سب کو اپنے اپنے کرتوت یاد ہیں اس لئے گھبرائے ہوئے ہیں فواد چوہدری کا جوابی وار ،سیاسی مخالفین کو کیا کچھ کہہ ڈالا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ سب کو اپنے اپنے کرتوت یاد ہیں اس لئے گھبرائے ہوئے ہیں ٗ جو ادارے احتساب کررہے ہیں اس میں کسی صورت رکاوٹ نہیں ڈالیں گے ٗ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی پانچ، پانچ سال اقتدار میں تھیں ان کو بیٹھ کر خامیاں دور کرنا چاہیے تھیں ٗاپوزیشن کی خواہش ہے کہ جو لوگ اسمبلی میں آئے انہیں کرپشن کا لائسنس مل گیا ٗ اگر ہم ان داغ دار لوگوں سے ملک کے عوام کے پیسے واپس نہ لے سکے تو پی ٹی آئی کو

حکومت کرنے کا حق نہیں ٗپاکستان میں پہلی بار شفاف احتساب ہورہاہے ٗ نیب اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں ٗ ان لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ بدھ کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بعد اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لگتا ہے ساری اپوزیشن کو اپنا خطرہ پڑا ہے ٗ سب کو اپنے اپنے کرتوت یاد ہیں اس لیے گھبرائے ہوئے ہیں، ان کی حالت یہ ہے کہ جواب نہیں سننا چاہتے، چور کی داڑھی میں تنکا ہے اور بہت بڑا تنکا ہے، یہ لاڈلے کھیلنے کو چاند مانگ رہے ہیں، یہ چاہتے ہیں ان سے باز پرس نہ ہو۔فواد چوہدری نے کہاکہ عوام احتساب چاہتی ہے، عوام چاہتی ہے کہ دس سالوں میں جو لوٹ مار کا بازار لگایا گیا اس کا حساب دیں، نیب اور ادارے جو احتساب کررہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں، اپوزیشن چاہتی ہے حکومت اس میں رکاوٹ ڈالے مگر ایسا نہیں ہوگا ٗ یہ حکومت عوام کی خواہشات کی ترجمان ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ نیب آزاد ادارہ ہے اور ہمارے ماتحت نہیں ہے، یہ وہ مقدمات ہیں جو نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے دور میں بنے، یہ موجودہ سیٹ اپ اسی وقت کا ہے جب یہ اقتدار میں تھے، اب جب آپ اقتدار سے باہر نکلے اور ہاتھ آپ پر پڑا تو قانون میں خامیاں یاد آگئی ہیں، جب معاملہ دوسروں کیلئے چل رہا تھا تو وہ درست تھا، دونوں جماعتیں پانچ، پانچ سال اقتدار میں تھیں ان کو بیٹھ کر خامیاں دور کرنا چاہیے تھیں، ہمیں تو پہلے ہی دن خامیوں کا کہا گیا، ہم نے پہلے دن ہی ٹاسک فورس بنائی اور اپوزیشن کی کمیٹی بھی بنادی۔فواد چوہدری کا نے لگ رہا ہے اپوزیشن کی خواہش ہیکہ جو لوگ اسمبلی میں آئے انہیں کرپشن کا لائسنس مل گیا، عوام کے پیسے کا حساب دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے چیئرمین سے لے کر تمام وہ لوگ جو منی لانڈرنگ میں ملوث تھے انہیں اہم عہدوں پر لگایا گیا، انہیں کیوں لگایا گیا؟ کس کا پیسہ باہر بھیج رہے تھے؟ یہاں سے پیسہ باہر بھیجا گیا، ان لوگوں نے جب سیاست شروع کی تو ان کے پاس موٹرسائیکل تھی اب ان کے پاس گاڑیاں ہیں،

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ پیسہ کہاں سے آیا، کوئی پوچھ لے تو ایوان کا تقدس خراب ہوجاتا ہے، ان کو سعد رفیق یا شہباز شریف کا دکھ نہیں بلکہ اپنی باری کا دکھ ہے اس لیے زیادہ اچھل رہے ہیں، یہ وہی ہیں جنہیں پتا ہے دس سالوں کا حساب دینا ہوگا، اگر ہم ان داغ دار لوگوں سے ملک کے عوام کے پیسے واپس نہ لے سکے تو پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا حق نہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار شفاف احتساب ہورہا ہے، وزیراعظم اس معاملے میں پرعزم ہیں، کوئی بھی کسی بھی پارٹی کا ہو

اس کا حکومت پر کوئی کنٹرول نہیں، ہم سمجھتے ہیں احتساب کے عمل کو جس طریقے سے متنازع بنارہے ہیں اس کا فائدہ نہیں ہوگا، نیب اور عدالتیں اپنا کام کررہے ہیں انہیں اپنا کام کرنے دیں، آپ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں، آپ لوگوں نے جو سلوک پاکستان کے ساتھ کیا اس پر لوگوں سے معافی مانگیں پھر آگے چلیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اپوزیشن کو دوسرے کی بات سننے کی بھی عادت ڈالنی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) جنرل ضیاء الحق نے بنائی تھی

اس لئے یہ دوسروں کی بات نہیں سننا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ سعد رفیق کی گرفتاری ہائی کورٹ کی طرف سے ضمانت کی منسوخی کے بعد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ یہ کتنے معصوم تھے ٗجس طرح گزشتہ پانچ سے دس سالوں تک ملک چلایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے درست کہا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے تاہم انہوں نے یہ بات نظر انداز کردی ہے کہ نیب کے موجودہ چیئرمین کو انہوں نے تعینات کیا ہے ٗموجودہ نیب کا ایک چپڑاسی بھی ہمارا لگایا ہوا نہیں ہے۔.

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جو لوگ دیال سنگھ کالج کے باہر بسیں روکتے تھے اب ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالک بن گئے ہیں۔ انہوں نے پنجابی کا محاورہ سنایا کہ ’’ جناں کھادیاں گاجراں ڈھڈ انا دے پینڑ‘‘ انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل کو متنازعہ بنانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ٗنیب اور عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیں ٗ ان لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر