ملک و قوم آئی سی یو میں ہے اور حکومت نمائشی پروگرام چلارہی ہے ،گاڑی اناڑی ڈرائیور کے ہتھے چڑھ گئی ہے، سراج الحق کی دھماکہ خیز باتیں

پاکستان

لاہور( این این آئی)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک و قوم آئی سی یو میں ہے اور حکومت نمائشی پروگرام چلارہی ہے ،گاڑی اناڑی ڈرائیور کے ہتھے چڑھ گئی ہے،وزیر اعظم اور وزراء کے کنفیوژڈ بیانات قومی یکجہتی کو نقصان پہنچارہے ہیں،یہ لڑنے کا نہیں قوم کو کورونا کی دلدل سے نکالنے کا وقت ہے، اساتذہ قوم کے معمار اور محسن ہیں حکومت اساتذہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بند کرے، کورونا وباء کے بعددنیا کے بہت سے ملکوں میں تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں ،ہماری حکومت نے باز ار ،پبلک ٹرانسپورٹ ،بڑے بڑے پلازے اورریستورانکھول دیئے ہیں مگر تعلیمی ادارے جن سے قوم کا مستقبل وابستہ ہے ان کو جبراً بند رکھا جارہا ہے ،تعلیمی اداروں کی بندش سے 15 لاکھ اساتذہ بے روز گار ہوچکے ہیںاور انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں نیشنل ایسوسی ایشن فار ایجوکیشن کے

زیر اہتمام صوبائی صدور پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن ایک روزہ اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ماہر تعلیم و چیف ایگزیٹو آفاق شاہد وارثی، نافع پاکستان کے ڈائریکٹر ہدائت خان اور سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔اجلاس میں پنجاب ،خیبر پختونخواہ ،سندھ بلوچستان اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سے پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔سراج الحق نے کہا کہ کورونا فنڈ کے 1200ارب روپے سے ان کی مدد کیوں نہیں کی جاسکتی۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو حکومت اپنا دشمن کیوں سمجھ رہی ہے، یہ حکومت کے معاون ہیں۔آرٹیکل 25.A کے تحت ملک کے ہر شہری کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ریاست کا کام ہے، اگر پرائیویٹ تعلیمی ادارے یہ کام کر رہے ہیں تو وہ دراصل حکومت کی ذمہ داری میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ ان اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر سپورٹ کرے تاکہ علم کی شمع روشن رہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک بھر میں 27فروری سے تعلیمی ادارے بند ہیں چار ماہ بعد بھی حکومت کے پاس تعلیمی نظام کو بحال کرنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں ۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے اڑھائی کروڑ اور مدارس کے 31لاکھ طلبا کا مستقبل تاریک ہورہا ہے ۔پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومت کا بوجھ بانٹ رہے ہیں ،حکومت تو تمام تر دعوئوں کے باوجود سکولوں سے باہر دوکروڑ بچوں کو سکولوں میں نہیں لاسکی ۔سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ حکومت بند کئے گئے تعلیمی اداروں کا بوجھ خود اٹھائے ، اساتذہ کو تنخواہیں ،بلڈنگز کا کرایہ اور یوٹیلیٹی بلز حکومت ادا کرے کیونکہ چار ماہ سے بچوں کی فیسیں تو نہیں آرہیں،حکومت ان اداروں کو چلانے کیلئے بلاسود قرضے مہیا کرے ۔انہوں نے کہاکہ 15لاکھ اساتذہ کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں اور یہ اساتذہ عید پر بھی اپنے بچوں کو نئے کپڑے اور جوتے تو کیا اچھا کھانا نہیں کھلا سکے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں ٹویٹس پر نہیں ،پالیسیوں کی بنیاد پر چلتی ہیں۔حکومت پرائیویٹ سکول مالکان سے مشاورت کے ساتھ تعلیمی نظام کو بحال کرنے کی پالیسی بنائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی رویہ لوگوں کو بغاوت پر اکسارہاہے ۔ لوگ کرونا وبا،بے روز گاری ،مہنگائی اور بے یقینی کی وجہ سے سخت پریشان ہیں حکومت کو شرافت کے ساتھ رہنا اور اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔نان ایشوز اٹھانے کی بجائے حکومت ایشوزکو حل کرنے کی طرف توجہ دے ۔ اجلاس میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی جس میں کہا کیا گیا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے ملک بھر کے تمام ایسوسی ایشنزکا نمائندہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ SOP اور حفاظتی تدابیر کے ساتھ تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کریں۔پچھلے چار مہینوں سے سکول بند ہیں اور کرونا اور لاک ڈائون کی وجہ سے والدین فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس لیے حکومت پاکستان نجی تعلیمی اداروں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کرے اور نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔ یہ تعلیمی ادارے علم کا نور پھیلا رہے ہیں۔ اس نور کو بجھانے کی سازشیں نہ کریں۔ تعلیمی ادارے بند کرنا آئین کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے۔ 5 کروڑطلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے۔ 50فیصد تعلیمی ادارے مکمل بند اور 10 لاکھ لو گ بے روزگار ہو جائیں گے۔سکولز کی ٹائمنگ 7 تا 10 اور 2 شفٹ میں تعلیمی ادارے چلائے جاسکتے ہیں۔اس کے تحت ادارے کھولے جائیں۔بورڈ فیس کی مد میں 45 لاکھ طلبہ سے وصول شدہ ،25 ارب روپے واپس کریں۔پف سکولز کی چار ماہ سے رُکی ہوئی ادائیگیاںاور ساری کٹوتیاں فی الفور جاری کی جائیں اور پف بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر