’’گھر ٹھیک کرنے کی بات‘‘اداروں میں تصادم،حکومت اور فوج میں کیا چل رہاہے؟ اہم سیاسی رہنما کے تشویشناک انکشافات

پاکستان

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے ایک بار پھر چوہدری نثار کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے گھر ٹھیک کرنے کی بات کر کے ٹرمپ کے بیان کی تائید کی ہے ٗ اگربات سچ بھی ہے تو اس سے ملک کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوگا ٗانہوں نے کہا کہ کہیں نہ کہیں کچھ تو غلط ہے، اداروں میں تصادم ملک کے لئے کسی طور مناسب نہیں، صرف اداروں میں نہیں حکومت کے اندر بھی تضاد ہے ٗ

اپوزیشن جماعتوں سے چیئرمین نیب کے لیے نام مانگے ہیں ٗوزیراعظم سے بھی کہا ہے چیئر مین نیب کیلئے اپنے ناموں سے آگاہ کریں ٗ قومی اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے، مارچ میں سینیٹ الیکشن ہیں، ن لیگ کمزور پوزیشن پر نہیں جائے گی ٗ جمہوریت کو چھیڑا گیا تو یہ پاکستان سے سب سے بڑی دشمنی ہوگی۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے وزراء نے گھر ٹھیک کرنے کی صحیح بات غلط وقت پر کی ہے ٗصرف اداروں میں نہیں حکومت کے اندر بھی بہت تضاد ہے،حکمرانوں کی پالیسیاں مکمل ناکام ہیں کیونکہ وہ پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے معاملے پر اپوزیشن سے مشاوت جاری ہے، اس حوالے سے حکومت سے بھی ایک ملاقات ہوئی ہے، اپوزیشن جماعتوں سے چیئرمین نیب کے لیے نام مانگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے بھی کہا ہے کہ وہ نیب کے چیئرمین کے لیے اپنے ناموں سے آگاہ کریں، ہم چاہتے ہیں ایسا بندہ ہو جو سب کو قابل قبول ہو، چیئرمین نیب وہ لائیں گے جس کا ماضی بے داغ اور غیر سیاسی ہو۔خورشید شاہ نے کہا کہ ہر جماعت کو جمہوری حق ہے کہ وہ اپنا اپوزیشن لیڈر لے آئے، لاہور کے حلقے این اے 120میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد سے پیپلزپارٹی ہمیشہ کمزور رہی،وہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی دونوں جماعتوں کے ووٹ کم ہوئے ٗہمارے ووٹرز نے نواز شریف کی مخالفت میں دوسروں کو ووٹ دیا۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب میں پیپلزپارٹی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اسمبلی ٹوٹے گی تو پھر ٹوٹتی چلی جائیگی ٗ قومی اسمبلی کو اپنی مدت پوری کرنی چاہئے، مارچ میں سینیٹ الیکشن ہیں، ن لیگ کمزور پوزیشن پر نہیں جائے گی۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ عائشہ گلالئی کے معاملے پر طے ہوا ہے کہ یہ پارٹی کا معاملہ ہے، پارٹی اسے دیکھے، گلالئی کے معاملے کو پارلیمانی کمیٹی میں زیر بحث لانے کا حامی تھا، دیگر جماعتوں نے گلالئی کے معاملے کو پارلیمانی کمیٹی میں زیر بحث لانے کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم اور وزیر خارجہ گھر کو درست کرنے کا کہہ رہے ہیں تو یقیناکچھ ہے، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے بیان سے دشمن ممالک کو پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا موقع ملا، اگر گھر کے حالات ایسے ہی تھے تو یہ بات پہلے کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ کیا نواز شریف کی طرف سے مخالفت تھی؟قائد حزب اختلاف نے کہا کہ دنیا ہمارا موقف ماننے کو تیار نہیں ٗ یہ حکومت کی ناکامی ہے ٗپاکستان میں دہشت گردی کرانے والے ممالک کا واویلا دنیا سن رہی ہے،

آرمی چیف نے جمہوریت کے تسلسل کی بات کی ہے جو خوش اذئند ہے ٗآرمی چیف نے کہا کہ ہم نظام کہ حق میں ہیں نظام چلتا رہے، ہم بھی یہی کہتے ہیں۔خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طاقت ور بنانے کا ایک ہی راستہ ہے، وہ ہے جمہوریت، اگر جمہوریت کو چھیڑا گیا تو یہ پاکستان سے سب سے بڑی دشمنی ہوگی، پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں جب ہم خود اداروں کو کمزور کریں گے، ادارے جب آپس میں لڑیں گے تو ریاست کمزور ہوگی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر