مولانا سمیع الحق کو قتل کرنیوالےلوگ پہلے بھی ملنے آتے رہے، قاتلوں نے پہلے پانی پیا پھر۔۔۔قتل کے وقت کیا ہوا تھا؟ امریکہ اور افغان حکومت مولانا سے کیوں ناخوش تھے؟جانئے

اہم خبریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کے سلسلے میں تفتیشی ٹیم کو اہم شواہد مل گئے، قاتلوں کا گھر میں آنا جانا اور مولانا سے ملنا جلنا تھا، مقامی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نجی ہائوسنگ سوسائٹی میں واقع مولانا سمیع الحق کو انکے گھر میں انتہائی بیدردی اور بیہمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا ہے اور پولیس قاتلوں کا سراغ لگانے کیلئے سرگرم ہے۔ مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس کو جے یو آئی(س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے اور

پولیس کو اہم شواہد مل گئے ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ قاتل گھر کی دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا ۔ ملازمین کے بیان کے مطابق جب ہم گھر سے گئے تو دروازہ بند کر کے گئے تھے۔ 6بجے کے قریب جب گھر پہنچے تو مولانا خون میں لت پت پڑے تھے۔ انہیں فوری طورپر قریبی ہسپتال لیکر گئے جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق کو افغان حکومت کی جانب سے خطرات لاحق تھے۔ مولانا کو تیز دھار االہ سے قتل کیا گیا۔ قاتل قریبی لگتے تھے۔ ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق پر حملہ کرنیوالے قاتل پہلے بھی ان سے ملنے آتے رہے جس کے باعث ان کا ملازم اور گن مین پرسکون ہو کر باہر نکل گئے تھے۔ مولانا سمیع الحق حملہ کے وقت گھر میں اکیلے تھے ۔ حملہ آوروں نے پہلے پانی بھی پیا۔ جائے وقوعہ پر خالی گلاس موجود پائے گئے۔ حملہ آوروں نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی جو موٹرسائیکل پر سوار ان کے گھر آئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جے یو آئی (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو طے شدہ پروگرام کے مطابق قتل کیا گیا ہے۔ ایڈیٹر روزنامہ خبریں امتنان شاہد کی مولانا سمیع الحق کے قتل کے حوالے سے ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ مولانا سمیع الحق افغان طالبان پر اپنا گہرا اثرورسوخ رکھتے تھے اورافغانستان میں مصالحتی اور امن عمل کیلئے حالیہ کوششوں کے سلسلے میں پاکستانی جیل میں قید طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر کی رہائی چند روز قبل عمل میں لائی گئی تھی جس کا محرک بھی مولانا سمیع الحق تھے ۔ مولانا سمیع الحق کی سفارش مولانا سمیع الحق نے ہی کی تھی۔ رپورٹ میں مولانا سمیع الحق کے قتل کو پاکستان کے خلاف گہری سازش قرار دیتے ہوئے امتنان شاہد کا کہنا تھا کہ ایک طرف وہ طبقہ جو پاکستان بھر میں آسیہ بی بی کی رہائی کیس میں گزشتہ چند دنوں سے پاکستان میں سڑکوں پر بیٹھا ہے اور دوسری طرف پاکستان ایک طالبان کمانڈر ملا عبدالغنی برادر کو چھوڑتا ہے اور اس کے ساتھ ہی طالبان کے روح رواںیا ان کے استاد کو قتل کر دیا جاتا ہے اور سرحد کے اس پار پچھلے ایک ماہ میں افغانستان میں کم و بیش آٹھ سے نو بڑے دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں اور امریکہ ملا عبدالغنی برادر کی رہائی پر ناخوش بھی نظر آتا ہے۔ ان کڑیوں کو اگر آپس میں ملایا جائے تو یہ صرف اور صرف پاکستان میں بے چینی مزید بڑھانے کی کوشش ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر