مسلم لیگ (ن) نے شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ لگا کر کیا اہم فیصلے کیے؟ کون کون سی قراردادیں منظور کی گئیں؟

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آئی این پی)مسلم لیگ (ن)کے ارکان پارلیمنٹ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی گرفتاری کیخلاف پارلیمنٹکا مشترکہ علامتی احتجاجی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہرہ دستور پر منعقد کیا،جس میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام(ف) کے ارکان پارلیمنٹ اظہار یکجہتی کے طور پر شریک ہوئے،احتجاج میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے شرکت نہ کی،ارکان نے حکومت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے،

اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور شہبازشریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔ احتجاجی اجلاس میں 16اکتوبر کومسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ،نیب اور حکومتی کی انتقامی کاروائیوں کیخلاف ، حکومت کے 55دنوں میں معیشت کو 28ارب کا نقصان پہنچانے ، سی پیک کو متنازعہ بنانے ،آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لینے کیخلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر کے مسلم لیگ (ن)کااپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی گرفتاری کیخلاف علامتی احتجاجی اجلاس سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ،اپوزیشن نے احتجاجی اجلاس کیلئے پارلیمنٹ کے گیٹ پر انتظامات کئے مگر میڈیا کیمروں کو پارلیمنٹ میں داخلے سے روکنے پر اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہرہ دستور پر احتجاجی اجلاس منعقد کیا۔جس میں مسلم لیگ (ن)کے ارکان ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹرز اعظم خان موسیٰ خیل ،عثمان خان کاکڑ،جمعیت علماء اسلام(ف) کے ارکان پارلیمنٹ سینیٹر مولانا عطاالرحمان اور رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے شرکت کی۔احتجاج میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کا کوئی رکن شریک نہ ہوا۔احتجاجی اجلاس میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے خلاف بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ شرکا نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی اور انہوں نے شہبازشریف کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا،اجلاس میں مسلم لیگ(ن)کے رہنما رانا ثنا اللہ نے شہباز شریف کی گرفتاری کے کیس کی تفصیلات پیش کیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب نے شہباز شریف کے خلاف جو کیس بنایا ہے وہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے ،

آشیانہ سکیم کیلئے مالی سال 2012-13میں 13کمپنیوں کو پری کوالیفائی کیا گیا جس میں سے تین کمپنیوں نے بولی لگائی جبکہ لطیف اینڈ سنز کو اس کا کنٹریکٹ دیا گیا جس کے بعد وزیراعظم کو اس عمل سے متعلق شکایت موصول ہوئی تو انہوں نے سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ، اس کمیٹی نے کہا کہ اس عمل میں چند نقائص ہیں جس پر وزیراعلیٰ نے دوبارہ ٹینڈر کرنے کی ہدایت کی ۔ شہباز شریف پر ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں ، دوبارہ ٹینڈرنگ میں دو گروپوں نے حصہ لیا ، اس معاملے میں شہباز شریف پر ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں الزام صرف یہ ہے کہ انہوں نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ٹینڈر منسوخ کرنے کی زبانی ہدایات دیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جس شخص پر 22ارب کے ڈالے کا الزام ہے اور جس کے بارے میں عمران خان نے کہا تھا کہ سب سے بڑا ڈاکو پرویز الٰہی ہے اس ڈاکو کو گرفتار نہیں کیا گیا ، ڈاکوؤں کو جس ڈاکو نے لوٹا وہ بابر اعوان ہے ،

بابر اعوان کو گرفتار نہیں کیا گیا ، ہم شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں ، ہماری شنوائی نہ ہوئی تو یہ احتجاج پارلیمنٹ کے احتجاج سے آگے جائے گا ۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا تنویر حسین نے کہا کہ شہباز شریف کو گرفتار کر کے پارلیمنٹ کی توہین کی گئی ہے ،انہیں پانی کیس میں بلایا گیا اور آشیانہ ہاؤسنگ کے معاملے پر گرفتار کیا گیا ، دو سال سے مسلم لیگ (ن) کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ، کسی جگہ بھی ان کی تسلی نہیں ہو رہی ،جس طرح پری پول دھاندلی کی گئی اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی ، مسلم لیگ (ن) کو انتخابات میں ایک کروڑ تیس لاکھ ووٹ ملے ، شہباز شریف کی گرفتاری ہمیں منظور نہیں ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں ، موجودہ وزیراعظم سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں ، ہمارا مطالبہ تھا کہ فوراً قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اور شہباز شریف کو ہر اجلاس میں لایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری ختم کی جائے ۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد یہ پارلیمنٹ کا پہلا مشترکہ اجلاس ہے ۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان سے 6آزاد سینیٹرز کو منتخب کرا کے ایک آزاد چیئرمین سینیٹ کو منتخب کرایا گیا ،جعلی پارٹیاں بنائی گئیں ، جنوبی اضلاع کا الائنس بنایا گیا اور مختلف الائنسز بنا کر پارٹیاں توڑنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ، الیکشن کمیشن کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں ، اصل مقابلہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان ہے ، چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور دھاندلی زدہ الیکشن ختم کر کے نیا الیکشن کرایا جائے ۔ جے یو آئی (ف) کی رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے کہا کہ عام انتخابات شفاف نہیں تھے ، ہماری اکابرین کو اسمبلی سے باہر کر لیا گیا ،

نیب کی طرف سے انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے ، کیا شق 24ایک ہی خاندان پر لاگو ہوتی ہے جو کہ آپ سے ہر طرح کا تعاون کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مثالی پولیس کا کہا جا رہا تھا لیکن وہ طلباء پر وحشیانہ تشدد کیا گیا ، 80کروڑ سے احتساب کمیشن بنائی گئی ، جب وہ احتساب کرنے لگا تو کمیشن کو ہی اڑا دیا گیا ، نام نہاد حکومت نے مہنگائی کا سمندر لا کھڑ کیا ہے ، لوگ مہنگائی سے رو رہے ہیں ، شہباز شریف کی مثالی خدمات ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی میاں جاوید لطیف نے کہا کہ جب بھی کسی رہنما کو اقتدار سے الگ کرنا ہوتا ہے تو اس پر بغاوت اور کرپشن کے الزامات لگتے رہتے ہیں ، یہ جنگ قوم کی ہے ، یہ وزیراعظم تو بچہ بچونگڑا ہے ، یہ کہتا ہے کہ میری آنیاں جانیاں دیکھو ۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ 2018کا الیکشن کنٹرولڈ تھا ،شہباز شریف کو جھوٹے اور بوگس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے تا کہ ضمنی الیکشن میں ان کا عوام سے رابطہ نہ ہو ،

بہت جلد پوری قوم اس حکومت سے جان چھڑانے کی اذانیں دے رہی ہوگی ۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی برجیس طاہر نے کہا کہ اس سے قبل اپوزیشن لیڈر عبدالولی خان کو گرفتارکیا گیا تھا جس کے بعد اب شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والے وہ لوگ ہیں جو اسمبلی کے جنگلوں پر کپڑے دھو کر ڈالا کرتے تھے ،یہ وہ حکومت ہے جس کے چیئرمین پر ٹیلی ویژن پر حملہ کرنے کا مقدمہ ہے ،یہ حکومت غیر سنجیدہ ہے ، یہ خود ہی کہتے ہیں کہ ہم 100دن پورے نہیں کر سکتے ، 55دن میں 55یوٹرن لے لئے ہیں ، ان کا نام قائد یوٹرن رکھا گیا ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ جن کی گھر والیاں اپنی مدت پوری نہیں کرتیں ان کی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرتیں ، ایسی حکومت کو زبردستی لا کر بٹھایا گیا ہے ،

اگر الیکشن شفاف ہوتے تو یہ اپوزیشن میں بیٹھے ہوتے ، تمام پولنگ اسٹیشنوں پر کیمرے لگے ہوئے تھے ، اگر الیکشن درست ہوا ہے تو کٹھ پتلی وزیراعظم وہ فوٹیج نکالیں اور دنیا کو بتائیں کہ دھاندلی نہیں ہوئی ۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ دھاندلی نہیں ہوئی الیکشن کے نتائج تبدیل ہوئے ہیں ، شہباز شریف ایسا وزیراعلیٰ ہے جس کی تعریف چین اور ترکی کے صدر اور وزیراعظم بھی کرتے ہیں ، پچھلے سال ڈالر 103روپے کا تھا ، وزیراعظم نے کہا تھا آئی ایم ایف کے پاس گئے تو میں خود کشی کر لوں گا ، ہم زخم لگانے والے نہیں مرہم لگانے والے ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ وہ خود کشی کریں کیونکہ قوم کو مسخرے کی ضرورت ہے ، اگر (ن) لیگ کے ہی نقش قدم پر چلنا تھا تو 22سال منہ کالا کرنے کی کیا ضرورت تھی ،جتنے بیان انہوں نے دیے ہیں وہ ان کو چاٹیں گے ،کوکین بڑا برا نشہ ہے ، ریحام خان کی کتاب میں لکھا ہے کہ پہلے تین لائنیں لگا کر سونگھا کرتے تھے اب 8لائنیں لگا سونگتے ہیں ،

ایک لائن چالیس ہزار کی ہے اس طرح 96لاکھ مہینے کے بنتے ہیں ۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ یہ ایک ارب 22کروڑ درخت خیبرپختونخوا میں لگا کر آئے ہیں جس بعد خیبرپختونخوا کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوگیا ہے ،د رخت لگانا مال کمانے کا بہترین طریقہ ہوتا ہے ، انہوں نے ایک ڈیم نہیں بنایا ، ان کا تعلق شوکت خانم ہسپتال سے اتنا ہے کہ یہ اپنے رشتہ داروں کو 6,6لاکھ تنخواہ دے رہے ہیں ،انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو تو ٹھیک نہیں کیا ، کٹھ پتلی وزیراعظم کی جیلیں تو ختم ہوسکتی ہیں لیکن انسان ختم نہیں ہوسکتے ، یہ غبارہ سرعام پٹھے گا ۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ ان لوگوں کو انتقام کیلئے لایا گیا ہے ، یہ بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو کون پیسے دے گا ، یہ ایک ایجنڈے کے تحت آئے ہیں اس قوم کی ڈنکی کنگ سے جان چھڑائی جائے ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ان کو علم ہی نہیں کہ حکومت کس چیز کا نام ہے ،

وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان کی خواہش نیب کا چیئرمین بننے کی ہے ، ان لوگوں کو علم ہی نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں پہلے بھی بکتی تھیں ، یہ سادہ وزیراعظم نہیں ، اس کی حیثیت یہی ہے کہ یہ وزیراعظم ہاؤس میں نہ رہے ، اس کی حیثیت وہی ہے جہاں اس کو رکھا گیا ہے ، وزیراعظم اب لیٹرینوں پر آگئے ہیں ، ان کی سوچ ہی یہی ہے ، جو لوگ ان کو لائے ہیں ہم ان کو کہنا چاہتے ہیں کہ چھوڑو یہ آنکھ مچولی ، ہم بات کرتے ہیں تو مجرم کہلاتے ہیں ، اس بندر کو اسٹیرئنگ پر بٹھایا گیا کہ تم ڈرائیور ہو مگر یہ ڈرائیور نہیں ہے ۔اجلاس میں 7قرار دادیں بھی متفقہ منظور کی گئیں۔مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کیلئے بھی شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ، ہم انتقامی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں جبکہ نیب کی جانبدارانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیِں

جبکہ حکومت کی انتقامی کارروائیوں میں نیب جو سہولت کار بنی ہے اس کی بھی مذمت کرتے ہیں ۔سردار شفیق ترین نے قرارداد پیش کی کہ ہم حکومت کے 55دنوں میں معیشت کو 28ارب کا نقصان پہنچانے پر مذمت کرتے ہیں ، راؤ اجمل نے قرارداد پیش کی کہ حکومت نے سی پیک کو متنازعہ بنایا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ، جے یوآئی (ف) کی رہنما شاہدہ اختر علی نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر قرضہ لینے کی مذمتی قرارداد پیش کی جبکہ شزہ فاطمہ خواجہ نے قرارداد پیش کی کہ حکومت کی ناکامی معاشی حکمت عملی کی وجہ سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا گیا ہے ، تجاوزات کے خلاف آپریشن کا ٹارگٹ صرف ریڑھی والے ہی ہیں سب کے خلاف برابر آپریشن ہونا چاہیے ، محسن شاہ نواز رانجھا نے قرارداد پیش کی کہ ہم چیئرمین نیب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کے چیئرمین حامد خان کو طلب کریں جبکہ پشاور کی مہنگی ترین میٹرو کی بھی تحقیقات کرائی جائیں ۔ سردار ایاز صادق نے رائے شماری کے بعد تمام قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لیں ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر