ٹیکس میں ہر سال کتنے کھرب روپے اضافے کی ضرورت ہے، احسن اقبال کا ایسا مشورہ جو اپنی حکومت کو نہ دے سکے

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے پارلیمنٹ میں ملک کی معاشی صورتحال پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ڈیٹ سروسنگ 1600 ارب کے ڈیفنس بجٹ 1100 ارب روپے 477 ارب روپے گرانٹس ہیں حکومت نے 463 ارب کے اخراجات کو کم کرکے 403 ارب روپے کیا ہے اس سے معیشت کو کیا فائدہ ہوگا انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں ہر سال ایک ہزار ارب روپے کا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو 16 سے 18 فیصد تک لانے

کی ضرورت ہیمنی بجٹ میں ٹیکس میں اضافہ کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ہیپاکستان میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اسلئے ہر سال 20 لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سالانہ جی ڈی پی کی شرح 6 فیصد سے زائد کئے بغیر بیس لاکھ نوکریاں ممکن نہیں ہیں جبکہ پی ایس ڈی پی میں 30 فیصد کٹوٹی سے 4 لاکھ لوگ بیروزگار ہونگے2013 سے لیکر 2018 تک جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہوا اور اسے 3 فیصد سے بڑھا کر5.8 تک پہنچایا گیا حکومت اس میں مزید اضافہ کرے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سماجی انڈیکیٹرز افریقی ممالک سے بھی کم ہیں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تعلیم صاف پانی بھی میسر نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کے ذریعے سوشو اکنامک گروتھ کو بڑھانے کیلئے صوبوں سے مشاورت کی ضرورت ہیموسمیاتی تبدیلی میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا ملک ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پاپولیشن گروتھ ریٹ 2.4 فیصد ہے جسے 1.7 فیصد ہونا چاہئے تھاپاکستان میں سروس معیشت تو بن گئی ہے لیکن ملکی پیداوار مینوفیکچنگ میں اضافہ نہیں ہواسی پیک کے حوالے سے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سی پیک نے ملک کی تقدیر بدلنا ہے سی پیک سے ملک میں توانائی میں اضافہ ہوا اور انڈسٹری چلی ہے چین اور

انڈیا کا تجارتی خسارہ 60 ارب ڈالر ہیچین سالانہ ایک ٹریلین ڈالر کی خوراک امپورٹ کرتا ہیپاکستان کو چین میں خوراک ایکسپورٹ کرنے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہیسی پیک پر حکومت جتنی پختگی کیساتھ کام کرے گی چین کا اعتماد بڑھے گا انہوں نے کہا کہ چین کیساتھ اسپیس کے معاہدے ہماری حکومت نے کئے تھے انہوں نے نکہا کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا منصوبہ پچاس لاکھ گھر ہیں منصوبے میں ویلیو ایڈیشن کے بغیر سستا گھر بنانا ممکن نہیں ہیبجٹ میں اپنا گھر اسکیم کیلئے

ایک ارب روپے کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک بھی آفیسر ایک مرلہ زمین بھی پرائیویٹ کمپنی کو ہاوسنگ اسکیم کیلئے نہیں دے سکتا انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں ایک بھی سرکاری افسر ایک فائل پر دستخط نہیں کرتا انہوں نے کہا کہ سسٹمٹم کو کرپشن سے پاک کرنے کی ضرورت ہیحکومت کے منیجرز کو پتا ہونا چاہئے کہ ملکوں کی پچاس فیصد معیشت سٹرکچر پر انحصار کرتی ہے آنہوں نے کہا کہ حکومت دنیا کو بتائیں کے ملک میں

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات کئی ہمارے دور میں انڈسٹریل گروتھ میں پانچ سال میں پانچ فیصد اضافہ ہوا پی ایس ڈی پی کو تین سو ارب سے بڑھا کر آٹھ سو ارب روپے تک پہنچایا جبکہ فارن ڈائریکٹ سرمایہ کاری میں پانچ سال میں پانچ فیصد اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ فارن ریزورز 17 ارب ڈالر تک پہنچائیں تھے ان کا کہنا تھا کہ سٹاک ایکسچینج کو 20000 پوائنٹ سے 50000 پوائنٹس تک پنچایا ہے سعودی قرض کے حوالے سے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کی جانب سے

ڈیفر ادائیگیوں پر تیل لیا ہے اور تین ارب ریزورز میں رکھے ہیں آئندہ سال جب پاکستان کو چھ ارب ڈالر ادا کرنا ہونگے تو اس وقت مالی صورتحال کیا ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نظر ثانی کرے وزیر خزانہ نے سچ کہا ہے کی پاکستان کا معاشی مسئلہ قرضہ نہیں بلکہ امپورٹ ہیں امپورٹ کو بڑھانے کے حوالے اقدامات کی ضرورت ہے ۔احسن اقبال نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے کچھ ارکان یہاں

سوشل میڈیا کے لئے یہاں کلپ بناتے ہیں جو اشتعال کی وجہ بنتے ہیں تنقید یہاں برداشت کرلی جائے تو گلی محلوں میں گرمی نہیں بڑھے گی معیشت کی درست تشخیص ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ پہلا کام فوری اقدامات ہیں دوسرا کام طویل المدت منصوبہ بندی ہے تیسرا کام مقامی صنعت کو عالمی چیلنجز کے مقابلے میں کھڑا کرنا ہیجس سرمایہ کاری سے ہم شرح نمو سے جو خواب دیکھتے ہیں وہ کبھی پورا نہیں ہوگا ہماری برآمدات عارضی خوشی والی ہے ہم سا ٹھ کی دہائی میں دوسوارب ڈالر سے

نیچے بیس ارب ڈالر تک آگئے ہیں ہم نے کبھی اپنی معیشت کو برآمدات کی پالیسی پر نہیں ڈالا ایک دہائی کی ایکسپورٹ پالیسی بنانا ہوگی اخراجات کو کم کرنا ہوگا ہم ایک دوسرے کے خلاف جھوٹی کہانیاں بیچتے ہیں ہمارے اوپر قرضوں نہیں درآمدات کا بوجھ ہیستر فیصد خام مال امپورٹ کیا جاتا ہے جب بجلی بنی تو ایک سال سے برآمدات بڑھنا شروع ہوگئیں سیاسی صورتحال میں باہر سے پیسہ آنا رک گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پندرہ بیس ارب ڈالر ہر سال زرمبادلہ ملنا چاہئے جو تین ارب ڈالر سے نہیں بڑھ رہا جو برآمدات ہم کررہے اس کی عالمی منڈی میں مانگ نہیں رہی ہمیں دنیا کیساتھ چلنا ہوگا ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر