یہ دو لوگ بینکوں میں پڑنے والے ڈاکے روک سکتے ہیں کیونکہ یہ اس میں ماہر ہیں،فواد چوہدری نے پھر جلتی پر تیل ڈال دیا، خورشید شاہ اور خواجہ آصف کو کیا کچھ کہ گئےآصف زرداری اور شہباز شریف کو بھی نہ بخشا

پاکستان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پی اے سی کا سربراہ اگر شہباز شریف کو یہ بنانا ہے تو بہتر ہے کہ پبلک اکانٹس کمیٹی کو ختم کر دیں، بینکوں پر ڈاکوں کے حوالے سے خورشید شاہ اور خواجہ آصف کی خدمات حاصل کی جانی چاہییں وہ اس میں ماہر ہیں، آصف زرداری گرفتاری سے بچنے لیے بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں،نیب کے قوانین میں بھی خامیاں ہیںجن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،پاکستان میں حکومت کی انتھک کوششوں کے باعث ادائیگیوں میں عدم توازن کا مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔ان خیالات کا اظہار

انہوں نے پارلیمنٹ ہا ئو س کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔فواد چوہدری نے کہا کہ قوانین میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔نیب کے قوانین میں بھی خامیاں ہیں جن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل نیب کو سیاسی مقدمات بنانے کیلئے کہا گیا۔موجودہ حکومت نیب پر مقدمات بنانے کیلئے کوئی پریشر نہیں ڈال رہی۔ نیب میں جتنے بھی مقدمات ہیں وہ گزشتہ دور حکومت میں بنائے گئے تھے موجودہ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آصف زرداری نے گزشتہ روز اہنے بیان میں کہا کہ نواز شریف ہمیشہ ڈیل کر کے حکومت میں آئے ہیں اور اب عمران خان بھی حکومت میں آئے ہیں۔آصف زرداری کی آج کل گرفتاری کا ڈر ہے اس لیے بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔ آصف زرداری کچھ بھی کر لیں یا بیانات دیں وہ دوبارہ مقبول نہیں ہوسکتے۔عمران خان حکومت کیلئے کسی سے ڈیل نہیں کر سکتے۔آصف زرداری نے ملک میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے ان کو اس کا حساب دینا ہوگا۔بینکوں پر ڈاکے پڑ رہے ہیں اور ہیکرز بینکوں کا نظام ہیک کر رہے ہیں۔اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ جائیں گے۔بینکوں پر ڈاکوں کے حوالے سے خورشید شاہ اور خواجہ آصف کی خدمات حاصل کیجانی چاہییں کیونکہ وہ بھی بینکوں پر ڈاکے ڈالنے کے ماہر ہیں۔چوہدری نثار نے نواز شریف سے متعلق سوال پر ان کو پہچاننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ ان دونوں کا آپس کا معاملہ ہے اس پر کیا بات کی جا سکتی ہے۔پبلک اکانٹس کمیٹی کا سربراہ اگر شہباز شریف کو یہ بنانا ہے تو بہتر ہے کہ پبلک اکانٹس کمیٹی کو ختم کر دیں۔پاکستان میں حکومت کی انتھک کوششوں کے باعث ادائیگیوں میں عدم توازن کا مسئلہ ختم ہوگیا ہے۔ اب ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔آئی این ایف کا وفد پاکستان آیا ہے جس کے ساتھ ،مذاکرات کریں گے۔ ضرورت پڑی تو آئی ایم ایف سے تھوڑا پیکج لینا پڑے گا جس پر زیادہ کڑی شرائط عائد نہیں کی جائیں گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر