آسیہ بی بی اس وقت کہاں ہیں؟ ترجمان دفتر خارجہ حقائق سامنے لے آئے

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی)ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی سے متعلق اطلاعات کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ آسیہ بی بی محفوظ اور پاکستان میں موجود ہے ،آسیہ آزاد شہری ،عدالتی فیصلہ کے بعد جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے،جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے مقاصد کیلئے پرعزم ہیں،بھارت کی جانب سے بحرہند میں پہلی ایٹمی آبدوز کی تعیناتی سے جنوبی ایشیاء مزید سٹرٹیجک عدم استحکام کا شکار ہو گا،

افغانستان میں طالبان کا بڑھتا کنٹرول باعث تشویش ہے، افغان مسئلہ طاقت سے نہیں مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے،امریکی معاون سیکرٹری خارجہ ایلس ویلز کے دورہ پاکستان پر عافیہ صدیقی کا معاملہ ہم نے اٹھایا، یہ ایک جذباتی معاملہ ہے ، ان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں، پاکستان سعودی عرب اور یمن کے مابین ثالثی پر کام کر رہا ہے، طالبان رہنماء عبدالغنی برادر کو امن کوششوں میں کردار ادا کرنے کی غرض سے امریکی درخواست پر رہا کیا گیا ہے۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ اور صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آسیہ بی بی کی بیرون ملک روانگی سے متعلق میڈیا اطلاعات کو حقائق کے منافی قرار دیا اور کہا کہ آسیہ بی بی محفوظ اور پاکستان میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ آزاد شہری اور عدالتی فیصلہ کے بعد جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بحرہند میں پہلے بھارتی ایٹمی آبدوز کی گشت اور بھارت میں خود ساختہ مبارکبادوں کا نوٹس لیا ہے، جو نہ صرف بحرہند کے علاقائی ممالک بلکہ تمام دنیا کیلئے باعث تشویش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی اعلیٰ قیادت کے لب و لہجہ اور اس اقدام سے جنوبی ایشیا مزید سٹرٹیجک عدم استحکام کا شکار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء میں سٹرٹیجک استحکام کے مقاصد کیلئے پرعزم ہے تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ایٹمی اور روایتی ہتھیاروں سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور

ملکی دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان کے کنٹرول میں اضافہ باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بھی حالیہ ایک رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ طاقت سے نہیں بلکہ پرامن مذاکرات سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے متعلق کانفرنس (آج) جمعہ 9 نومبر کو ماسکو میں منعقد ہو رہی ہے، ایڈیشنل سیکرٹری کانفرنس میں

پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ عافیہ صدیقی بارے ایک سوال کا جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی معاون سیکرٹری خارجہ ایلس ویلز کے حالیہ دورہ پاکستان کے موقع پر عافیہ صدیقی کا معاملہ ہم نے اٹھایا، یہ ایک جذباتی معاملہ ہے اور ان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس معاملہ میں کچھ پیشرفت بھی ہوئی لیکن فی الحال بتا نہیں سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ اور برادارنہ تعلقات قائم ہیں،

پاکستان ایران اور یورپ کے مابین جوہری معاہدے جے سی پی اے کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔ امریکا نے ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات میں 8 ممالک کو استثنیٰ دیا ہے، اس لئے ایران کیساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور وسطی ایشیائی رایستوں کے درمیان خوشگوار دوطرفہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے جنوبی، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی کے تین ارب لوگوں کو فائدہ ہو گا، یہ نہ صرف پاکستان اور چین اور

بلکہ ان تمام ممالک کے مشترکہ مفادات و خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان رہنماء عبدالغنی برادر کو امن کوششوں میں کردار ادا کرنے کی غرض سے امریکی درخواست پر رہا کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ چین بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا ایک پاکستانی وفد چین کے دورہ پر ہے جو (آج) جمعہ کو بیجنگ میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین مختلف شعبوں میں موجودہ

دوطرفہ سٹرٹیجک تعاون کو مزید بڑھانے کی غرض سے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے اور تکنیکی امور پر بات چیت کرے گا۔ ایک سوال پر ترجمان نے بتایا کہ کہ گوانتا ناموبے جیل میں 5 پاکستانی اوریجن سیف اللہ پراچہ، محمد غلام ربانی، ماجد خان، امرالا بلوچ اور عبدالربانی قید ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی اور یمن کے مابین ثالثی ہر کام کر رہا ہے، عراق میں پھنسے پاکستانیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ دیر سے ایئر پورٹ آنے پر 46 پاکستانی زائرین طیارے میں سوار نہ ہو سکے ان کی جلد وطن واپسی کیلئے پاکستانی مشن کے حکام موجود ہیں جبکہ 69 زائرین کووہاں سے ملک پہنچا دی گیا ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر