چوری شد ہ موبائل ریکور کرانا انتہائی آسان ، پولیس نے ایپلی کیشن تیار کرلی

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی) کیپیٹل سٹی پولیس لاہور نے موبائل فونز کی چوری روکنے اور چوری شدہ موبائل ریکور کرنے میں معاون ایپلی کیشن تیار کر لی ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے تیار ہونے والی آسان اور زبردست خصوصیات کی حامل E-GADGET مانیٹرنگ سسٹم ایپ کو اینڈرائیڈ اور آئی اوایس ز سٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔ پائلٹ موبائل ایپ کے حوالے تعارفی تقریب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کے دفتر میں ہوئی جس کے مہمان خصوصی کیپیٹل سٹی پولیس چیف بی اے ناصر تھے۔

اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید، ڈی آئی جی آپریشنز وقاص نذیر، ایس ایس پی ایڈمن منتظر مہدی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر، ایس ایس پی (سی آر او) احسن سیف اللہ سمیت اعلیٰ پولیس افسر، تاجر رہنما اور میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے۔ ای گیجٹ ایپ کے تحت موبائل فون کے کاروبار سے منسلک افراد خود کو ایپ کے لئے با آسانی رجسٹر کرا سکیں گے۔ دکاندار ہر شخص کے موبائل فون کا IMEI نمبراس ایپلی کیشن میں لازمی محفوظ کریں گے۔ اس طرح چوری ہونے والے موبائل کا ڈیٹا بیس پولیس کے پاس دستیاب ہوگا۔ ڈی آئی جی ڈاکٹر انعام وحید نے بتایا کہ موبائل فون کی خرید و فروخت، مرمت اور سافٹ وئیر انسٹالیشن سے منسلک افراد ہر آنے والے متعلقہ شخص کے موبائل فون کا IMEI نمبر اس ایپلیکیشن میں لازمی محفوظ کریں گے۔ اس طرح چوری ہونے والے موبائل کا ڈیٹا بیس پولیس کے پاس دستیاب ہوگا اور چوری ہونے والے موبائل فون کا IMEI نمبر کسی صورت تبدیل نہیں کرایا جا سکے گا اور چور موبائل فون کو کہیں فروخت یا استعمال نہیں کر سکے گا۔ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر نے موبائل ایپ کی تیاری کو ایک انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایپ کے موثر استعمال سے چوری شدہ موبائل فون کے استعمال کے ذریعے کئے گئے جرائم میں 60سے 70 فیصد کمی آئے گی۔ انہوں نے تاجر رہنماؤں کو یقین دلایا کہ اس ایپ کے ذریعے موبائل فونز کی خرید وفروخت کے کاروبار کو تحفظ ملے گا۔ ایپ میں خریدار اور دکاندار کی فوٹو بھی ہوگی۔ کارروائی مکمل ہونے پر دکاندار الزام سے بری الذمہ ہو جائے گا۔ موبائل ایپ میں فون چوری کی ایف آئی آر بھی خودبخود سامنے آ جائے گی۔ موبائل چوری کا ہونے کی صورت میں پولیس کو الرٹ جاری ہو جائے گا اور ملزم کو پکڑ جائے گا۔ موبائل ایپ فون چھیننے اور چوری ہونے کی روک تھام میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ سی سی پی او نے کہا کہ پہلے چوری ہونے والے موبائل کا ڈیٹا آن لائن دستیاب نہیں تھا جس کی وجہ سے چور آسانی سے فون بیچتے تھے۔ لاہور میں کامیابی کی صورت میں ایپ کا دائرہ کار وسیع بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایپلی کیشن کی تیاری میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر اور ایس پی سی آر او احسن سیف اللہ کی کاوشوں کو سراہا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر