہ اور ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس کا اعلامیہ سو فیصدی ایک جیسا ہے ۔ اس اعلامیے میں پاکستان خودشامل تھا ۔ جن تنظیموں پر پابندی کا کہا گیا ہے ان کے متعلق ہمارا اور بین الاقوامی دنیا کا ایک ہی بیانیہ ہے ہم نے اپنے قوانین کے مطابق ان پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر