’’ارطغرل غازی‘‘ڈرامے پرتنقید، فیصل جاوید بھی میدان میں آگئے،فوادچوہدری کو کھری کھری سنا دیں

پاکستان

اسلام آباد (این این آئی)شہرہ آفاق ترکش سیریز ’ارطغرل غازی‘ کو سرکاری ٹی وی پر نشر کئے جانے پر اعتراض کرنے والے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو سینیٹر فیصل جاوید خان نے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ارطغرل غازی‘ جیسا مواد ہماری صنعت کی ترقی میں مدد فراہم کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزفواد چوہدری نے غیر ملکی مواد سرکاری چینل پر نشر کئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسے ہی تمام ٹی وی چینلز بیرون ممالک سے سستے ڈرامے خرید کر چلانے لگے تو مقامی انڈسٹری تباہ ہوجائے گی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی

برائے انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کے چیئر مین فیصل جاوید خان نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں فواد چوہدری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ارطغرل غازیٰ جیسی عظیم پراڈکشن ہماری صنعت کی ترقی میں مدد دے گی ،ہمیں کچھ ایسا ہی اسلامی تاریخ اور ثقافت پر مبنی منفرد مواد نشر کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ڈراموں اور فنون لطیفہ کا تبادلہ دو طرفہ ہونا چاہئے کیونکہ اپنے مواد کو بیرون ملک برآمد کرنا تجارت میں جیت کے سوا کچھ نہیں ہے۔فیصل جاوید نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری پروڈکشن اور ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہترین ہے لیکن ہمیں اپنے مواد پر کام کرنے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہ طرز اپنا کر ہم عالمی دنیا میں اپنے ڈراموں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش کہ ’ارطغرل غازیْ‘ پر تنقید کرنے والے غیر معیاری بھارتی مواد کے پاکستانی ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کئے جانے پر بھی مخالفت کرتے ہوئے ردعمل دیتے۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی شہرہ آفاق فینٹسی سیریز ’گیم آف تھرونز‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سیریز کی ہمارے اپنے لوگوں کی تشہیر کی تو پھر ’ارطغرل غازی ‘ جیسے عظیم الشان ڈرامے پر تنقید کیوں کی جارہی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید کے اس ٹوئٹ پر اداکار و میزبان واسع چوہدری نے بھی اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی مواد کے نشر کرنے کے بھی وہ اتنے ہی مخالف تھی کہ جتنے ترکش ڈراموں کے نشر کرنے پر ہیں۔یاد رہے کہ فواد چوہدری پہلے شخص نہیں تھے کہ جنہوں نے ’ارطغرل غازی‘ کی سرکاری چینل پر نشر کرنے کی مخالفت کی ہو، اس سے قبل فلم اسٹار شان شاہد، ریما، ثانیہ سعید، یاسر حسین، واسع چوہدری بھی اس کی شدید مخالفت کرچکے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر