مودی کا خیال تھا کہ کشمیر معاملے پر عمران خان کا رویہ بزدلانہ، معذرت خواہانہ ہو گا مگر جب بھارت کو گریبان سے پکڑا، مودی نے ٹرمپ شکایت لگا دی، اب بھارت کو ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا کیونکہ۔۔! معروف صحافی کے حیرت انگیز انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف صحافی و کالم نگار ارشاد بھٹی نے اپنے کالم بعنوان تھوڑا سا صبر اور! میں وزیراعظم سے اپنی ملاقات کا احوال لکھا، انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ وزیراعظم سے ملاقات سوا پانچ بجے تھی، شاید اسی رش کی برکت، ملاقات آدھا گھنٹہ لیٹ ہوئی، وزیراعظم دفتر کے سامنے ویٹنگ روم میں بیٹھا تھا کہ پتا چلا ٹیکس خوروں کو 3ارب ٹیکس معافی کا فیصلہ وزیراعظم نے واپس لے لیا، خوشی ہوئی کہ چلو ’دیر آید درست آید‘، پونے چھ بجے وزیراعظم آفس میں داخل ہوا تو

سلام دعا کے بعد جب بات شروع یہیں سے کی کہ ٹیکس خور صنعتکاروں کو معافی، فیصلہ واپس، آپ نے اچھا کیا، تو جواباً وزیراعظم نے جو بتایا، حیران کن، مجھے باہر گردش کرتی دو مشیروں، بیورو کریسی، سیٹھ گٹھ جوڑ کہانی سچی لگنے لگی، وزیراعظم کی باتوں سے لگا نہ صرف انہیں بے خبر رکھا گیا بلکہ متعلقہ وزارتوں سے چھپ چھپا کر کابینہ کو بلڈوز کر کے ٹیکس معافی سمری منظور کروائی گئی، وہ تو بھلا ہو فیصل واوڈا، مراد سعید اور ندیم افضل چن کا، جن کے بروقت توجہ دلانے پر وزیراعظم کو پتا چلا کہ یہ وہ نہیں جو مجھے بتایا گیا، یہ معاملہ تو کچھ اور ہی۔ٹیکس معافی کہانی کے بعد میں نے کہا، سر باقی باتیں بعد میں، پہلے میرے چار سوال، بولے، پوچھو، میں نے کہا، سنا ہے ہم اسرائیل کو تسلیم کر رہے، بیک ڈور بات چیت ہو رہی، وزیراعظم لہجہ تلخ میں بولے، ”یہ کون لوگ، جو اس قسم کی بے ہودہ باتیں پھیلا رہے، ان کو شرم بھی نہیں آتی، یہ سب پروپیگنڈا“، میں نے کہا ”سنا جا رہا، کشمیر پر سودے بازی ہو چکی“ جواب آیا ”ویسے تو یہ میرے جیتے جی نہیں، لیکن یہ ہے بھی ناممکن، پاکستان، بھارت، امریکہ مل کر کوئی سمجھوتہ کرنا چاہیں تو بھی یہ ناممکن ہے کیونکہ جب تک کشمیری قیادت، کشمیری عوام کی مرضی شامل نہیں ہوگی تب تک کوئی کچھ نہیں کر سکتا“، پوچھا ”سننے میں آ رہا، ہاؤس آف شریفس سے رابطے کئے جا رہے، آئیں سمجھوتہ کر لیں، صلح کر لیں“،

عمران خان مسکرائے، سامنے ٹی وی پر لگے انگلینڈ، آسٹریلیا ایشز سیریز ٹیسٹ میچ کو چند لمحوں کیلئے دیکھا اور پھر بہت کچھ بتا کر، اسے آف دی ریکارڈ بتا کر بولے”جتنا ان کا برا حال ہے، اتنا تو میں نے بھی نہیں سوچا تھا، سب افواہیں شریفوں کے حواری پھیلا رہے، لیکن جان تب چھوٹے گی جب پیسے دیں گے“، میں نے زراری صاحب اینڈ کمپنی کا پوچھا تو وزیراعظم نے یہاں بھی بہت کچھ آف دی ریکارڈ بتا کر کہا ”تھوڑا سا اور انتظار کر لو“۔میرا اگلا سوال تھا،

سر گورننس، معیشت کے مسائل سنگین، کیوں ایسا لگ رہا، جیسے صورتحال آؤٹ آف کنٹرول، عمران خان بولے ”گورننس کے مسائل ہیں، اسے دیکھ رہا ہوں، سب وزیروں، بیورو کریٹس سے کہہ دیا سال ہوگیا، اب کارکردگی نہیں تو چھٹی ہو جائے گی، جہاں تک معیشت کی بات، یہ معیشت پر فوکس کا سال، ہم مشکل ترین معاشی مسائل سے نکل چکے، اب معیشت روز بروز بہتر ہو گی“، میں نے کہا، یہ تاثر کیوں، آپ کی ٹیم نالائق، کہنے لگے ”یہ پروپیگنڈا“ میں نے کہا،

یہ ٹیم ڈیلیور کر رہی ہے، جواب آیا ”چیک اینڈ بیلنس سخت کر دیا، تبدیلیاں بھی ہوں گی، اب ڈیلیوری نظرآئے گی“، پوچھا ”سائیں بزدار تبدیلی کا کوئی امکان“ بولے ”وہ ایماندار، عاجز، کام کر رہا ہے، تبدیلی کیوں“ میں نے کہا ”چلو ملک گیر مہنگائی، بے روزگاری کو چھوڑ دیں جو پنجاب کا حال، سائیں بزدار کیا، یاسمین راشد تک نظر نہیں آ رہیں، تعلیم، صحت کا برا حال، وزراء مایوس، بیورو کریسی سازشوں میں لگی ہوئی، پولیس، پٹوار اصلاحات نہ ہو سکیں، ہر ادارے میں سیاسی مداخلت عروج پر،

غریب، مڈل کلاس، تاجر، صنعتکار کسی کی کوئی شنوائی نہیں اور آپ کے ہاں سب اچھا“، سب سن کر بولے ”تم سب شو بازی کے عادی، ڈراموں کے شوقین، اب پنجاب میں ڈرامے نہیں کام ہو رہا، وہ بھی خاموشی سے“، میں نے بات کاٹ کر کہا ”وہ کام دکھائی کیوں نہیں دے رہا، کیوں لوگ پریشان، کیوں باہر گلیوں، محلوں، بازاروں میں لوگ طنزاً پوچھیں ”کیسی لگی تبدیلی“، وزیراعظم کہنے لگے ”ایک تو پہلا سال بنیادی کاموں میں گزرا، ہم سے غلطیاں بھی ہوئیں، پھر دوسرا یہ مسئلہ بھی کہ ہم اپنے اچھے کام بھی لوگوں کو نہیں بتا پائے لیکن تھوڑا سا صبر، اب پرفارمنس دکھائی دے گی“۔معروف صحافی نے اپنے کالم میں مزید لکھا کہ اس شام وزیراعظم کی زیادہ تر گفتگو آف دی ریکارڈ تھی، وہ خارجہ محاذ پر ملی کامیابیوں پر مطمئن تھے، وہ اپنی کابینہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے، وہ اس بات پر خوش تھے کہ کشمیر کے معاملے پر انہوں نے مودی کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا، وہ بتا رہے تھے، ”مودی کو میرے اس ردِعمل کی توقع نہیں تھی، مودی کا خیال تھا کہ سابقہ پاکستانی حکمرانوں کی طرح عمران خان کا رویہ بھی معذرت خواہانہ ہوگا مگر میں نے جس طرح ہٹلر سے تشبیہ دے کر اس کے فاشزم کو دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا وہ ڈپریشن میں چلا گیا اور اسی فرسٹریشن میں اس نے ٹرمپ کو میری شکایت لگا دی“۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر