ایف بی آر حکام کسی سے ہدایات لے رہے ہیں، واضح ہو گیا اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حیرت انگیز دعویٰ کر دیا

پاکستان

اسلام آباد (این این آئی)جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کی آزادی اور خودمختاری پر ایک بار بھی سوالات اٹھا دئیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے گئے دوسرے خط کی کاپی حاصل کر لی گئی جس میں سرینا عیسیٰ نے کہا کہ جس شخص نے اے آر یو کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر مجھ سے متعلق معلومات اکٹھا کیں اسی شخص کو میرے کیس میں اِنکم ٹیکس آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔سرینا

عیسیٰ نے کہاکہ 9 جولائی2020 سے ان سوالات کا جواب مانگ رہی ہوں مگر ایف بی آر حکام میرے پوچھے گئے 12سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔انہوں نے شکایت کی کہ اپنے ٹیکس ریٹرنس کی کاپی کا مطالبہ کیا تھا جو فراہم نہیں کیے جا رہے، ریحان نقوی جنہوں نے میرے ٹیکس ریٹرن فائیل کیے تھے وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر میں 21 جولائی کو خود دوبارہ ایف بی آر میں پیش ہوئی اور جواب الجواب جمع کرایا۔سرینا عیسیٰ نے کہا کہ ایف بی آر کے بھیجے گئے نوٹسز کی تحریروں میں واضح فرق موجود ہے تاہم دونوں پر دستخط کمشنر ایف بی آر ذوالفقار احمد کے ہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایف بی آر حکام کسی سے ہدایات لے رہے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر