’’حکومت کہیں نہیں جارہی ‘‘ وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو مزید کتنے سال صبر کرنے کا کہہ دیا؟

اہم خبریں

اسلام آباد (آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ کہیں نہیں جارہے ،اپوزیشن مزید تین سال صبر کرے ،ان کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی اس وقت تمام ریاسی ادارے کورونا وباء سے نمٹنے کیلئے ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہے ہیں ،معاشی صورت حال بہتر ہوتے ہی اراکین کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وہ سپیکر قومی اسمبلی اور مختلف اراکین اسمبلی سے پارلیمنٹ ہائوس میں گفتگو کررہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں واقع وزیر اعظم کے چیمبر میں وزیر اعظم عمران

خان سے ملاقات کی ،ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال اور پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیر اعظم نے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کی کارروائی بہتر اور خوشگوار انداز میں چلانے پر سپیکر قومی اسمبلی کی کوششوں کو سراہا جبکہ سپیکر نے جاری بجٹ اجلاس کے حوالے سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا ۔اس موقع پر عوامی مفاد کی قانون سازی کا عمل تیز کرنے سے متعلق پر مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بجٹ مشکل حالات میں غریب عوام کو ریلیف دے گا اور اپوزیشن کا بجٹ کو مسترد کرنا سیاسی سٹنٹ کے علاوہ کچھ نہیں ،بعد ازاں اراکین قومی اسمبلی ریاض فتیانہ،ملک انور تاج و دیگر نے بھی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اراکین نے اپنے حلقوں کے مسائل سے متعلق وزیر اعظم کوآگاہ کیا اور ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معاشی صورت حال میں بہتری آتے ہی اراکین کو ترقیاتی فنڈز فراہم کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہیں نہیں جارہی اپنی مدت پوری کرے گی اور اپوزیشن کا اس حوالے سے پراپیگنڈا کامیاب نہیں ہوگا اس وقت حکومت کا تمام تر فوکس کورونا کی وباء سے نمٹنے کی طرف ہے اور تمام تر وسائل اس حوالے سے استعمال میں لائے جارہے ہیں ،انہوں نے اراکین قومی اسمبلی پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں عوام پر زور دیں کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں کیونکہ احتیاط سے ہی اس وباء کو شکست دی جا سکتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے ہم ہنگی کے ساتھ کام کررہے ہیں اور جو انہیں گھر بھیجنے کی باتیں کررہے ہیں وہ آئندہ تین سال بھی صبر کریں کیونکہ سیاسی مخالفین کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوگی ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر