اعظم سواتی فارم ہاؤس تنازع،وہ6حقائق جن کی تحقیقات ضروری!حکومت کے سب سے دبنگ وزیر شہریار آفریدی کاپورے کیس میں دہرا معیار بھی سامنے آگیا

اہم خبریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اعظم سواتی فارم ہائوس واقعے نے سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھا دیےاور 6 حقائق ایسے ہیں کہ جن کی تحقیقات کی ضرورت ہےجن میں حکومتی زمین پر قبضہ کس نے کیا؟واقعہ کہاں ہوا اور وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی صرف اعظم سواتی کے فارم ہائوس گئے جبکہ باجوڑ کے غریب خاندان کے گھر نہیں گئے ۔سینیٹر اعظم سواتی نے 5 سے 6 کنال زمین پر باڑ لگائی ۔ وفاقی وزیر کاکہنا ہے کہ انہوں نے سی ڈی اے سے اضافی زمین مانگی تھی ۔ایس ایچ اوشہزاد ٹائون کے مطابق سواتی کے گارڈ اور ملازمین مسلح تھے اور

نیاز کے خاندان کے پاس آٹو میٹک ہتھیار نہیں تھےجبکہ اہلیہ مریم نے گارڈز پر ایک کلہاڑی سے حملہ کیاتھا جس کے نتیجے میں دو گارڈز شدید زخمی ہوئے تھے۔روزنامہ جنگ کے مطابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کے فارم ہائوس کا زیر بحث رہنے والا واقعہ جس میں ان کا غریب ہمسایہ بھی شامل ہے ،گزشتہ ہفتے ہونےوالے اس واقعے میں پولیس کی تحقیقات اوردونوں فریقین کے درمیان حکومتی ایکشن سے سنجیدہ نوعیت کے چھ سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔جمعے کو اسلام آباد پولیس نے ایک غریب گھرانے کے پانچ افراد کو سینیٹر اعظم سواتی کے فارم ہائوس کے قریب سے وفاقی وزیر کے بیٹے کی شکایت پر گرفتار کیا تھا۔ ان گرفتار افراد میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔1۔اصل میں حکومتی زمین پر قبضہ کس نے کیا ؟وفاقی وزیر اعظم سواتی نے اسلام آباد پولیس کو شکایت کی تھی کہ نیاز خان نے سی ڈی اے کی زمین پر قبضہ کیا ہے اس لیے اسے وہاں سے ہٹایا جانا چاہیے ۔لیکن گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خود باڑ لگانے اور چھ کنال سی ڈی اے زمین گھیر لینے کا اعتراف کیا ہے ،2۔پولیس نے کیوں پاور فل وزیر کے بیٹے کی ایف آئی آر درج کی لیکن بالکل ایسا ہی غریب خاندان کی جانب سے کہنے پر نہیں کیا گیا اور ان کی خواتین بھی زخمی ہوئی تھیں؟ عام طور پر پولیس دونوں فریقین کی جانب سے ایف آئی آر کا اندراج کرتی ہے اور اس کے بعد ہی معاملے کی تحقیقات کرتی ہے ،3۔اصل میں واقعہ ہوا کس جگہ تھا؟پولیس کے مطابق واقعہ نیاز خان کے گھر کے باہر ہوا تھا اگرچہ آزاد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اصل واقعہ باجوڑ کے متاثرہ خاندان کے گھر میں پیش آیا تھا۔تو پھر پولیس نے کیوں وزیر کے گارڈ کیخلاف غریب کے گھر میں غیر قانونی طور پر گھس جانے کا مقدمہ درج نہیں کیا ؟4۔سی ڈی اے قوانین کے مطابق فارم ہائوس مالک عقبی دروازہ نہیں رکھ سکتا ۔ کیوں اعظم سواتی نے غیر قانونی گیٹ رکھا جہاں سے گائے اندر گھس آئی اور واقعہ پیش آیا ۔5۔کیوں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اعظم سواتی کے گھر کا دورہ کیا لیکن غریب فیملی کے گھر حقائق جاننے کیلئے نہیں گئے ؟کیا وہ صرف امیر آدمی کیلئے وزیر تھے یا غریب آدمی بھی ان کی ذمہ داری تھا ؟6۔وزیر جو کہ اسلام آباد میں پولیس تھانوں کا دورہ کرتے ہیں اور قیدیوں کی حالت دیکھتے ہیں لیکن کیوں انہوں نے شہزاد ٹائون کے پولیس اسٹیشن کا دورہ نہیں کیا جہاں 12 سالہ بچے ضیاالدین کو رکھاگیا تھا ۔ ایس ایچ او شہزاد ٹائون ملک بشیر کاکہنا تھا کہ پولیس نے نیاز اور ان کے دو بیٹوں 20 سالہ احسن اللہ اور16 سالہ صلاح الدین کو جمعے کو گرفتار کیا تھا جبکہ ان کی اہلیہ مریم بی بی اور بیٹی زکریا بھی گرفتار ہوئیں ۔جبکہ ان کے ایف آئی آر میں نامزد چھوٹے بیٹے کو اتوار کو عثمان سواتی کی شکایت پر ہی گرفتار کیا گیا ۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اہلیہ اور بیٹی زخمی ہوئیں لیکن ضیاالدین کے اس دعوے کی تردید کی کہ پولیس نے ان کی ایف آئی آر درج نہیں کی ۔ انہوں نے اعتراف کیا خاندان کا سربراہ موقع پر موجود نہیں تھا لیکن پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ،انہوں نے دعویٰ کیا کہ جھگڑا باجوڑ کے خاندان کے گھر کے باہر ہوا ۔ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ سینیٹر سواتی کے گارڈ اور ملازمین مسلح تھے اور نیاز کے خاندان کے پاس آٹو میٹک ہتھیار نہیں تھے ،دوسری جانب انہوں نے کہا کہ مریم نے گارڈز پر ایک کلہاڑی سے حملہ کیاتھا جس کے نتیجے میں دو گارڈز شدید زخمی ہوئے تھے ۔ جب وفاقی وزیر اعظم سواتی سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ نیاز فیملی کے اراکین نے گارڈز کو دھمکایا اور ان کے فارم ہائوس پر حملہ کیا یہ دعویٰ پولیس کی جانب سے برعکس تھا۔سواتی نے کہا کہ انہو ں نے سی ڈی اے کو 5 سے 6 کنال اضافی زمین کیلئے دراخواست دی تھی تاکہ ان کے فارم ہائوس کی سیکیورٹی رہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ ان کے بلائے جانے کے بعد ہی آئے تھے ۔ وزارت داخلہ کے سینئر حکام سے ان کے موقف کیلئے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کال کا جواب نہیں دیا ۔اس کے بعد انہیں واٹس ایپ کے ذریعے سوالات بھی بھیجے گئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ڈیجیٹل طور پر بلیو ٹک سے معلوم ہوتا ہے کہ بھیجے گئے پیغامات پڑھ لیےگئے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر