اپنا استعفیٰ اور وصیت نامہ تیار کرلیں، وزیراعظم عمران خان کو وارننگ دیدی گئی

پاکستان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے اپنی لاہور رہائش گاہ پر میڈیا نمائندوں اور آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا اس موقع پر اس موقع پر پروفیسر ساجد میر، قمر زمان کائرہ، اویس نورانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اویس نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آبادمیں بیٹھے چندلوگ کب تک قوم کی قسمت سے کھیلتے رہیں گے۔ ہم آئین کے تحفظ کے لیے اسلام آباد جارہے ہیں،ہماری جنگ اقتدارکے لیے نہیں ہے بلکہ مہنگائی،

بیروزگاری اورلاقانونیت کیخلاف ہے۔ ہمارے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے عمران خان اپنا استعفیٰ اور وصیت نامہ تیار کرلیں۔ قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مارچ کا پلان اے ناکام ہوا تو پلان بی اور سی استعمال ہوگا۔ مارچ کے نتیجے میں حکومت گھر جائے گی اور یہی ملک و قوم کیلئے بہتر ہے۔انہوں نے کہاکہ سابق صدر آصف علی زرداری کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں، انہیں محض الزامات پرگرفتار کیا گیا ہے،انہیں فوری رہا کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے کو اپوزیشن نہیں حکومت نقصان پہنچا رہی ہے،بتایا جائے کہ کابینہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر کتنی بات ہوتی ہے۔قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے کشمیر کو الگ کر کے دکھا دیا، بھارتی فوج حملہ کررہی ہے جبکہ ہماری حکومت اپوزیشن کے پیچھے پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مارچ پہلے سے جاری ہے،بلاول بھٹو کراچی،کشمور اورتھرپارکر میں جلسے جلوس کررہے ہیں اوررحیم یار خان سے ہوتے ہوئے کشمیر تک جلسے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن جب سے مارچ کی تیاری کررہے تھے، کہا تھاساتھ شامل ہوں گے توہوگئے ٹوکن ہیں تو مکمل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔کشمیریوں کے ساتھ مضبوط پاکستان ہی مقدمہ لڑسکتاہے،ملک کے آئین میں جو طریقہ کار ہے پاکستان کو اس کے مطابق نہیں چلایا گیا،عمران خان سے کوئی این آر او مانگ رہاہے نہ ضرورت ہے چھوڑوں گا نہیں سب باتوں پر تو آپ یوٹرن لے چکے ہیں۔علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمان نے اپنی رہائشگا ہ او رکنٹینر کے اندر رہنماؤں سے آئندہ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت بھی کی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر