ٹرین پر بیٹھنے سے پہلے تمام سلنڈروں سے گیس نکا ل دی گئی تھی ،پھر آگ کیسے لگی؟بڑا انکشاف سامنے آگیا، جاں بحق افراد کی تعداد افسوسناک حد تک بڑھ گئی

اہم خبریں

رحیم یار خان (این این آئی)کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب آتشزدگی کے باعث 73 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے،حادثے کے بعد بوگیوں سے کئی افراد کی جلی ہوئی لاشیں نکال لی گئیں جن میں سے کئی لاشوں کے ٹکڑے ملے ہیں، فوری طورپر شناخت نہ ہوسکی۔زخمیوں میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے ، لاشوں اورزخمیوں کو فوری طورپر مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر کے ایمر جنسی نافذ کر دی گئی جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہاہے

کہ بوگی میں ایک چولہا اور دو سلنڈر موجود تھے ایک کے پھٹنے سے باقی نے بھی تباہی مچادی، مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے ،باقی چھوٹے اسٹیشنز پر مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے کا کوئی نظام نہیں،غلطی ریلوے کی نہیں ،مسافروں کی ہے، سلنڈر کیسے پہنچے ،تحقیقات ہونگی ؟مسافروں اور ٹرین کی انشورینس ہے جس سے مالی نقصان کی تلافی ہوسکے گی۔ تفصیلات کے مطابق بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح چھ بجکر پندرہ منٹ پر ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیاجس کے نتیجے میں 73افراد جاں بحق اور درجنوں خمی ہوگئے ۔

ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور خان اور ریسکیو ہیڈ بہاولپور باقر حسین نے حادثے میں 73 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ۔ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں سے 18 کا تعلق سندھ سے ہے،تیز گام ایکسپریس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں سے 18 افراد کا تعلق میرپور خاص سے ہے۔جبکہ ٹنڈوجام اور ٹندولہیار کے شہری بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔میرپورخاص مدینہ مسجدسٹیلائٹ ٹاون کیامام قاری مقبول بھی حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ کی شدت بہت زیادہ تھی جس نے تیزی سے دوسری بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔حادثے کے فوری بعد زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے قریبی شیخ زید ہسپتال اور بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال اور ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا

جبکہ ضلع بھر کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ریلوے حکام کے مطابق آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تاہم ایک عینی شاہدنے بتایاکہ ٹرین پر بیٹھنے سے پہلے تمام سلنڈروں سے گیس نکا ل دی گئی تھی اور پنکھے کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی اور یہ آگ اے سی سلیپر میں لگی ۔حکام کے مطابق متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافر رائیونڈ اجتماع میں شرکت کیلئے جارہے تھے اور آتشزدگی کی لپیٹ میں آنے والی دو بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی گئی تھی۔متاثرہ بوگیوں میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے جن کے پاس کھانا بنانے کیلئے سلنڈر بھی موجود تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد ہونے والے دھماکے کی آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے۔حکام کے مطابق چلتی ٹرین سے ریلوے ٹریک کے قریب پتھروں پر کودنے کے باعث زیادہ مسافر زخمی ہوئے جن میں 3 سے 4 خواتین بھی شامل ہیں۔حادثے کے بعد سب سے پہلے مقامی افراد نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں۔عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد بوگیوں سے کئی افراد کی جلی ہوئی لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے کئی لاشوں کے ٹکڑے ملے ہیں۔ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے بتایا ہے کہ زیادہ تر مرنے والوں کی لاشیں جھلسنے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہیں،

ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے تصدیق کی کہ 13 افراد ٹرین سے چھلانگ لگانے اور مختلف وجوہات کی بنا پر ہلاکتیں ہوئیں ۔شیخ رشیدنے بتایا کہ بوگی میں ایک چولہا اور دو سلنڈر موجود تھے ایک کے پھٹنے سے باقی نے بھی تباہی مچادی۔وزیر ریلوے نے کہا کہ مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے ،باقی چھوٹے اسٹیشنز پر مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے کا کوئی نظام نہیں۔انہوں نے کہا ریلوے میں یہ روایت موجود ہے کہ تبلیغی جماعت کے لیے امیر کے نام پر بوگی بک کرلی جاتی تھی جبکہ ہر مسافر کی تفصیلات نہیں لی جاتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ٹرین کی اکانومی کلاس میں موجود سلنڈر پھٹنے سے بوگیوں میں آگ لگی

جس پر تبلیغی جماعت کے افراد ناشتہ بنارہے تھے اس کے ساتھ انہوں نے دو گھنٹے میں ٹریک بحال کرنے کا بھی دعویٰ کیا ۔وزیر ریلوے نے کہا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں بلکہ مسافروں کی غلطی ہے۔انہوںنے کہاکہ مسافر ٹرین میں سلنڈر کیسے لے کر پہنچے اس کی تحقیقات کی جائیگی، مسافر چولہے اپنے تھیلے میں رکھ دیتے ہیں اور قانون سے نہیں ڈرتے، کراچی سے مسافر سلنڈر لے کر چڑھے تو نوٹس لیں گے۔شیخ رشید نے بتایا کہ سروس کی معطلی کے بعد پاکستان ریلوے کی 134 ٹرینز اور ان کے اپ سٹریم اور ڈاؤن سٹریم ٹریکس کو بحال کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب حادثے کے سبب دیگر ٹرینوں کو ان کے قریبی اسٹیشنز پر ہی روک دیا گیا جبکہ اسی ٹریک پر آنے والی زکریا ایکسپریس کو لیاقت پور سے قبل خان پور اسٹیشن پر روکا گیا۔دوسری جانب ریلوے حکام کے مطابق ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی قطعاً اجازت نہیں اور تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائیگا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلنڈر لے کر سوار ہوئے۔اس ضمن میں ڈویژنل کمرشل آفیسر جنید اسلم نے بتایا کہ متاثر ہونے والی 2 بوگیاں اکانومی جبکہ ایک بزنس کوچ تھی اور ایک بوگی امیر حسین جبکہ دوسری جماعت کے نام پر بک کروائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کیلئے بوگیاں کسی ایک شخص کے نام پر بوگیاں بک کروالی جاتی ہیں اور باقی تفصیلات ان کے امیر کے پاس ہوتی ہیں ۔

جس کے باعث تمام مسافروں کی شناخت فراہم نہیں کی جاسکتی البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ ایک بوگی میں 78 جبکہ دوسری بوگی میں 77 افراد کے لیے بکنگ کروائی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ بزنس کلاس بوگی میں 54 افراد کی بکنگ کروائی گئی تھی جس میں مختلف افراد سوار تھے۔ریلوے حکام نے بتایا کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3،4،5 میں لگی، تینوں متاثرہ بوگیوں کے زیادہ تر ٹکٹس ایک ہی مسافر کے نام پر بک کرائے گئے تھے جس وجہ سے انفرادی نام نکالنے میں مشکل ہوئی ۔حادثے کے بارے چیئرمین ریلویز سکندر سلطان نے کہا کہ ٹرین میں سلنڈر کا مٹی کا تیل لے جانے کی اجازت نہیں اور اس کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا کہ ٹرین میں مسافر سلنڈر لے کر کیسے سوار ہوئے؟وہ اس بات کا تعین کریں گے کہ سلنڈر کس طرح ٹرین میں لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔رحیم یار خان میں تیز گام ایکسپریس میں خوفناک آتشزدگی پر پاک فوج کی امدادی ٹیمز بھی سول انتظامیہ کی معاونت کررہی ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جائے حادثہ پر ریسکیو اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستے، ڈاکٹرز اور طبی عملہ پہنچ گیا ۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شدید زخمیوں کومنتقل کرنے کیلئے ملتان سے آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیا گیا دوسری جانب سانحہ تیز گام کے حوالے سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے علیحدہ علیحدہ بیان جاری کرتے ہوئے تیزگام ایکسپریس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر سخت رنج و غم کا اظہار کیا۔انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے عرصے میں ٹرینوں کے تصادم اور پٹڑی سے اترنے کے ساتھ مختلف قسم کے حادثات میں واضح اضافہ سامنے آیا ۔اس سے قبل 11 جولائی کو صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئیں جس کی نتیجے میں 23 افراد جاں بحق اور 85زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل 20 جون 2019 کو حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے۔17 مئی کو سندھ کے ضلع نوشہرہ فیروز کے علاقے پڈعیدن کے قریب لاہور سے کراچی آنے والی مال گاڑی کے حادثے کے باعث کراچی سے ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوگئی۔یکم اپریل کو رحیم یار خان میں مال بردار ریل گاڑی پی کے اے-34 کی 13 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھی جس سے محکمہ ریلوے کو نہ صرف لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ۔بلکہ ملک بھر میں مسافر ریلوں کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔24 دسمبر 2018 کو فیصل آباد میں شالیمار ایکسپریس کو پیچھے سے آنے والی ملت ایکسپریس نے ٹکر ماردی تھی، حادثے میں ایک مسافر جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے تھے۔27 ستمبر 2018 کو دادو میں سن کے قریب ٹرین کی گیارہ بوگیاں پٹڑی سے اترگئی تھیں جس کے نتیجے میں 5 مسافر زخمی ہوگئے تھے۔16 جون 2018 کو میانوالی میں خوشحال خان ایکسپریس کی سات بوگیاں پٹڑی سے اترگئی تھیں، حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت 20 مسافر زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر