اجلاس کو کوئی بھی ہائی جیک نہیں کر سکتا ، تقرریاں کیخلاف بولنے والوں کو احسان مانی نے تابڑ توڑ جواب دیدیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کار کر دگی اور کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس کے دور ان ہونے والی صورتحال پر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئر مین پی سی بی احسان مانی کو اسلام آباد طلب کرلیا ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کرکٹ بورڈ کی کارکردگی اور کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس کے دور ان ہونے والی صورتحال پر پر سخت برہمی کااظہار کیا ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے احسان مانی کو فون اور صورتحال سے متعلق معلومات لیں ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے چیئر مین پی سی بی کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے

اور آئندہ ایک دو روز میں ملاقات میں کا امکان ہے ۔دریں اثناء پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اکثریتی اراکین نے ایم ڈی پی سی بی وسیم خان اور نئے مجوزہ ڈومیسٹک اسٹرکچر کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری تک اجلاس میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔بدھ کو پہلی مرتبہ کوئٹہ میں منعقدہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا گورننگ بورڈ کا 53واں اجلاس اختلافات کی نذر ہو گیا جہاں بورڈ کے اکثر اراکین نے ایم ڈی پی سی بی کو ہٹانے سے سمیت متعدد مطالبات کی حامل کی قرار پیش کی۔اجلاس شروع ہوا تو 5 اراکین نے قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی جس میں ناصرف ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے خاتمے سے متعلق ڈومیسٹک کرکٹ کے مجوزہ اسٹرکچر کو مسترد کیا گیا بلکہ ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کی تقرری کو بھی غیرقانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیاتاہم ایجنڈے سے ہٹ کر قرارداد پیش کرنے پر چیئرمین پی سی بی اور چند اراکین نے مخالفت کی جس پر قرارداد پیش کرنیوالے ارکان نے مطالبات کی منظوری تک اجلاس میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق اراکین نے بورڈ کا اجلاس 30 اپریل کو لاہور میں بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق چار ریجنز اور چار محکموں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے۔اراکین نے محکمہ جاتی کرکٹ ختم کرنے کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کی تقرری کو بھی چیلنج کردیا اور تقرری کو کالعدم قرار دیا۔اراکین نے بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کی جانب سے وسیم خان کے اختیارات سے متعلق ایجنڈے کو پیش کرنے سے قبل ہی ماننے سے مکملطور پر انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق گورننگ بورڈ کے ان اکثریتی اراکین نے ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کے لیے نئی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے جبکہ 10 روز میں نیا اسٹرکچر تجویز کرکے 30 اپریل کو پیش کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد پر پانچ اراکین کے دستخط ہیں، اجلاس میں گورننگ بورڈ کے پانچ اراکین کے احتجاج کرنے پر تلخی بھی ہوئی۔گورننگ بورڈ کے اراکین نے مطالبات ماننے تک بورڈ کے اجلاس کا بائیکاٹ جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔کوئٹہ میں گورننگ بورڈ کے اجلاس میں 7 میں سے 5 ارکان کا بورڈ کے ایجنڈے کو ماننے سے صاف انکار کا سیدھا مطلب چیئرمین پی سی بی احسان مانی کے خلاف عدم اعتماد کے مترادف ہے۔پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ کورم پورا نہ ہونے کے سبب اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔اعلامیے کے مطابق پانچ اراکین نے ایجنڈے سے ہٹ کر قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی جس پر پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی بھی معاملہ اجلاس کے اختتام پر پیش کیا جائے لیکن خان ریسرچ لیبارٹریز اور چار ریجنز کے نمائندوں نے اجلاس میں واپسی سے انکار کردیا۔پی سی بی چیئرمین نے اپنے بیان میں اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا

کہ مجھے امید تھی کہپاکستان کرکٹ کے لیے موثر اور اسے بہتر بنانے کی بات کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کی تاکہ صوبے میں کرکٹ کو فروغ دیا جا سکے لیکن مجھے زیادہ افسوس اس بات پر ہوا کہ بلوچستان کے نمائندوں نے بھی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین احسان مانی نے واضح کیا ہے کہ اجلاس کوکوئی بھی ہائی جیک نہیں کر سکتا ، ہونے والے فیصلے تبدیل نہیں ہونگے ، ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کی تعیناتی بورڈ آف گورنرز کا فیصلہ تھا،ہم کرکٹ کو تگڑا کرینگے ،ہمیں صرف کرکٹ کے بارے میں

سوچنا چاہیے،کسی کا سیاسی ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ بدھ کویہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسان مانی نے کہاکہ بورڈ کے جو فیصلے ہو چکے ہیں وہ تبدیل نہیں ہوں گے اور کوئی بھی اس طرح آکر اجلاس کو ہائی جیک نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کرکٹ کو تگڑا کریں گے، ہمارا پہلے بھی منصوبہ تھا کہ 6 یا 8 ریجن کھیلیں گے اور اب بھی ہے کہ 6 کھیلیں گے، اس میں زیادہ فرق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ نیچے اسٹرکچر وہی ہو گا جو پہلے تھا بلکہ مضبوط ہو گا لیکن اس کے نتیجے میں لوگوں کے ذاتی مفادات ختم ہو جائیں گے۔احسان مانی نے انکشاف کیا کہ جن پانچ لوگوں نے قرارداد پر دستخط کیے ہیں،ان میں سے 4 لوگ پہلے ہی ااس

کی منظوری دے چکے ہیں، انہوں نے قرارداد پر دستخط کر دئیے لہٰذا انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کس منہ سے یہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ پی سی بی کے آئین کی بات نہیں بلکہ بورڈ آف گورنرز کا فیصلہ تھا لیکن یہ اسے مسترد نہیں کر سکتے کیونکہ بورڈ میٹنگ ہی منعقد نہیں ہوئی۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ایم ڈی پی سی بی وسیم خان کی تعیناتی بورڈ آف گورنرز کا فیصلہ تھا، بورڈ کے فیصلے تبدیل نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ کرکٹ میں اصلاحات کو کوئی نہیں روک سکتا، ہم نے شروع سے کہا ہے کرکٹ کو بہتر کریں گے، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کوئی رکاوٹ آئے گی، ہمیں صرف کرکٹ کے بارے میں سوچنا چاہیے،کسی کا سیاسی ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر