سٹاک مارکیٹ پھر کریش، سرمایہ کارسر پکڑ کر بیٹھ گئے

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ترسیلات زر میں کمی اور عالمی بینک کی جانب سے ایمر جنسی قرض کی منسوخی کے بعد سٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھائو،نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز سٹاک مارکیٹ نے 450 پوائٹس کی کمی کے ساتھ 39 ہزار کی نفسیاتی حد کھو دی تھی اور 38 ہزار 851 پر بند ہوئی تاہم آج صبح جب کا روبار کا آغاز ہواتو سٹا ک مارکیٹ میں یک دم کمی دیکھنے میں آئی اور یہ مسلسل تنزلی کا شکار ہوتے ہوئے 38 ہزار 130 کی سطح پر آ گئی

جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 60 ارب سے زائدکا نقصان ہونے کا خدشہ ہے ۔تاہم اب سٹاک مارکیٹ میں معمولی بہتر ی آنا شروع ہو گئی ہے اور 152 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 38 ہزار 298 کی سطح پر آ گیا ہے۔واضح رہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم میں نومبر 2018ء میں بڑی کمی ہوئی ہے ، ترسیلات زر میں 400ملین کی بڑی کمی کے ساتھ نومبر میں پاکستان کو موصول ہونیوالی رقم 1.6 بلین ڈالرز رہی جو کہ 20فیصد کمی ہے ، گزشتہ سال اکتوبر 2018ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے دو بلین ڈالرز پاکستان بھیجے گئے تھے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانیوالی رقومات میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو بیرون ملک ادائیگیوں کے سلسلے میں مزید مشکلات کاسامناکرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پہلے ہی انتہائی بری حالت میں ہیں جو کہ صرف ڈیڑھ ماہ کی امپورٹ کی ادائیگیوں کے لئے کافی ہیں،معاشی تجزیہ نگار چندر کمار کا انگریزی جریدے کو کہناتھا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے نومبر تک ایوریج ماہانہ ترسیلات زر 1.8بلین ڈالرز رہیں جو کہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان اپنے ٹارگٹ 22بلین ڈالرز سے کافی دور ہوچکاہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں کمی کی بڑی وجہ پوری دنیا میں معاشی سرگرمیوں کا کم ہونا بھی ہے ، انہوں نے بتایا کہ تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے پاکستان کو فائدہ ہوسکتاہے۔نومبر 18میں سعودی عرب سے پاکستان بھیجی جانیوالی ترسیلات زر 352.64 ملین رہی جو کہ اسی عرصے میں گزشتہ سال 409.52ملین تھیں،اسی طرح متحدہ عرب امارات سے اس سال نومبر 2018ء میں 343.21 جبکہ گزشتہ سال 352.64رہی ۔علاوہ ازیں ملک پر غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ،

بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 96ارب ڈالر سے ‎تجاوز کر گیا۔اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق 30ستمبر 2018 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں غیر ملکی قرضوں اور واجبات کا حجم 96ارب 73کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگیا۔جو کہ گزشتہ سال ستمبر میں 85ارب 64کروڑ20 لاکھ ڈالر تھا، ایک سال میں 11 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا۔اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں غیر ملکی قرضوں میں ایک ارب انتالیس کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس رقم میں چین سے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کے لئے لئے گئے تین ارب ڈالر شامل نہیں ہیں، چین کی جانب سے اس رقم کی آخری قسط رواں سال جولائی میں ملی تھی۔ یہ تین ارب ڈالر ملنے کے بعد قرضوں کا حجم تقریبا100ارب ڈالر ہوجائے گا۔اعداد وشمار کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لئے گئے قرض کا حجم 27ارب 60کروڑ ڈالر ہے۔گذشتہ روز مرکزی بینک نے ٹی بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی کا شیڈول جاری کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ دسمبر سے فروری 2019 تک حکومت 3650ارب روپے قرضہ لے گی، قرضہ ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی سے لیا جائے گا۔‎

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر