ظالم نے اسے پانی بھی نہیں پلایا مارتا ہی رہا، جس ہسپتال میں لے کر گئے وہاں ایمرجنسی ہی نہیں تھی، لاہور میں سکول ٹیچر کے تشدد سے وفات پانے والے حافظ حسنین کے ساتھ کیا ہوا؟ والدہ کے لرزہ خیز انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سکول ٹیچر کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے حنین کی والدہ نے اپنے ایک بیان میں روتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو صحیح سلامت اپنے ہاتھوں سے سکول بھیجا تھا، ظالم نے اسے اتنا زیادہ مارا، اسے پانی بھی نہیں پلایا وہ مارتا ہی رہا مارتا ہی رہا، کسی طالب علم نے بھی جا کر نہیں پکڑا، بس سبق ہی تو نہیں یاد تھا، یہ لوگ جس ہسپتال میں میرے بچے کو لے کر گئے وہاں ایمرجنسی ہی نہیں تھی، بچہ ایمبولینس میں پڑا ہوا تھا، میں نے کہا کہ

حنین اٹھ جاؤ تمہاری ماما آئی ہے وہ ہلا ہی نہیں اس کے سانس ختم ہو چکے تھے، وہ مردہ حالت میں تھا، ظالم نے اتنا مارا کہ میرے بچے نے کہا کہ میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے سر کہتے ہیں کہ ڈرامے کر رہا ہے، میرے بچے کی شرٹ ہی غائب کر دی، میرے بچے کا سر ہی دیوار پر دے مارا۔ میرا بچہ تو سر پر بالوں کو ہاتھ ہی نہیں لگانے دیتا تھا، وہ کہتا تھا کہ ماما میرے بالوں پر ہاتھ پیار سے کیوں پھیرتی رہتی ہیں، ظالم سر نے بالوں سے پکڑ کر ہی دے مارا میرے بچے کو، سارے دوست اس کے کھڑے تھے لیکن کسی نے ہمت نہیں کی کہ سر ہمیں بھی نہ مارنے لگ جائیں۔ میرے بیٹے کے ساتھ کسی نے دوستی نہ نبھائیں بے چارہ بیس منٹ تک تڑپتا ہی رہا اگر اسے فوراً ہسپتال پہنچا دیتے تو شاید بچ جاتا۔ ایک تھپڑ کافی تھا اتنا مارنے کی کیا ضرورت تھی، اسے مارنے کی اتنی کیا ضرورت تھی، حنین کو مارنے والے کو میرے سامنے لایا جائے میں اس کا گریبان پکڑ کر اس سے پوچھوں کہ میرے بچے نے تیرا کیا بگاڑا تھا۔ دوسری جانب سکول ٹیچر کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے حنین کے والد نے بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے نشان تک غائب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم سمیت چیف آف آرمی سٹاف سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق رات گئے سکول استاد کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہونے والے حنین بلال کے والد محمد بلال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میوہسپتال کے ڈاکٹروں نے اسکول انتظامیہ کی ملی بھگت سے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گڑ بڑ کی،

رپورٹ میں تشدد کے واضح نشان اور سر کی چوٹ تک ظاہر نہیں کی گئی۔مقتول طالب علم کے والد نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹرملزم کامران کوبے گناہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر حکام انہیں انصاف فراہم نہیں کرسکتے تو انہیں بھی بیٹے کیساتھ ہی دفنا دیں،اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ دھرنا دیں گے،مقتول طالب علم کے والد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف واقعے کا نوٹس لیں۔واضح رہے کہ پانچ ستمبر کو لاہور کے علاقے گلشن راوی میں نجی اسکول میں ٹیچر کے تشدد سے طالب علم انتقال کر گیا، اہل خانہ کا کہنا تھا کہ 16 سال کا حنین ٹیچر کے تشدد سے بے ہو ش ہوا لیکن اسکول انتظامیہ نے اسے اسپتال نہیں بھیجا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر