آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے فوج کو کرپشن سے پاک بنانے کیلئے فوج کے تمام اہلکاروں پر بڑی پابندی عائد کر دی، زبردست اقدام

اہم خبریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ٹیکس ریٹرنز کو فوج کے لیے لازمی قرار دے دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ آرمی صرف تنخواہوں کی مد میں ماہانہ تقریباً 398 ملین ٹیکس جمع کرا رہی ہے اور سالانہ 4.8 بلین جمع کرا رہی ہے، یہ بھی کہا گیا کہ آرمی اور اس کی فلاح و بہبود کی تنظیمیں مختلف ٹرانزیکشن پر ٹیکس کاٹنے کا اختیار رکھتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آرمی کے زیرانتظام چلنے والے شادی ہالوں سے اس مالی سال کے جولائی ستمبر میں ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس آفس راولپنڈی نے 27.8 ملین روپے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کیا گیا ہے، یہ وصولی ہالوں میں ہونے والے فنکشنز اور اجتماعات کی مد میں جمع کرائی گئی ہے جو کہ کل رقم کا 15 فیصد بنتا ہے۔فیڈر ل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر حکام) نے کہاہے کہ پاک فوج سب سے متحرک ٹیکس جمع کرانے والا ادارہ ہے۔ایف بی آر کے ممبر ٹیکس سہولیات ڈاکٹر حامد عتیق نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بری افواج سے ماہانہ 39 کروڑ 30 لاکھ روپے کا ٹیکس اکٹھا ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کا ٹیکس ریٹرن مقررہ تاریخ سے ایک ماہ پہلے آیا۔حامد عتیق نے کہا کہ پاک فوج ٹیکس جمع کرانے والا سب سے متحرک ادارہ ہے، آرمی کا شادی ہال ٹوپی رکھ سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرا رہا ہے۔ترجمان ایف بی آر ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ فوج میں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا رجحان بہت زیادہ ہے، آرمی میں پروموشن میں بھی ٹیکس فائلنگ کا کردار ہے۔علاوہ ازیں ٹوبیکو ٹیکس میں کمی پر سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس سیینٹر کلثوم پروین کی زیر صدارت ہوا۔سینیٹر کلثوم پروین کا اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمباکو کی ٹیکس وصولیوں کا بحران ہے، تمباکو کمپنیوں کے لوگ ایف بی آر میں کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو سیکٹر میں اپنے لوگوں کو نوازنے سے ٹیکس ریونیو میں کمی ہوئی۔کمیٹی نے ایف بی آر میں کام کرنے والے متعلقہ افراد کے نام طلب کر لیے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام میں بہتری کے لیے ریفارمز کر رہا ہے۔انہوں نے سینیٹ کمیٹی کو یقین دلایا کہ ایف بی آر افسران تمباکو سیکٹر کے ٹیکس ریونیو میں کمی کا باعث ہوئے تو کارروائی ہو گی۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ مالی سال 17-2016 میں ٹیکس وصولی میں کمی ہوئی جب کہ مالی سال 17-2018 میں ٹیکس ریونیو بڑھا۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ14-2013 میں 88 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا ہوا تھا جب کہ 15-2014 میں ٹوبیکو پر 103 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں کمی کے لیے آڈٹ کرایا جائے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر