سسپنس ختم،اہم سیاسی جماعت میں شمولیت،عائشہ گلالئی نے بالاخر واضح اعلان کردیا‎

پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر الزامات لگانے والی عائشہ گلالئی نے ایک بار پھر کپتان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کو چھوڑنے والی قومی اسمبلی کی رکن عائشہ گلالئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی سوچ کا اندازہ ہو چکا ہے اور سوشل میڈیا پر میرے خلاف جو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس میں عمران خان کا ہاتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں کرپٹ ورکر ہیں اس لئے وہ ملک سے کرپشن کو ختم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کسی کی زرخرید پارٹی نہیں بلکہ یہ سب کی پارٹی ہے۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ آئندہ کچھ روز میں بہت اہم پریس کانفرنس کرنے والی ہوں جس میں چند ضروری اعلانات کروں گی۔ واضح رہے کہ عائشہ گلالئی تحریک انصاف سے قبل پیپلز پارٹی کی رکن تھیں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں خواتین کی عزت ہے جبکہ پی ٹی آئی میں خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں۔ انہوں نے عمران خان کے بارے میں کہا کہ وہ انگلش کلچر پاکستان میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عائشہ گلا لئی نے عمران خان پر الزام عائد کیا کہ ان کی بری عادتیں ان کے اختیار میں نہیں اس لئے وہ فون پر غلط پیغامات بھیجتے ہیں۔ عائشہ گلالئی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے پی کے کی حیثیت ڈان جیسی ہے۔ دریں اثنا گزشتہ روزپاکستان تحریک انصاف کی منحرف رکن قومی سمبلی عائشہ گلہ لئی کے وکیل زولفقار بھٹہ نے اپنی موکلہ کی وکالت سے دستبردار ہو کر وکالت نامہ واپس لے لیا ۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی منحرف رکن قومی سمبلی عائشہ گلہ لئی کے وکیل زولفقار بھٹہ اپنی موکلہ وکالت سے دستبردار ہو گئے ہیں۔زولفقار بھٹہ نے الیکشن کمیشن میں جمع کرایا گیا وکالت نامہ بھی واپس لے لیا۔، وکیل زولفقار بھٹہ کے مطابق وکالت نامہ ذاتی وجوہات کی بنیاد پر واپس لیایاد رہے کہ اس سے پہلے قومی احتساب بیورو (نیب)پشاور نے تحریک انصاف کی منحرف رکن عائشہ گلالئی کے خلاف کرپشن کی درخواست خارج کردی تھی۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے رہنما کلیم اللہ نے عاشہ گلالئی کے خلاف نیب پشاور میں درخواست دائر کی تھی جس میں ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ نیب نے عائشہ گلالئی کے خلاف ابتدائی تحقیقات کے بعد پی ٹی آئی رہنما کی درخواست خارج کردی اور کہا ہے کہ عائشہ گلالئی پر کرپشن کا ثبوت نہیں ہے لہذا ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما نے کہا ہیکہ نیب نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس کے بعد اب عائشہ گلالئی کے خلاف احتساب کمیشن میں درخواست دائر کرنے پر غور کررہے ہیں اور وہاں سے تعاون کی امید ہے۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے الزمات کے بعد عائشہ گلالئی کو خط لکھا تھا جس میں انہیں پارٹی کا منحرف رکن قرار دیا گیا ۔

دریں اثنا تحریک انصاف کی منحرف رہنما عائشہ گلالئی نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کا تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی منحرف رہنما عائشہ گلالئی نے ویڈیو پیغام میں کراچی کی صورتحال پر عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے بچے پانی میں کرنٹ کی وجہ سے مر رہے ہیں، آپ جیسی عوام ان کو چاہیے، آپ جیسی بھیڑ بکریاں ان کو چاہئیں،

کراچی کے بارے میں کہا کہ یہاں کئی سیاسی جماعتیں حکومت میں آئیں مگر کسی نے نکاسی آب کے لیے کوئی کامنہیں کیا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں کوئی جلسہ ہوتا ہے لوگ ناچتے ہوئے جاتے ہیں اور گاتے ہوئے آتے ہیں۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ کراچی کی صورتحال دیکھ کر مجھے افسوس ہوتا ہے اور اس سے زیادہ افسوس اس ملک کی عوام پر ہوتا ہے جن کے گھر تباہ ہو جائیں اور سڑکیں ٹوٹ بھی جائیں تب بھی یہ لوگ جلسوں میں جا کر ناچیں گے اور کبھی جیالے بن جائیں گے تو کبھی شیر، کبھی شیرنیاں بنیں گے تو کبھی کھلاڑی۔

انہوں نے اس پیغام میں جہاں عوام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا وہاں سیاسی جماعتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ خیبر پختونخوا جسے تحریک انصاف نیا خیبر پختونخوا کہتی ہے، میں لوگ ڈینگی سے مر رہے ہیں مگر حکمرانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔3عائشہ گلالئی نے کہا کہ جب تک آپ کی سڑکیں ٹوٹیں گی نہیں اور آپ کے گھر تباہ نہیں ہوں گے تو انہیں نئے منصوبوں کے ٹھیکے کیسے ملیں گے؟

عائشہ گلالئی نے اپنے اس ویڈیو پیغام میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بلین ٹری منصوبے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ درخت لگانے کا دعویٰ تو کیا جا رہا ہے لیکن یہ بتایا جائے کہ آخر درخت لگائے کہاں گئے ہیں؟ عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام کے ساتھ ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ عوام آواز نہیں اُٹھاتی اور جب تک آپ آواز نہیں اٹھائیں گے آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا رہے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر