دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن 10 سال کی ہوگئی

سائنس اور ٹیکنالوجی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ یقین کریں گے کہ آپ کے موبائل پر پیغامات بھیجنے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اپلیکشن واٹس ایپ 10 ویں سالگرہ منارہی ہے۔ جی ہاں دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن کو ہماری زندگی کا حصہ بنے ایک دہائی کا عرصہ ہوچکا ہے اور کمپنی 10 ویں سالگرہ مناتے ہوئے اپنے ڈیڑھ ارب سے زائد صارفین کی شکرگزار ہے۔ اس موقع پر واٹس ایپ نےایک بلاگ میں صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک خصوصی ویڈیو اور ایک چارٹ شیئر کیا جس میں اس اپلیکشن کے ہر سال کے سنگ میل

کا احاطہ کیا گیا ہے۔ فیس بک کی زیرملکیت ایپ کے دونوں بانی تو اب اس کمپنی کا حصہ نہیں رہے مگر اس کی مقبولیت میں اب تک کوئی کمی نہیں آسکی ہے۔ اگر آپ کو معلوم نہ ہو تو جان لیں کہ واٹس ایپ کو تشکیل دینے والے جان کوم اور برائن ایکٹن دونوں یاہو میں کام کرتے تھے مگر 2007 میں دونوں نے ملازمت چھوڑ کر فیس بک میں شمولیت کی کوشش کی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں دوستوں نے ہمت نہیں ہاری اور اسی زمانے میں جان کوم کے ذہن میں خیال آیا کہ لوگوں کو اپنے فونز میں اسٹیٹس اپ ڈیٹ کا فیچر دیا جائے اور انہوں نے اپنی سالگرہ کے دن 24 فروری 2009 کو واٹس ایپ کی بنیاد رکھی اور چند مہینوں میں اسے میسجنگ ایپ کی شکل دے دی۔ دلچسپ بات یہ واٹس ایپ کا پہلا ‘دفتر’ ایک گودام کے احاطے میں قائم کیا گیا جہاں کام کرنے والوں کو کمبل اوڑھ کر بیٹھنا پڑتا تھا تاکہ خود کو گرم رکھ سکیں۔ واٹس ایپ کے دونوں بانیوں کا یہ فلسفہ تھا کہ اشتہارات کسی صورت ایپ کا حصہ نہیں بننے چاہئے۔ جان کوم کے مطابق ‘ہم اپنے صارفین کے بارے میں کم سے کم جاننا چاہتے تھے، ہمیں اشتہارات کی کوئی پروا نہیں تھی اور ہمیں ذاتی ڈیٹابیس کی بھی ضرورت نہیں تھی’۔آغاز میں یہ ایپ کافی مشکل تھی اور جان کوم تو 25اسے بند کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے مگر بتدریج بہتری آتی گئی اور محض 6 ماہ میں اس کے صارفین کی تعداد لاکھ تک پہنچ گئی، جس کے بعد اس میں فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ کے فیچر متعارف کرائے گئے۔2010 میں اس میں لوکیشن شیئرنگ کی آمد ہوئی، 2011 گروپ چیٹ اور 2013 وائس میسج کا سال بنا۔ 2014 میں واٹس ایپ میں اس فیچر کی آمد ہوئی جو اب بھیصارفین کو کچھ زیادہ پسند نہیں اور وہ ہے کسی فرد کے میسج پڑھنے پر نمایاں ہونے والے بلیوٹک یا ریڈ ریسیپٹ۔ 2015 میں واٹس ایپ ویب، 2016 میں ہر ماہ استعمال کرنے والے صارفین ایک ارب تک پہنچے، اسی سال اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ ایپ اور ویڈیو کالنگ کو متعارف کرایا گیا۔ 2017 اس ایپ کے لیے اہم ثابت ہوا جب اس نے روزانہ ایک ارب صارفین کے سنگ میل کو چھوا۔جبکہ اسٹیٹس جیسے مقبول فیچر کو بھی پیش کیا گیا اور بھیجے گئے میسج کو ڈیلیٹ کرنا بھی ممکن ہوگیا۔ 2018 میں ماہانہ صارفین ڈیڑھ ارب سے تجاوز کرگئے، واٹس ایپ بزنس ایپ، گروپ کالنگ اور اسٹیکرز سامنے آئے۔ 2019 میں یہ کمپنی اب 10 ویں سالگرہ منارہی ہے۔ابتدائی 4 سال میں واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد 20 کروڑ ہوگئی اور جب فیس بک نے اسے 2014 میں خریدا تو اسے استعمال کرنے والے افراد 50 کروڑ سے زیادہ تھے۔ اب یہ تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کرچکی ہے (یہ اعدادوشمار بھی گزشتہ سال کے ہیں)۔ پبلسٹی یا مارکیٹنگ کیے بغیر بھی واٹس ایپ بہت تیزی سے مقبول ہوئی خاص طور پر ان ترقی پذیر ممالک میں جہاں ایس ایم ایس پر بہت زیادہانحصار کیا جاتا تھا اور 2012 میں یہ ایپ فیس بک کی توجہ کا مرکز بنی۔ 2 سال تک بات چیت کے بعد فروری 2014 کو جان کوم نے اپنی ایپ مارک زکربرگ کو فروخت کرنے پر رضامندی ظاہر کردی اور اس کی قیمت 19 ارب ڈالرز قرار پائی۔ اس معاہدے کے حتمی دستاویزات کے لیے جان کوم نے اس ویلفیئر آفس کو چنا جہاں وہ کسی زمانے میں حکومتی امداد لیا کرتے تھے جسے انہوں نے ایک علامت قرار دیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر