مولانا سمیع الحق قتل کیس کا چالان عدالت میں پیش،13 مشکوک افراد شامل تفتیش ،کسے ملزم ٹھہرایا گیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

اہم خبریں

راولپنڈی(اے این این) پولیس نے مولانا سمیع الحق قتل کیس کا عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا جس میں واقعے کو اندھا قتل قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کے روبرو ایس ایچ او تھانہ ائیرپورٹ نے مولانا سمیع الحق قتل کیس کا عبوری چالان پیش کردیا،قتل کی واردات کے 1 ماہ 2 دن بعد پیش کیا گیا عبوری چالان 3 صفحات پر مشتمل ہے۔ چالان میں مقدمہ اندھا قتل قرار دیتے ہوئے کسی ملزم کو نامزد نہیں کیا گیا۔چالان میں کہا گیا ہے کہدوران تفتیش 13 مشکوک افراد شامل تفتیش کئے گئے،

مشکوک افراد کے ڈی این اے اور پولی گرافک ٹیسٹ کرائے گئے لیکن ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملا۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور اس سلسلے میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ مولانا سمیع الحق کا چہرا، ماتھا، کاندھے، پیٹ اور گال شدید زخمی تھے، پوسٹ مارٹم کا لازمی قانونی تقاضا جبری پورا نہیں کرنے دیا گیا، بیٹے کا موقف تھا کہ پوسٹ مارٹم شرعی حرام ہے، اس لئے میت کا پوسٹ مارٹم نہیں کرا ئیں گے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر