ٹرمپ کا طالبان سے مذاکرات کی معطلی کافیصلہ، پاکستان کو ”خفیہ ملاقات“ کاعلم تھا لیکن اب اسے کیا کرنا ہوگا؟چونکا دینے والے انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

واشنگٹن /کابل/اسلام آباد(این این آئی) امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کیے جانے کے اعلان سے نہ صرف افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہوگا ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد کو خارجہ پالیسی کے میدان میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔

ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کے اس اعلان کا باضابطہ سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ قیام امن کا راستہ کتنا ناہموار ہے تاہم اسلام آباد کو امید نہیں تھی کہ افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ممکنہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچنے کے بعد اچانک ختم ہوجائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کو علم تھا کہ صدر ٹرمپ جلد طالبان کے چند سینئر رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں ایک خفیہ ملاقات کرنے والے ہیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگی اور اب اسلام آباد کو ان مذاکرات کے یوں اچانک ختم ہوجانے پر تشویش لاحق ہے کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان کو دباؤ بڑھے گا کہ وہ افغان طالبان کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات معطل کیے جانے کا سبب جمعرات کو کابل میں ہونے والے حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کو قرار دیا جارہا ہے۔تاہم پاکستان کا خیال ہے کہ اس کے پس پردہ دیگر محرکات اور وجوہات بھی ہوسکتی ہے جو یوں امریکا نے اچانک مذاکرات کو معطل کیا ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر