آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر بھارتی فوج کی فائرنگ کے بعد بھارت کا موقف بھی سامنے آگیا،پاکستان پر سنگین الزامات عائد کردیئے

سوشل میڈیا‎‎

مظفر آباد (این این آئی)آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا ہیلی کاپٹر بھارتی فوج کی فائرنگ سے بال بال بچ گیا ٗ خوش قسمتی سے بھارتی فوج کے حملے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ہیلی کاپٹر کو حویلی میں بحاظت اتار لیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اپنے قریبی عزیزکی وفات پر تعزیت کیلئے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں گئے تھے ،

لائن آف کنٹرول کے قریب قائم بھارتی پوسٹ سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی تاہم خوش قسمتی سے بھارتی حملے میں کوئی نقصان نہیں ہوا اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ہیلی کاپٹر کو حویلی میں بحفاظت اتار لیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدہ ماحول میں لائن آف کنٹرول کے قریب پرواز کی اطلاع دونوں جانب سے افواج کو پیشگی دی جاتی ہے اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کے سفید رنگ کے ہیلی کاپٹر کی آمد کی اطلاع بھی پیشگی دی گئی تھی تاہم بھارتی فوج نے اسے پاکستان کا فوجی ہیلی کاپٹر قراردے کر اس پر فائرنگ کر دی ٗبھارت کا یہ عمل دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ ایس او پیز کی بھی خلاف ورزی ہے۔بی بی سی کے مطابق بھارتی وزارت دفاع کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل دیوندر آنند الزام عائد کیا کہ ایل سفید رنگ کے پاکستانی ہیلی کاپٹر نے اتوار کی دوپہر فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔فارورڈ چیک پوسٹوں پر تعینات فضائی سنتریوں نے چھوٹے اسلحے سے فائرنگ کی جس کا مقصد پائلٹ کو باور کرانا تھا کہ وہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور واپس جائے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے کرشنا گھاٹی سیکٹر کے علاقے گلپر پر انڈیا کے مقامی وقت کے مطابق 12 بج کر 13 منٹ پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پھر واپس چلا گیا۔ایک بھارتی ایجنسی نے ہیلی کاپٹر کی پرواز کی 30 سیکنڈ کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ طور پر فضائی حدود میں پرواز کر رہا ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر