موٹروے کیس کے ملزم عابدنے ساتھیوں کیساتھ مل کر 2013 ء میں بھی ایک ماں اور بیٹی کی زندگی برباد کی تھی ، تہلکہ خیز انکشافات

پاکستان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولنگر کی تحصیل فورٹ عباس کے رہائشی عابد علی نےدوستوں کیساتھ مل 2013 میں ایک خاتون اور اس کی بیٹی کی زندگی بھی برباد کی تھی، مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ملزم عابد علی نے 2013 میں اپنے 4 ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک غریب کسان کے گھر ڈکیتی کی واردات کی اور اس دوران اس کی بیوی اور بیٹی کی زندگی برباد کی تھی ۔ قبل ازیں موٹر وے واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث عابد علی سے متعلق ان کے والد نے تصدیق کی ہے کہ میرا بیٹادو روز قبل شام6 بجے میرے گھر چھانگا مانگا آیا تھا۔عابد علی نے رات یہاں گزاری اور دوسرے دن سہ پہر روانہ ہوا۔

یٹے نے پسند کی شادی کی تھی اور ایک بیٹی کا باپ بھی ہے،فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا تھا۔ملزم نے صرف تیسری جماعت تک پڑھا۔اسی تناظر میںوزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے موٹروے کیس میں ملزم کے ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق کر دی۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے میچ کر گیا ہے۔ شہباز گل نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، آئی پنجاب،سی سی پی او لاہور اور ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے مزید کہا کہ انشاللہ جلد گرفتاری بھی ہوگی۔عوام کو پتہ ہو کہ رات 4 بجے تک عثمان بزدار میٹنگ میں تھے آئی جی اورسی سی پی او کے ساتھ۔وزیراعلی نے پورے کیس کی خود مانیٹرنگ کی ہے۔ دریں اثنا کیس کی تحقیقات کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے بنائی جانے والی اعلیٰ سطحی تحقیقات ٹیم کا ایک اجلاس ہفتے کی سہ پہر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مذکورہ سانحہ کی اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور اس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں ٹیم کے سربراہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت سمیت مختلف تفتیشی اداروں کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین ملزمان کی شناخت سامنے آنے کے بعد شدید آگ بگولہ ہو گئے ہیں ، صارفین نے کہا ہے کہ 2013ء کے ظلم کے بعد خاندان کو گائوں سے نکالا لیکن ان جیسے لوگوں کو شرم نہیں آتی ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر