فضل الرحمن ،عمران خان کے استعفیٰ پر بات تو کیا سوچنابھی چھوڑ دیں، حکومت نے آزادی مارچ کے شرکا کیساتھ کیا سلوک کرنیکا اعلان کردیا؟

پاکستان

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے لوگوں کو ویلکم کریں گے۔ اور انہیں فیئر ویل دے کر رخصت بھی کریں گے لیکن وزیر اعظم کے استعفیٰ پر بات تو کیا سوچنابھی چھوڑ دیں۔جے یو آئی (ف) کے حکومت مخالف مظاہروں کے باوجود وزیر اعظم عمران خان کی حکومت مضبوط ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت جے یو آئی (ف) مولانا فضل رحمان کے پرامن احتجاج کا خیرمقدم کریگی کیونکہ پی ٹی آئی ہمیشہ عوام کے جمہوری حقوق کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے

کہا کہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے کہ وہ احتجاج کریں اور اگر وہ پر امن طریقے سے احتجاج کرتے ہیں تو تحریک انصاف کی حکومت ان کے حقوق غصب نہیں کرسکتی ہے۔وزیر نے کہا کہ حکومت نے حکمت عملی تیار کی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف حزب اختلاف میں تھی اور حکومت مخالف مظاہروں کا اعلان کرتی تھی تو ماضی کی کرپٹ حکومت نے ہماری پارٹی کے ممبروں کو گرفتار کیا اور دھرنا مظاہرین کے لئے رکاوٹیں کھڑی کردیں لیکن اب پی ٹی آئی کی حکومت حزب اختلاف کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی اور انہیں پرامن آزادی مارچ کی اجازت دے گی۔انہوں نے مزید افسوس کا اظہار کیا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نام نہاد آزادی مارچ کا آغاز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کو موزوں انداز میں اجاگر کررہے ہیں جو ملک دشمنوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر مولانہ اسلام آباد میں پر امن آزادی مارچ کریں گے تو پی ٹی آئی کی حکومت ان کے احترام کے ساتھ ان کی مدد کرے گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر