سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کے فیصلے نے رئیل سٹیٹ حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی،نئے دور کا آغاز،بڑی پیش گوئی کردی گئی

پاکستان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کے فیصلے نے رئیل سٹیٹ حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی،نئے دور کا آغاز، تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کیس کے فیصلے کو رئیل سٹیٹ انڈسٹری کے حلقوں میں خوب سراہاجارہاہے، پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین فیصلے نے جہاں ایک طرف ہزاروں افراد کے مستقبل کو محفوظ بنا دیا ہے دوسری جانب پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رئیل سٹیٹ کے شعبے کو ایک نئی جہت ملی ہے۔

رئیل سٹیٹ شعبے سے جڑے معروف بلڈرز نے سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلہ خوش آئند قراردیتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ اس سے پاکستان میں خرید و فروخت کا کاروبار پھلے پھولے گااور روزگار کے مزیدنئے مواقع پیدا ہونگے جس سے بیروزگاری میں کمی آئیگی اوراس فیلڈ سے متعلقہ انڈسٹریز بھی مزید مستحکم ہو سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ اب مقابلے کی نئی دوڑ کا آغاز ہوگا جس سے شہریوں کو بھی بہترین سہولیات سے مزین گھرمل سکیں گے۔ جہاں ایک طرف رئیل اسٹیٹ انڈسٹری نے اس فیصلے کو سراہا ہے تو دوسری جانب مزدوروں نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں، بحریہ ٹاؤن کے منصوبے پر کام کرنے والے مزدور بھی گومگو کی کیفیت کا شکار تھے اور انتہائی پریشان تھے لیکن اس فیصلے نے ان کی تمام مشکلات و پریشانیوں کا خاتمہ کر دیا، بحریہ ٹاؤن کراچی میں کام کرنے والے مزدوروں نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف رئیل سٹیٹ کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ اس شعبے سے متعلق متعدد شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے جن سے غریب اور متوسط طبقے کی ایک بڑی منسلک ہے۔ مستری، لوڈر، ہیلپر و دیگر کنسٹرکشن کا کام کرنے والے مزدوروں کو جیسے ہی یہ خبر ملی تو ان لوگوں نے خوشی میں جشن منایا اور بھنگڑے ڈالے، مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ان مزدوروں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہمارے لئے کسی عید سے کم نہیں ہے۔ ہم چیف جسٹس صاحب کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں بھوکا مرنے سے بچا لیا۔ اب ہم بھی اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں لکھا پڑھا سکیں گے۔ معیار زندگی بلند ہوگا۔ ہم ملک ریاض صاحب کے انتہائی ممنون ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر اس کیس کا درمیانی راستہ نکالا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر