ریاست کی عملداری چیلنج کرنیوالوں کیخلاف کیا کریں گے، شہر یار آفریدی نے اعلان کر دیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، جو قانون توڑے گا اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے وہ کابینہ یا پارلیمنٹ کے ارکان ہی کیوں نہ ہوں،کسی ملک میں امن نہ ہونے سے اس کی عزت اور توقیر نہیں دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی ہے،قومی سلامتی کے اداروں کی استعداد اور پالیسیاں ملکی مفاد میں نہ بنانے سے آگے کیسے بڑھیں گے ،

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اب ہمیں درست اور غلط کے درمیان ایک واضح لائن کھینچنا ہوگی۔جمعرات کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہاکہ جب کسی ملک میں امن نہیں ہوتا اور اس کی عزت اور توقیر نہیں ہوتی تو دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے قومی سلامتی کے اداروں کی استعداد نہیں بڑھائیں گے اور پالیسیاں ملکی مفاد میں نہیں بنائیں گے تو پھر کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کو شاید اس وقت تک کامیاب نہیں سمجھا جاتا جب تک کوئی جانی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک نے پہلے بھی ایک مرتبہ احتجاج کیا تھا لیکن وزیراعظم اور پاکستان کی حکومت نے ہالینڈ میں خاکوں کا مسئلہ حل کرایا جس کو تحریک لبیک کی قیادت نے بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو ریاستی اداروں کو ہم سب نے اور اس ایوان نے مل کر عزت دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بنانے والے تو موجود ہیں، اگر عدالتی نظام میں سقم ہو تو فوجی عدالتیں ہی قائم کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک لبیک کے ساتھ پرامن مذاکرات کئے اور انہوں نے معذرت بھی کی۔ وزیراعظم اور متعلقہ فریقین کا یہ موقف تھا کہ طاقت کا استعمال نہ ہو۔ نئے پاکستان میں ہم کسی پر گولی چلانے کے حق میں نہیں ہیں، یہ ماضی میں وطیرہ رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طے پایا ہے کہ جو بھی متاثرہ شخص ہے وہ اس کے خلاف درخواست دے سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں بیٹھنے والوں کو جلاؤ گھیراؤ کی تصویریں بھی دکھائی ہیں۔ پتوکی پنجاب اور رشکئی انٹرچینج میں ہونے والے واقعات میں بعض ایسی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ملوث تھے جو ہمیں ایوان میں مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو ہم مثال بنائیں گے۔ تمام ریکارڈ لیا جا چکا ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ

ماضی میں قوانین بنائے جاتے تھے لیکن اپنے مفاد کیلئے ان پر عمل نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب درست اور غلط کے درمیان ایک واضح لائن کھینچنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم کا یہ واضح اعلان ہے کہ قانون توڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، جو قانون توڑے گا اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے

وہ لوگ کابینہ یا پارلیمنٹ کے ارکان ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن اپوزیشن نے اچھی بات کی لیکن دوسرے دن ہی قومی اسمبلی میں کورم توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں بھی شرکت کے لئے جا رہا ہوں۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہئے، خدانخواستہ اگر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا تو اس سے ریاست کا ہی نقصان ہوگا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر