والد کہتے تھے سارا دن افسروں کیلئے گاڑی کے دروازے کھولتا ہوں، میں نہیں چاہتا میرے بچے یہ کام کریں”،مسیحی ڈرائیور کی بیٹی رابیل کینیڈی سی ایس ایس کلیئر کرنے کے بعدوزارت خارجہ میں افسر کا عہدہ سنبھالنے کیلئے تیار

پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)2019کے سی ایس ایس امتحان میں کامیاب ہونے والے متعدد دوسرے امیدواروں کے ساتھ ایک کامیاب امیدوار صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے رہائشی اور ایف بی آر میں ڈرائیور کی خدمات انجام دینے والے عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے جان کینیڈی کی بیٹی رابیل کینیڈی بھی ہیں جو تربیت مکمل کرنے کے بعد پاکستان وزارت خارجہ میں خدمات انجام دیں گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے رابیل کینیڈی نے کہا کہ انہیں انتھک محنت کرنے پر آمادہ کرنے والی شخصیت ان کے والد ہیں۔ وہ کئی گھنٹے کام کر کے جب شام کو گھر آتے

تو ہمیشہ کہتے کہ میں سارا دن اپنے افسروں کے لیے گاڑی کے دروازے کھولتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے یہ کام کریں۔رابیل کینیڈی نے کہا کہ یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے مجھے کچھ کرنے کا حوصلہ دیا، محنت اور انتھک محنت کرنے پر ابھارا، نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔میرا بچپن عام سا تھا مگر مجھے زیادہ کھیل کود کا شوق نہیں تھا اور میری زیادہ دلچسپی پڑھائی کی جانب تھی۔ میں نے ہمیشہ تقریری مقابلوں میں حصہ لیا اور انعامات جیتے ہیں۔ میری تقریر کئی سال تک میرے پاپا تیار کیا کرتے تھے۔جس بھی موضوع پر تقریر ہوتی وہ اس کا خاکہ بناتے، میں اس کو لکھتی اور پھر جب سکول جا کر اساتذہ کو سناتی تو مجھے منتخب کرلیا جاتا۔ بچپن ہی سے فیصلہ کرلیا تھا کہ مجھے کچھ کرنا ہے۔ ہمیشہ اسی کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔فیسیں اور دیگر اخراجات بہت زیادہ ہوتے تھے۔ اس کے لیے میں نے اپنے ہی سکول میں بحیثیت ٹیچر نوکری کے لیے درخواست دی۔ میں نے میٹرک تک تعلیم اسی سکول سے حاصل کی تھی جس پرمیں سیلیکٹ ہو گئی۔ آغاز میں مجھے 12 ہزار اور اب مجھے 24 ہزار تنخواہ ملتی ہے۔گریجویشن کے بعد ایم ایس سی کرنے کے لیے شام کی کلاسز میں داخلہ لیا۔ اب یہ ایک اور سخت محنت کا دور تھا لیکن انہوں نے اپنی منزل واضح کرلی تھی کہ انہیں سی ایس ایس کرنا ہے۔رابیل کہتی ہیں کہ میں نے ایف ایس سی سپیرئیر سائنس کالج سیالکوٹ سے کی تھی. اس دور میں مجھے یاد ہے کہ مجھے دس سے تیس روپے جیب خرچ ملتا تھا۔ ظاہر ہے مجھے اندازہ تھا کہ جس مشکل سے پاپا مجھے یہ جیب خرچ دیتے تھے وہ مجھے سے پوشیدہ نہیں تھا لیکن یقین جانیے کے مجھے کبھی بھی احساس کمتری نہیں ہوا۔ جبکہ رابیل کینیڈی کے والد جان کینیڈی نے کہا کہ میں تو خود ایک ڈرائیور ہوں۔میں نے صرف ایک خواب دیکھا۔ اس خواب کے پیچھے کئی سال تک اندھادھند بھاگتا رہا۔ مگر اس خواب کو پورا کرنے کے لیے میری بیٹی رابیل نے بہت محنت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں تو ان پڑھ ہوں جب اپنے افسروں کو دیکھتا تو صاف پتا چلتا تھا کہ پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگوں میں کتنا فرق ہوتا ہے، بس یہاں ہی سے خواہش پیدا ہوئی کہ میرے بچے بھی پڑھیں اور خوب پڑھیں۔رابیل کا دوسرا نمبر ہے۔ میرے بڑے بیٹے جرار نے بھی امتحان دیا ہوا ہے، اس کا نتیجہ بھی آنے والا ہے۔ رابیل بچپن ہی سے مختلف تھی۔ بہت چھوٹی تھی تو اس وقت ہی مجھے لگتا تھا کہ یہ کوئی بچی نہیں بلکہ بہت ہی سمجھدار انسان ہے۔ کبھی کوئی ضد نہیں کی جو میں کہتا توجہ سے سنتی تھی۔جان کینیڈی نے کہا کہ جب رابیل کی قابلیت کے ڈنکے بجنے لگے تو میں اپنے افسروں سے بھی بات کرنے لگا۔ ان سے پوچھنے لگا کہ اب مستقبل میں کیا ہونا چاہیے تو بہت سے افسران نے مدد کی۔ انھوں نے مجھے کہا کہ رابیل کو اب سی ایس ایس کی طرف جانا چاہیے.ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق رابیل کینیڈی مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والی ملک کی پہلی خاتون سی ایس ایس افسر ہوں گی جو وزارت خارجہ میں خدمات انجام دیں گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر