آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے سے پہلے ہی جے یو آئی کا ایسا اعلان کہ حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا، اب کیا ہوگا؟وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ شش و پنج میں مبتلا

اہم خبریں

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے جنرل سیکرٹری عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ دھرنا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہم نے کرنا ہے،جلسے کے بعد اپنا آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ایک انٹرویومیں جنرل سیکرٹری جے یو آئی ف عبدالغفور حیدری نے کہا کہ رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے۔جس میں طے ہوا کہ جلسہ ریڈ زون میں داخل نہ ہو اور جلسہ ایک گراؤنڈ میں ہونے طے پایا ہے۔انہوں نے کہا کہ جلسہ اسلام آباد میں ہی کشمیر ہائی وے پر ہو گا تاہم جلسہ کا وقت 31 اکتوبر

کا دیا ہے تاہم اگر آزادی مارچ کے شرکا تاخیر کا شکار ہوئے تو جلسہ اگلے روز بھی جا سکتا ہے۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ آزادی مارچ اصل میں عمران خان کے استعفیٰ کیلئے ہی ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل اسلام آباد پہنچنے کے بعد ہی طے کیا جائے گا جس میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے بھی مشاورت ہو گی۔ دھرنے کے حوالے سے حکومت سے کوئی معاملات طے نہیں ہوئے ہیں اور دھرنا دینے کا فیصلہ تو ہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے اور حزب اختلاف کے رہنما جلسے میں شریک ہوں گے، ہمیں امید ہے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی جلسے میں شریک ہوں گے اور اگر شریک نہیں ہوئے تو وہ قوم کو جواب دہ ہوں گے۔جے یو آئی ف کے رہنما نے کہا کہ آزادی مارچ کو اسلام آباد آنے کی اجازت دینا حکومت کا احسان نہیں ہے۔ عدالت نے ہر پاکستانی شہری کو اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کی اجازت دی ہے جس کی وجہ سے حکومت مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر