اسلام آباد نہیں بلکہ پورے ملک سے منشیات کی لعنت کا خاتمہ کرینگے ،شہریار آفریدی،والدین سے کیا اپیل کردی؟

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ صرف اسلام آباد سے نہیں بلکہ پورے ملک کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنا ہے ،حکومت سے زیادہ ذمہ داری والدین کی ہے ان کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں ،وزیر مملکت نے والدین کو مشورہ دیا کہ وقت سے پہلے اپنے بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے روکیں ،جن مدارس میں بچوں کاکوئی ولی وارث نہیں ان کی ذمہ داری حکومت لے گی،جب تک ہم اکھٹے نہیں ہوتے تب تک دشمن ہم پر حملہ کرتا رہے گا ،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کو منشیات سے پاک کرنے کے حوالے سے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے ایک اچھی ٹیم ملی ہے جس کی مدد سے ہم منشیات کا خاتمہ کر سکتے ہیں،آج کی تقریب وہ قدم ہے جب آپ منشیات کے عادی ہو جائے اور کسی سے مدد نہ مانگ سکیں،گھر میں یا کسی رشتہ دار سے کچھ شئیر نہ کر سکیں،اس سب کی وجہ ہمارے اپنوں سے فاصلوں کی وجہ ہے،ایسا زمانہ بھی تھا کہ کسی کی وفات پر 40 دن تک ٹی وی ریڈیو نہیں لگایا جاتا تھا،اس وقت ایک دوسرے کے لئے ایک درد،احساس اور جذبات ہوتے تھے ،انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی ذمہ داری ماں باپ کی ہوتی ہے،بچوں کے عیبوں پر پردے ڈالنے پر ماں باپ ذمہ دار ہوتے ہیں ،بچوں کی ماں باپ سے بھی زیادہ ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے،منشیات کے بارے میں سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے،ہمیں اپنے بچوں کو وقت دینا ہوگا،والدین کو چائیے کہ وہ موبائل فون گیجٹس بچوں کو وقت سے پہلے نہ دیں،صرف اسلام آباد کو منشیات سے پاک نہیں کرنا بلکہ پورے ملک کو اس لعنت سے پاک کرنا ہے۔ ہمیں ایک ٹیم بن کر منشیات کے خلاف کام کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو مدرسے میں بھیجتے ہیں جن کا کوئی وارث نہیں ہوتا، اب یہ حکومت اس بچوں کی حفاظت اور ذمہ داری لے گی،وزیراعظم مجھ سے روزانہ کی بنیادوں پر رپورٹ طلب کرتے ہیں،اس لعنت سے چھٹکارا کے لیے ہم نے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے،ہم نے اے این ایف کے ساتھ مل کر منشیات کا خاتمہ کرنا ہے،اگر چاہتے ہیں کہ۔دنیا ہماری عزت کرے تو ہمیں عملی اقدامات کرنے ہونگے،ہمیں اپنے پیاروں کے درمیان کی تحفظ مل سکتا ہے،جب تک ہم اکھٹے نہیں ہوتے تب تک دشمن ہم پر حملہ کرتا رہے گا ،قبل ازیں چیف کمشنر اسلام آباد عامراحمد علی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لئے کوشاں ہیں،معاشرے سے منشیات کے خاتمے کے لئے سزاؤں میں اضافہ کیا جا رہا ہے،منشیات کے خاتمے کے لیے علما کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،بعد ازاں آئی جی اسلام آباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے نکل کر ہم منشیات کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ،ہمیں مل جل کر منشیات کے خاتمے کے لئے کام کرنا ہوگا،اساتذہ اور والدین کو بچوں پر نظر رکھنا ہوگی،خدا کا شکر ہے کہ اس طرح کا معاملہ نہیں کہ منشیات سے ہمیں بہت بڑا خطرہ ہو،منشیات کا شکار افراد کو مریض سمجھ کر ٹریٹ کرو۔ریجنل کمانڈر اینٹی نارکوٹکس فورس بریگیڈئر مبشر کاظمی نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منشیات ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے،روزانہ کی بنیادوں پر میں والدین کی منشیات کے بارے کالز وصول کرتا ہوں،ہم نے تمام زمہ داری حکومت کے سپرد کر رکھی ہے،منشیات ایک معاشرتی مسئلہ ہے اسے معاشرے کی سطح پر ہی حل کرنا ہوگا،ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف کوئی کام نہیں ہورہا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر