مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، فی الفور کرفیو اٹھایا جائے،پاکستان کو 58 طاقتور ممالک کی حمایت حاصل ہو گئی

سوشل میڈیا‎‎

جنیوا (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، فی الفور کرفیو اٹھایا جائے،ہمیں مشترکہ اسٹیٹمنٹ میں 58 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، یہ ہمارے لیے بہت حوصلہ افزا امر ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنیوا میں پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہاں سے فی الفور کرفیو اٹھایا جائے۔

انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں اور بچیوں کو زبردستی اٹھایا جا رہا ہے ان کی بے حرمتی کی جا رہی ہے خوراک اور طبی سہولیات میسر نہیں ہو رہیں۔انہوں نے کہاکہ والدین بچوں کو خوف کی وجہ سے سکول نہیں بھیج پا رہے کیونکہ مواصلات کے ذرائع بند ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کوئی نیا مطالبہ نہیں کیا اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشنر کی رپورٹس میں پہلے سے ہی صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کیلئے کمیشن آف انکوائری کے قیام کی سفارش موجود ہے جو غیر جانبدارانہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی سفارشات مرتب کرے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ہمیں مشترکہ اسٹیٹمنٹ میں 58 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی اور یہ ہمارے لیے بہت حوصلہ افزا امر ہے۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ترک میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں کہاکہ جب ایک متنازعہ علاقے کا جبرا آبادیاتی تناسب تبدیل کیا جاتا ہے اکثریت کو زبردستی اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائیگی تو ہم اسے جینو سائیڈ سے تعبیر کریں گے،گزشتہ روز پچاس سے زائد ممالک نے مشترکہ اسٹیٹمنٹ میں سپورٹ کیا جس کی تفصیل ہمارا سفارت خانہ جاری کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے مابین دو طرفہ تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا جس کا ایک مظاہرہ ہم نے کل او آئی سی میں بھی دیکھا جب مشترکہ اسٹیٹمنٹ کے وقت ترکی کے سفیر، او آئی سی کی مشترکہ اسٹیٹمنٹ پر بات کرنے میں سب سے آگے آگے تھے سو ہمارے ترکی کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ

ہم جلد ترک صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے منتظر ہیں جس میں ہم ترکی اور پاکستان کے مابین دو طرفہ جامع اقتصادی تعاون پر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم افغان امن عمل کی حمایت کرتے ہیں اور ہم نے اس میں مصالحانہ کردار ادا کیا ہے ہمارا پیغام یہی ہے کہ شدت پسندی کو ترق کر کے امن کو ایک موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے نائن الیون کے بعد انتہائی چالاکی سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشتگردی سے منسوب کرنے کی کوشش کی

جبکہ وہ اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا پر گہری تشویش ہے اور اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان ترکی اور ملائشیا اس موضوع پر ایک مباحثے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سول سوسائٹی، ہیومن رائٹس کی تنظیموں، اقوام متحدہ کے مندوبین، او آئی سی کے آفیشلز، اقوام متحدہ ہیومن رائٹس کمشنر کے ساتھ بہت مفید روابط رہے اور جو مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے وہ بڑا حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے یہاں سول سوسائٹی، این جی اوز اور بین الاقوامی میڈیا میں جو ماحول دیکھا ہے وہ بہت مثبت ہے آج وہ ہندوستان کے رویے پر سوال اٹھا رہے ہیں اور ہندوستان کو جواب دینے میں دقت پیش آ رہی ہے ان سے جواب بن نہیں پا رہا۔ انہوں نے کہاکہ آج گیارہ ستمبر ہے ہم نے تو یکم اگست کو اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا – میں نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، صدر سیکورٹی کونسل، صدر جنرل اسمبلی کو خطوط لکھ کر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر