آسیہ مسیح کی رہائی۔۔۔ خادم حسین رضوی کا شدید ردعمل سامنے آگیا

پاکستان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور دھرنے ختم کرانے کیلئے وفاقی اور پنجاب حکومت نے تحریک لبیک کیساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج کا تین روز تک جاری رہنے والا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ تاہم حکومت نے ملک بھر میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث اور نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانےوالے افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے تاحال تحریک لبیک کیساتھ کئے گئے معاہدے کے حوالے سے عملدرآمد کے حوالے سے کوئی اعلان

سامنے نہیں آسکا ۔ اس حوالے سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے گزشتہ روزر ویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان سے ملاقات کے بعد نیو کراچی کی بلال مسجد میں عوامی کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکو مت اپنے وزرا کو لگام دے جو مداخلت فی الدین کر کے ملک میں فساد فی الارض پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قومی میڈیا کا ایک مخصوص طبقہ بھی چنگاری کو بھڑکتے شعلے بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے پُر خلوص معاہدے کیے جن پر ہم خلوص سے عمل کررہے ہیں لیکن بعض وزرا اور نوکر شاہی میں موجود کالی بھیڑیں حکومت اور تحریک لبیک کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔وزیراعظم معاہدے کی رُوح کے مطابق حکومتی وعدوں کو جلد از جلد پورا کروا کر ملک میں پھیلی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کریں ۔خادم رضوی کا کہنا تھا کہ عوام چاہتی ہے کہ آسیہ کیس کی نظرثانی میں بیرونی مداخلت اسلامیان کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے۔ا نہوں نے تحریک لبیک کے سیاست کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری منزلاسلام آباد نہیں مدینہ طیبہ ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو 25 جولائی کو عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف ہم خاموشی اختیار نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو نظام مصطفیٰ ﷺ کو گہوارہ بنانے کے لیے پُر امن جمہوری حق کو استعمال کر کے اپنے ہدف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ ہم ملک کی سالمیت اور قوم کی آزادی سے کسی کو بھی کھیلنے کی اجازت نہیںدینگے۔ علامہ خادم رضوی نےاس موقع پر قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 9 نومبر کو پورے ملک میں یوم اقبال منا کر قوم کے محسنوں کو خراج عقیدت پیش کریں وہ قومیں کبھی تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں جو اپنے محسنوں اور اکابرین کو فراموش کر دیتی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز علامہ خادم رضوی سے ملاقات کے بعد چیئرمین رویت ہلال کمیٹی اور ملک کے معروف عالم دین مفتی منیب کا کہنا تھا کہ حکومت کوقائم ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں ہوا جبکہ ملک بھی اقتصادی مسائل کا شکار ہے، حالات کا تقاضا ہے کہ مسائل میں اضافہ نہ کیا جائے، لبرل قوتیں تحریک لبیک کیساتھ معاہدے کے بعد حکومت کو ابھار رہی ہیں اور اگر حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہ کیا تو وہ اعتبار کھو دے گی۔ حکومت کو تحریک لبیک کیساتھ کیا گیا معاہدہ پورا کرنا چاہئے۔ وزیراعظم جذبات کے بجائے مکالمے کی جانب آئیں۔مودی کیساتھ مذاکرات کی بات تو ہو جاتی ہے مگر اپنے لوگوں کیساتھ مذاکرات سے پیچھے ہٹا جاتا ہے۔ مفتی منیب کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور پنجاب حکومت کی جانب سے وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ نے تحریک لبیک کیساتھ جو معاہدہ کیا ہے اسے پورا ہونا چاہئے۔خیال رہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہےکہحکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی اور جب تک آسیہ بی بی کو مجرم قرار نہیں دیا جاتا اس وقت تک نام ای سی ایل میں نہیں ڈال سکتے۔یہ بات انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آ سیہ بی بی اور ان کا خاندان پاکستان میں ہے اور حکومت کی جانبسے انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدیکا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کی قیادت کو جب توڑ پھوڑ کرنیوالے افراد کی تصاویر اور ویڈیوز دکھائی گئیں تو انہوں نے ان افراد کو اپنی جماعت کا ماننےسے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھی گرفتاریاں ہوئیں انہیں قانونی طریقے سے ٹریٹ کیا جائے گا، باور کراتا ہوں قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جو قانون کو توڑے یا اسے چیلنج کرے گا، وزیراعظم اور دیگر حکام کا واضح مؤقفہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے سے متعلق شہریار آفریدی نے کہا کہ’ سپریم کورٹ جو فیصلہ دے گی حکومت اس پر عمل کرے گی،جب تک کوئی مجرم نہیں ہوگا کیسے ای سی ایل میں نام ڈالیں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوگا‘۔واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے درمیان احتجاجی مظاہرہ ختم کرنے کے حوالے سےمعاہدہ طے پایا تھا۔ معاہدے پر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارتجبکہ تحریک لبیک کی طرف سے سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری اور محمد وحید نور کی جانب سے دستخط کئے گئے ۔ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان پائے جانیوالے معاہدے کے مطابق آسیہ مسیح کے مقدمےمیں نظر ثانی اپیل دائر کر دی گئی ہےجو مدعا الیہان کا قانونیحق و اختیار ہے جس پر حکومت معترض نہ ہو گی ۔ معاہدے میں کہا گیا کہ آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میںشامل کرنے کیلئے کارروائی کی جائیگی اور آسیہ مسیح کی بریت کیخلاف اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں تو فوری قانونی کاروائی کی جائیگی ۔ معاہدے میں کہا گیا کہ 30 اکتوبر کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ان افراد کو فوری رہا کیا جائیگا اور اس واقعے کے باعث کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر