بھاگنے والے نہیں ٗاپوزیشن کو دبانے کیلئے اگرنیب کو استعمال کرنا ہے تو ہم بھی۔۔۔ شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں دبنگ اعلان کردیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ٗسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ احتساب سے بھاگنے والے نہیں ٗاگر اپوزیشن کو دبانے کے لیے نیب کو استعمال کرنا ہے تو اس کیلئے تیار ہیں ٗآج میڈیا ٹرائل ہوگیا تو کل انصاف کہاں ملے گا ؟جو آج ہورہا ہے وہ پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی چیزوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ٗانصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے ٗ اسپیکر اسمبلی احتساب سے نہیں انتقام سے اراکین اور پارلیمنٹ کو بچائیں ٗ

ملک نے وزیروں کو فیل کردیا لیکن وزیراعظم نے انہیں پاس کردیا ٗوزیراعظم عمران خان کا ہیلی کاپٹر کیس نیب میں چل رہا ہے، اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو قائد ایوان کو بھی کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے ٗ سپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیر دفاع کے خلاف کیس چل رہا ہے تو انہیں بھی گرفتار کرلیں ٗجہانگیر ترین کے بارے میں عدالتی حکم آیا وہ بھی آزاد پھر رہے ہیں ٗجو معیار سعید رفیق ٗ شہباز شریف، نواز شریف کیلئے رکھا ہے اگر حکومت پر لاگو ہوا تو 70 فیصد کابینہ ممبر اندر نہ ہوئے تو ذمہ دار میں ہوں ٗخواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں ٗنیب کالا قانون ہے ٗانسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے ٗہمارے خلاف جو کرنا ہے کرلیں مگر ملک کو ایسے قوانین دیں جو کالے قوانین نہیں۔ بدھ کو ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتساب ہم سے شروع کریں اس کے مخالف نہیں لیکن اپوزیشن کو دبانے کا طریقہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے حق میں نہیں، آج نیب اپوزیشن ممبران پر الزامات لگاتا ہے جس سے لگتا ہے وہ واقعی مجرم ہیں، آج میڈیا ٹرائل ہوگیا تو کل انصاف کہاں ملے گا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا گیا اور آج تک کیس نہیں بن سکا، اپوزیشن کو دبانے کیلئے احتساب کے ادارے استعمال کیے جا رہے ہیں، ہم احتساب سے نہیں گھبراتے لیکن انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جو آج ہورہا ہے وہ پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی چیزوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، لیکن وہ آمر کا دورہ تھا، ملک میں جمہوریت نہیں تھی لیکن آج اس کا کیا جواز ہے، کوئی جواب دینے والا ہے، اسپیکر اسمبلی احتساب سے نہیں انتقام سے اراکین اور پارلیمنٹ کو بچائیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں جن کا نام ای سی ایل پر نہیں لیکن ایف آئی اے نے ایئرپورٹ پر روک لیا جب کہ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہے

لیکن وزیراعظم اپنے جہاز میں بٹھا کر انہیں عمرے پر لے جاتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ہیلی کاپٹر کیس نیب میں چل رہا ہے، اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو قائد ایوان کو بھی کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور وزیر دفاع کے خلاف کیس چل رہا ہے انہیں بھی گرفتار کرلیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ کے پی کا احتساب بیورو بنا تھا ٗ اربوں کاخرچہ ہوا کوئی پوچھنے والا نہیں،

جہانگیر ترین کے بارے میں عدالتی حکم آیا وہ بھی آزاد پھر رہے ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب کی سابقہ کارکردگی دیکھ کر ان کا تقرر کیا، اگر احتساب چاہتے ہیں تو مجھ سے شروع کریں اور ہر ممبر بتائے جب سیاست میں آیا تھا تو اس کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اس ہاؤس سے احتساب شروع کیا جائے اور یہ بھی بتائیں کہ اس ہاؤس کے ممبران کتنا ٹیکس دیتے ہیں، ادارے آپ کے پاس ہیں اور ریکارڈ آپ کے پاس ہیں، پتہ کریں کونسی کرپشن ہوئی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ

کونسی کرپشن ہماری حکومت میں ہوئی، جو معیار شہباز شریف، نواز شریف اور سعد رفیق کے لیے رکھا ہے اگر وہ حکومت پر لاگو ہوا تو 70 فیصد کابینہ ممبر اندر نہ ہوئے تو ذمہ دار میں ہوں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جو نیب آج کر رہا ہے وہ احتساب نہیں ملک کی تباہی کا راستہ ہے، آج بیوروکریٹ کام نہیں کرتے، سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق پر ساڑے 4 سو ارب کا مقدمہ بنایا اور 7 سال گزر گئے لیکن کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے واضح پابندی کے باوجود نیب کے چیئرمین اور دیگر حکام اپوزیشن کے رہنماؤں کا نام لے لے کر ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہیں ٗ شفاف ٹرائل کے حوالے سے

آئین کا آرٹیکل 10 بھی پڑھ لیں۔ اگر اپوزیشن کا احتساب ہو رہا ہے تو حکومتی اکابرین اور ان کے عزیزوں کے ساتھ بھی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہم پروٹیکشن نہیں انصاف کے طلب گار ہیں ۔ انہوں نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں۔ بعد ازاں وزیر اطلاعات و نشریات کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب چیئرمین کا تقرر اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کرتے ہیں ٗہم نے

ان کی تقرری ان کا ریکارڈ دیکھ کر کی ہے ٗ ہم ان کے بارے میں بات نہیں کر رہے۔ ہم نے اس ایوان کے ارکان کی تضحیک کی بات کی ہے۔ ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارا پاکستان جانتا ہے کہ یہاں چور کون ہے اور کون نہیں ہے ٗیہ بتائیں کہ ایوان کا کون کون سا رکن کتنا ٹیکس دیتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کوئی افسر کام نہیں کرنا چاہتا۔ وہ کہتا ہے کہ کل انہیں نیب سے کون بچائے گا۔ میں نے کسی کے خلاف بات نہیں کی۔ پارلیمنٹ کے حق میں بات کی ہے ٗ

اگر مجھے اور میری کابینہ کو جیل بھیجنے سے ملک کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں تو یہ بھی کرلیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شفقت محمود نے جو اعداد و شمار بتائے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ اس معاملے پر بحث کرلیں ہم حاضر ہیں۔ تمام اعداد و شمار قوم کے سامنے رکھ دیں گے۔ نیب کالا قانون ہے انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔ ہمارے خلاف جو کرنا ہے کرلیں مگر ملک کو ایسے قوانین دیں جو کالے قوانین نہیں ہیں جس نے قوم کا پیسہ کھایا ہے اس کا حساب دینا چاہیے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر