عیدالاضحی3 دن ہوتی ہے عمران خان پیر کو بھی چھٹی کا اعلان کریں،مفتی منیب نے وزیر اعظم سے مطالبہ کردیا،فواد چوہدری کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا

اہم خبریں

کراچی(این این آئی ،مانیٹرنگ ڈیسک) مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب نے ایک بار پھر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم 25 سال سے رویت ہلال کو چلارہے ہیں، فواد چوہدری کہاں سے سائنس دان آگئے؟انہوں نے کہا کہ عید تین دن ہوتی ہے اس لیے عمران خان پیر کو بھی چھٹی کا اعلان کریں۔ بدھ کو ممتاز علمائے اہلسنت ودینی تنظیمات کے ہمراہ دارالعلوم امجدیہ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ ہم ماضیِ قریب میں دوتین عشروں تک فرقہ ورانہ شدت

پسندی اور تصادم کے مظاہر دیکھتے آئے ہیں ، دوسرے ممالک کی پراکسی جنگیں ہماری سرزمین پر لڑی جاتی رہی ہیں، اس صورتِ حال کو بڑی مشکل سے کنٹرول کیا گیا ۔ چند سال سے ملک میں اس حوالے سے فضا پرسکون تھی ، پاکستان میں ذمہ دار علما اورعوام کی سطح پر کوئی سنی شیعہ تصادم نہیں ہے، سب اپنے اپنے دائرہء کار میں کام کر رہے ہیں ، لیکن گزشتہ چند دنوں سے صورتِ حال انتہائی حساس اور خطرناک ہوگئی ہے ۔ مسالک پہلے سے موجود چلے آرہے ہیں ، ان کے اپنے اپنے عقائد اورنظریات ہیں ،مگردینی لحاظ سے حساس اور جذباتی مسائل کو نہ کبھی عوامی سطح پر زیرِ بحث لایا گیا اور نہ ان باتوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا ۔لیکن گزشتہ چند دنوں سے پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے ، اہلسنت وجماعت کے مسلمہ معتقدات کی صریح توہین کی گئی ہے اور انتہائی نازیبا باتیں کہی گئی ہیں ، یہ انتہائی تکلیف دہ صورتِ حال ہے ، ہم علما اور عوامِ اہلسنت سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔ محرم الحرام بھی آنے والا ہے ، ملک کو امن وسلامتی کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر بعض حضرات کو کسی قانون کے حوالے سے کوئی تحفظات یا شکایات تھیں تومشتعل لب ولہجے میں ان باتوں کوعوام میں لانے کے بجائے ان مراکز سے رجوع کرتے جہاں قانون سازی ہورہی ہے ،وہاں اپناموقف بیان کرتے ، لیکن ان چیزوں کو پبلک میںلانا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ ہم اہلِ تشیع کے ذمے دار علما علامہ قاضی نیاز حسین نقوی، علامہ ساجد نقوی اور مجلس وحدت المسلمین کے قائدین کو متوجہ اور متنبہ کرتے ہیں کہ اپنے حضرات کو کنٹرول کریں ۔ فہمائش کریں اور خطرات سے آگاہ کریں ۔ اہلسنت وجماعت پاکستان کی غالب اکثریت ہیں اور اکثریت کو مشتعل کرناآگ سے کھیلنے کے مترادف ہے اور ملکی و ملی اعتبار سے انتہائی تباہ کن ہے۔ ہم ان باتوں کوریکارڈ پر لانے کے لیے یہاں مِن وعن نقل کرسکتے تھے، لیکن ایسا نہیں کر رہے ، کیونکہ یہ انتہائی اشتعال کا باعث بنیں گی اور پھر ان کا کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ ہمیں حیرت ہے کہ محرم الحرام سے چند ہفتے پہلے ایسا کیوں کیا گیا ہے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ بعض داخلی اور خارجی قوتیں اس کے پیچھے کارفرما ہیں ،اولین فرصت میں اس آگ کو بجھایا جائے اوران مفاسد کا سدِباب کیا جائے۔ ہم یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ دینی اعتبار سے حساس معاملات کو ماتحت عدالتوں کے رحم وکرم پر نہ چھوڑا جائے، ان میں اِن مسائل کو حل کرنے اور طے کرنے کی مطلوبہ صلاحیت ہی نہیں ہے ، ان معاملات کو براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ شریعت اپیلٹ بنچ یا اسلامی نظریاتی کونسل کو ریفر کیا جائے اور وہاں تمام مکاتبِ فکر کے مستند ، ثقہ اور معتمد علما کو فائز کیا جائے تاکہ یہ چیزیں عوام میں نہ آئیں اور ایسے حساس معاملات کی سماعت عدالتیں بنددروازے کے پیچھے کریں۔ اجلاس میں مفتی محمد الیاس رضوی ، مفتی محمد رفیق الحسنی ، علامہ محمد رضوان نقشبندی ،صاحبزادہ ریحان امجد نعمانی ، علامہ سید مظفر شاہ قادری، مفتی محمد عابد مبارک اور ثروت اعجاز قادری نے شرکت کی ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر