اگلا وزیراعظم کون ہو گا غورشروع کر دیا گیا، نئے وزیراعظم کے لیے 4 نام دیدیے گئے، تہلکہ خیز انکشافات

پاکستان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بیمار نواز، خاموش زرداری، تیز رفتاری مولانا اور عمران کے عنوان سے معروف تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے اپنی تحریر میں آنے وائے وزیراعظم کے طور پر چار نام دے دیے۔ انہوں نے اپنی تحریر میں لکھا کہ بیمار نواز شریف ہیں مگر زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ رہی ہے۔ ضمانت کا وقتی ریلیف نواز شریف کو ملا ہے مگر سکھ کا سانس حکومت کا نکلا ہے کہ چلو عارضی ہی سہی مگر نواز شریف کی زندگی کا بوجھ ان کے کندھوں سے اترا تو۔

انہوں نے اپنی تحریر میں مزید لکھا کہ حکومتی لوگوں کی ترجیحات دیکھیں تو لگتا ہے کہ انہیں فکر صرف اس بات کی ہے کہ کون سا اینکر کس کے پروگرام میں بیٹھا ہے اور حکومت کے بارے میں کیا رائے زنی کرتا ہے۔ گویا اینکرز کے منہ پر تالے لگوا دینے سے کاروبار اور معیشت پر لگے تالے کھل جائیں گے۔ گویا اینکرز کے ہاتھ باندھ دینے سے ٹیکوں کے خزانوں کی بوریوں پر بندھی رسیاں کھل جائیں گی۔ گویا اینکرز کے نہ بولنے سے گڈ گورننس کے ساتوں سُر تال میں آ جائیں گے۔ غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ ادھر مولانا فضل الرحمٰن کو دیکھیے تو سندھ سے پنجاب تک کا سفر جس تیزی سے انہوں نے طے کیا ہے اور جتنا ہجوم ان کے ساتھ ہے، یہ حکومت کے لیے انتہائی تشویش ناک بات ہو سکتی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جے یو آئی ف محض معاہدے میں طے کردہ مقام تک ہی محدود نہیں رہے گی اور پیش قدمی کرنے کا ارادہ ضرور رکھتی ہے۔ حکومت بھی ایسی صورت حال میں سخت ایکشن کا واضح پیغام دے چکی ہے۔خدانخواستہ حالات تصادم کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ ایک دو اطلاعات مزید گوش گزار کر دی جائیں۔ پاکستان کی سیاست کے نازک موڑ میں (جو اکثروبیشتر ہی آتے رہتے ہیں) اہم کردار ادا کرنے والے ایک برادر ملک کے انتہائی اہم سفیر شخصیت کی جو ملاقات گذشتہ دنوں حکومتی اتحادیوں سے ہوئی، ان کا محور و مرکز مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ اور دھرنا ہی رہا۔ لیکن اس ملاقات میں کوئی خاص بات بن نہ پائی۔ وجوہات اس وقت لکھنا ممکن نہیں۔ ہو سکتا ہے تب تحریر کر دوں جب مولانا فضل الرحمٰن کا مارچ راولپنڈی پہنچ جائے۔اس اہم ملاقات کے بعد

کچھ اہم ترین پیغامات بیک ڈور سے جے یو آئی ف کی مرکزی قیادت تک ایک بار پھر پہنچائے گئے جن میں کچھ حکومتی آفرز بھی شامل تھیں لیکن مولانا کی طرف سے فی الحال معذرت کرلی گئی کہ اب جو بھی بات ہوگی وہ 31 اکتوبر کے بعد کی جائے گی۔انہوں نے اپنی تحریر میں مزید لکھا کہ بلاول بھٹو بھی وزیراعظم کے استعفے بارے پر یقین ہیں، انہوں نے کہا کہ گذشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ تبدیلی کا گھوڑا ایسا سرپٹ دوڑا کہ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔ صحیح وقت پر

لگام تھام لی جاتی اور سمت ٹھیک کر لی جاتی تو آج پے در پے مشکلات کے بھنور کا شکار نہ ہوتے لیکن کیا کیجیے کہ اقتدار کا ہما جب سر پر بیٹھتا ہے تو اپنے خوبصورت پروں سے مقتدر کے کانوں پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ سوائے اس ہما کی خوش الحان سروں میں خوشامد کے اور کچھ سنائی نہیں پڑتا، یہاں تک کہ احساس ہی نہ ہو کہ یہ اقتدار کا خوبصورت ہما سر پر بیٹھے بیٹھے کب سر ہی اڑا کر لے گیا۔اسلام آباد کی دھیرے دھیرے سرد ہوتی ہوائیں تو ممکنہ قومی حکومت کے

سربراہان کی پیش گوئیاں بھی کرنے لگی ہیں۔ کہیں ملتان کے کسی مخدوم کا نام لیا جا رہا ہے تو کہیں لاہور کے کسی خادم کا۔ کہیں سندھ سے تعلق رکھنے والے ایسے وزیر کا جو ماضی میں صدر، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں تو کہیں دبی دبی آوازیں عمر رسیدہ مگر جہاں دیدہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں جو ماضی میں قومی اسمبلی کی امامت بھی کر چکے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں اور اتنے ہی آپشنز، ایک بات تو کم از کم عیاں ہو رہی ہے کہ ’اگلا کون‘ پر بہرحال بات شروع ہو گئی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر