طالبان کو کس اسلامی ملک سے افغانوں کو قتل کرنے کے احکام مل رہے ہیں،افغان صدر صدراشرف غنی کے ترجمان نے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے

سوشل میڈیا‎‎

کابل(این این آئی)افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدق صدیقی نے کہا ہے کہ عوام طالبان کے ساتھ ایسے نامکمل امن معاہدے کو قبول نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکتیں ہی ہوں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدق صدیقی نے کابل میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ قطر میں امن بات چیت کے لیے مقیم طالبان کے لیڈر تو دوحہ میں ہنی مون منا رہے ہیں اور طالبان لیڈروں کو قطر ہی سے افغانوں کو قتل کرنے کے احکامات موصول ہورہے ہیں۔

انھوں نے قطر میں جاری مذاکراتی عمل کو نامکمل قرار دیا اورافغان حکومت نے امریکا کے ساتھ دوحہ میں ’ڈھونگ‘ عمل کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔صدرغنی کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا افغانستان کے طالبان لیڈروں کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کرنے کا فیصلہ اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت کی تشویش کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کابل میں حالیہ بم دھماکے کے بعد طالبان سے مذاکرات منسوخ کردییہیں۔اس بم دھماکے میں ایک امریکی فوجی سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات نے طالبان کو سیاسی زندگی کو قبول کرنے کا ایک موقع فراہم کیا تھا۔ہم (افغان حکومت) ان مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں جنگ بندی کی توقع کررہے تھے اور طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنا چاہتے تھے لیکن ہم نے ان (طالبان) کی طرف سے کوئی حقیقی کوشش نہیں دیکھی ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صدق صدیقی نے کہا ہے کہ عوام طالبان کے ساتھ ایسے نامکمل امن معاہدے کو قبول نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکتیں ہی ہوں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدق صدیقی نے کابل میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ قطر میں امن بات چیت کے لیے مقیم طالبان کے لیڈر تو دوحہ میں ہنی مون منا رہے ہیں اور طالبان لیڈروں کو قطر ہی سے افغانوں کو قتل کرنے کے احکامات موصول ہورہے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر