2سال میں پہلی بار وزیراعظم عمران خان دباؤ کاشکار،اتحادی جماعتوں کی ناراضگی ایک طرف ، اپنے ایم این ایز بھی آنکھیں دکھانے لگے ، اندورن خانہ اصل میں چل کیا رہا ہے ؟ سینئر صحافی مظہر عباس نے اندر کی خبر دیدی ‎‎

پاکستان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )شاید 2سال میں پہلی بار وزیراعظم عمران خان دباؤ کاشکار نظر آئے ہیں۔کرکٹ کے دنوں میں یہ چیز ان کیلئے غیر معمولی ہوتی تھی۔لیکن سیاست ایک مختلف گیند کا کھیل ہے۔سینئر صحافی مظہر عباس کے مطابق اس وقت پنجاب میں انہیں اپنے اتحادیوں سے زیادہ اپنی پارٹی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے مسائل کا سامنا ہے،جسے وہ بخوبی محسوس کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی اور عشایئے میں کی گئی ان کی یکے بعد دیگرے تقاریر میں انہوں نے پارٹی اور حکومت پر اپنی سخت گرفت کا پیغام دیا اور یہ کہا کہ وہ

کہیں نہیں جا رہے۔لیکن وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ وہ ایک آزاد ایم این اے کیساتھ ون ٹو ون ملاقات کر رہے ہیں۔باقی اتحادیوں اور پی ٹی آئی کے ناراض ایم این ایز کی کیا بات کی جائے۔جب سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں اور متحدہ اپوزیشن نے ایک دوسرے کیخلاف مہم شروع کی ہے سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔دونوں اطراف نے بجٹ پاس اور مسترد کرانے کیلئے اپنے ایم این ایز اور سینیٹرزکو 100فیصد حاضری یقینی بنانے کا کہا۔حالانکہ بجٹ پاس ہونے کے 100فیصد چانس نظر آ رہے تھے۔لیکن اگلے کچھ ہفتے اور مہینے دلچسپی سے خالی نہ ہوں گے۔جبکہ وزیراعظم اور ان کی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے کسی بھی دوسرے ملک سے بہتر طریقے سے کورونا بحران پر قابو پایا۔ہر کوئی اس خیال سے متفق نہیں ہے،لیکن یہ بھی حقیقت ہے کی مکمل لاک ڈاؤن معیشت کیلئے تباہ کن ہوتا۔ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی کے ناراض ایم این ایز کو پہلے ہی پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ بجٹ کے حق میں ووٹ دیں، اپنی مخالفت میں زیادہ آگے نہ بڑھیں۔ بظاہر یہ منصوبہ صرف حکومت اور وزیراعظم کو طرز حکمرانی پر نظر ثانی کیلئے تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں،مستقبل قریب میں تو اس زیادہ بالکل بھی نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’ہینڈلرز‘‘ نے انہیں صرف ان کی قریبی دوستوں کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ پاکستان سیاسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی اشاریئے کافی پریشان کن ہیں اور آئندہ سال تک حالات خراب سے خراب تر ہوسکتے ہیں۔کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے اور اس میں جہانگیر ترین، مونس الٰہی اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی کا نام آنے کے بعد سے پی ٹی آئی کے اندر موجود پریشانیوں میں اضافہ ہوا۔جب عمران خان نے اتوار کے روز اپنی تقریر میں مختلف مافیاز کی طرف اشارہ کیا تو وہ اس بات پر مطمئن نہیں کر سکے کہ پیٹرولیم قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے پر واقعتاً کیا ہوا اور جب پیٹرول پمپس سے پیٹرول غائب ہو گیا تو کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ذمہ دار کون تھا؟وزیراعظم اتوار کے روز ان سے ملنے والے اپنے اتحادیوں کو بھی مطمئن نہیں کرسکے اور انہوں نے فیصلے یا ان کی اپنی پارٹی کے ایم این اے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔کچھ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ بحران کے بعد یہ امکان بہت کم ہے کہ شوگر سکینڈل میں مزید کارروائی کی جائے کیونکہ حکومت نے بھی پوسٹ کمیشن کی رپورٹ میں چینی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے خلاف کارروائی روک رکھی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر