اعظم سواتی نے 62 لاشوں پر کھڑے ہو کر کیا دھوکہ کیا؟ کیسے بڑے بڑے بیورو کریٹس اور عہدیداروں کو بے وقوف بنایا؟ رؤف کلاسرا ایسی باتیں منظر عام پر لے آئے کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی رؤف کلاسرا نے ایک نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بریگیڈئر صاحب نے ایک میجر زرداد کی ڈیوٹی لگائی، انہیں رقم، آرمڈ گاڑی اور بندے دیے گئے اور کہا گیا کہ یہ نیشنل بینک میں جمع کروا دیں، اس وقت کے بارڈر پر موجود کور کمانڈر کو بھی بتایا گیا اور اسی دن گورنر کو بھی مطلع کیا گیا، ڈی سی او وغیرہ کو بھی بتا دیا گیا کہ ایک ملین ڈالر آ گیا ہے، سب لوگوں کو بریفنگ دے دی گئی اور یہ رقم نیشنل بینک میں جمع ہو گئی،

معروف صحافی نے کہا کہ اب اس کے کلائمیکس پر جاتے ہیں، جب تین دن گزر گئے تو کسی سیانے آدمی نے کہا کہ یہ ایک ملین ڈالر وہ والا نوٹ نہیں ہے اس فوراً پاکستانی روپوں میں کیا جائے۔ ڈی سی او جہانزیب نے لیٹر لکھا کہ ان ڈالرز کو پاکستانی روپوں میں کروائیں، معروف صحافی نے کہا کہ بات ان کی ٹھیک تھی کہ ہم نے لوگوں کو کھانا پلانا ہے کسی کو رقم دینی ہے۔ جب ان ڈالرز کو کنورٹ کرنے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ سارے نوٹ ہی جعلی ہیں، یہ خبر ملتے ہی تھرتھلی مچ گئی، سب کو اپنی نوکری کے لالے پڑ گئے، اب کہا گیا کہ ڈھونڈیں اعظم سواتی صاحب کو وہ کدھر ہیں، مانسہرہ کی ساری سول انتظامیہ تین دن تک انہیں ڈھونڈتی رہی لیکن وہ نہ مل سکے، اب ان لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ہمارے ساتھ جو ہاتھ ہوا ہے اسے کور کیسے کیا جائے۔ آخر کار تین دن بعد اعظم سواتی صاحب مل گئے، اعظم سواتی نے کہا کہ یہ تو بچوں کے کھیلنے کا نوٹ ہے میں نے تو مذاق کیا تھا، آپ لوگ جب مانگنے کے لیے آئے تھے تو یہ اندر پڑا تھا میں نے اٹھا کر دے دیا، یہ الفاظ رپورٹ میں درج ہیں، معروف صحافی نے کہا کہ اعظم سواتی نے آگے سے ہنس کر دکھا دیا اور کہا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ یہ جعلی نوٹ ہے اور یہ میں نے غلطی سے دے دیا ہے، وہاں 63 لوگ مار گئے ہیں اور اعظم سواتی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔

زیب اللہ خان کی جب طلبی کی گئی تو انہوں نے لیٹر میں لکھا کہ ہمیں تو یہ بڑے معزز آدمی نظر آئے، 62 لاشیں پڑی ہوئی تھیں ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی بندہ امریکہ سے آئے اور شکل سے بھی انتہائی معزز آدمی لگے، ہم نے تو اس وقت ان پر یقین کر لیا لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ اتنے بڑے سانحہ پر بھی کوئی شخص قوم سے مذاق کر سکتا ہے۔ ان لاشوں پر کھڑے ہو کر جعلی نوٹ دے کر کوئی مذاق تھوڑی کرے گا۔ اس طرح اعظم سواتی نے اس وقت بڑے بڑے بیورو کریٹس اور عہدیداروں کو بھی بے وقوف بنا دیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر