مسئلہ کشمیرپر عالمی برادری نے نوٹس نہ لیا تو پھر کیا ہوگا؟صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب،انتباہ کردیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کئے گئے خطاب کا متن، آج موجودہ حکومت کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پرمیں پورے ایوان کو مبارک باد دیتا ہوں۔ یہ میرا آئینی فریضہ ہے کہ میں حکومت اور پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھوں اور جہاں ضرورت ہو آئین و قانون کے مطابق اس کی رہنمائی کروں۔ اس چھت کے نیچے عوام کے منتخب نمائندوں کی موجودگی عوام کی امیدوں کا مظہر ہے اور وہ بہت توقعات رکھتے ہیں۔

ہم سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہیں اور اس کا احساس ہر وقت رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس وطن اوراس کے عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے تاکہ ہم جب اپنا محاسبہ کریں تو اپنے ضمیر کی عدالت میں بھی سرخروہوسکیں۔گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر حکومت پاکستان اور عوام نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بھارت نے اپنے غیر قانو نی اور یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمان نے اپنے7 اگست 2019 کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے غیر قانونی اوریک طرفہ اقدامات کی متفقہ طور پر شدید مذمت کی۔ حکومت نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، تجارت معطل کرنے، دوطرفہ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50 سال بعد مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں زیرِبحث لایا گیا خصوصاًجب بھارت اسے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زورلگا رہا تھا۔ مسئلہ کشمیر پر دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفت وشنیداس بات کی عکاسی ہے کہ

کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا بھرپورکردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ مسئلہ علاقائی و عالمی امن کے لیے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے غیرقانونی اور جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر قسم کی پابندیوں کا فی الفور خاتمہ کیا جائے

اور اس دیرینہ تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی اس معاملے پر 58 ممالک کی حمایت سے مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں بھارت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے۔ یہاں ہم ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ اداکرتے ہیں جنہوں نے کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سلامتی کونسل کے اجلاس کے کامیاب انعقاد میں اپنا کردار ادا کیا۔اس ضمن میں ہم چین کی کوششوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

میں وزیراعظم پاکستان کے کامیاب امریکی دورے کے دوران صدر ٹرمپ کی توجہ مقبوضہ کشمیرکی طرف مبذول کرانے کو سراہتا ہوں اورپاکستان امریکہ کی مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے ثالثی کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرے گا۔نو لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دْنیا کا سب سے زیادہ Zone Militarized ہے۔بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیریوں کی آواز سلب کر رہا ہے۔ آج بھارت کی سیکولرزم اور جمہوریت RSS کی جنونیت کی نذر ہو رہی ہے۔ بھارت کو ہندو نسل پرست نظریے اور فاشسٹ سوچ کے حامل لوگوں نے ایسے یرغمال بنایا ہے

جیسے نازیوں اور نازی ازم نے جرمنی کو بنایا تھا۔ نوے لاکھ کشمیریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ میں اقوامِ متحدہ سے اپیل کرتا ہوں کہ کشمیر میں اپنے مبصرین بھیج کر موجودہ مخدوش حالات کے صحیح تناظر کو واضح کرے۔ حالیہ مہینوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک لاکھ اسی ہزار (180000) مزیدفوجیوں کی تعیناتی شدید تشویشناک ہے۔ غاصب بھارتی افواج قتل و غارت گری، تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں، پیلٹ گن کے استعمال اور کشمیری خواتین کی عصمت دری جیسے درندانہ اور سفاکانہ جرائم کے ذریعے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ بھارت کی انتہا پسندقیادت مقبوضہ جموں و کشمیر کا

آبادیاتی ڈھانچہ مسخ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور یہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی جیسی انسانیت سوز پالیسی کو اپناتے ہوئے یوگوسلاویہ میں کی گئی انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ کو دہرا نے کے درپے ہے۔ آج اگر دْنیا نے بھارت کی کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا۔ پاکستان بھارت پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی۔ میں پارلیمان کے اس پلیٹ فارم سے عالمی برادری پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی چشم پوشی عالمی امن و استحکام کے لیے شدید خطرے کا باعث ہوگی۔پاکستان اقوام متحدہ

کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔اس سلسلے میں پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس وقت تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتی رہے گی جب تک انہیں حق خودارادیت نہیں مل جاتا۔ ہم کسی موڑ پر انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ان کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول کے پار غیر مسلح شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ گزشتہ برس پاکستاننے UNMOGIP کو متعدد بار بھارت کی جانب سے کی گئی LOCکی

خلاف وزریوں کے بارے میں بتایا۔ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ کارروائیوں سے جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اور استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ہم اب بھی بھارتی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور حالات کو اس نہج تک نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے۔پاکستان نے ہمیشہ بھارتی جنگی جنون کا جواب صبروتحمل سے دیا اور بارہا یہ یاددہانی کرائی کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔پلوامہ کا واقعہ رونما ہوا تو بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شروع کردیا تھا۔ اس وقت بھی وزیرِ اعظم پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی اور بھارت سے ثبوت مانگے تھے، مگر

بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر اشتعال انگیزی شروع کردی جس کے نتیجے میں پاکستانی فضائیہ نے شاندار جر?ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دراندازی کرنے والے طیاروں کو مار گرایا۔ ہماری حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اگلے ہی روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا جسے دْنیا بھر میں سراہا گیا۔بھارت، ہمیشہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا اور وطن عزیز میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا۔ اس کی ایک مثال کمانڈر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی جسے پاکستان نے مارچ 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار کیا، جس نے اعتراف کیا کہ وہ انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور بلوچستان میں اس کی آمد کا

مقصد بھارتی معاونت کے ساتھ تخریب کاری اور دہشت گردی پھیلانا تھا۔ ان سنگین جرائم کی پاداش میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کمانڈر کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا سنائی تو بھارت یہ معاملہ عالمی عدالت میں لے گیاجس نے بھارت کی جانب سے کلبھوشن کی بریت، رہائی اور واپسی کی استدعا کو یکسر مسترد کر دیا۔ دْنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت پر آج ہندو انتہاپسندانہ سوچ نے اپنا غلبہ قائم کر لیا ہے۔ دْنیا کو ان فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی۔ RSS کی مذہبی جنونیت کی وجہ سے مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کا ہندوستان آج بہت تیزی سے اپنی ہیئت بدل رہا ہے۔ یہ حقیقت ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں اور معتدل سوچ کے حامل افراد کے لئے کسی آفت سے کم نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت میں رونما ہونے والے واقعات نے ایک مرتبہ پھر بانیانِ

پاکستان کی بصیرت اور دو قومی نظریے کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ پاکستان کے حصول کا مقصد ایک ایسی مثالی ریاست کا قیام تھا جہاں انصاف، رواداری اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہو۔ ریاستِ مدینہ انہی اصولوں کا عملی نمونہ تھی اور مفکر ِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے خواب اور بانء پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی جدوجہد کا مطمع نظر بھی ایک ایسی ہی ریاست کا قیام تھا۔ اسلام میں مسجد کی بڑی اہمیت ہے اور یہ صرف پانچ وقت نماز کی ادائیگی کا مقام ہی نہیں بلکہ اسے سماج میں افراد کی اصلاح و تربیت اوراصلاح باطن و تزکیہ نفس کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس کی زندہ مثال خود مسجد نبویؐ ہے۔آج بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد و منبر رسول? بہترین فورم ہے۔علمائے کرام کو

چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور معاشرتی اور سماجی برائیوں کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ میں نے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مسجد کے منبر کے مؤثر استعمال کے ذریعے عورتوں کے وراثتی حقوق، طہارت اور صفائی، Conservation Water، ماحول اور شجرکاری اور انسانی صحت کے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کریں۔ وزیراعظم جناب عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو ریاست مدینہ کا رول ماڈل بنانے کا تصور پیش کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی و معاشی ترقی اور استحکام اسی سوچ سے وابستہ ہے۔ حضور اکرم ؐ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کا قدم اٹھایا تو اس کے پس منظر میں اسی اجتماعی سماجی نظام کا تعارف اور نفاذ تھا۔میرے نبیؐ کے مثالی طرز حکمرانی نے داخلی و خارجی سطح پر بکھرے یثرب کو دْنیا

کی بہترین اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل کر دیا۔مدینہ کی ریاست کا جو نقشہ اللہ کے رسول کی زندگی میں ہمارے سامنے آیا اس کو پیش نظر رکھ کر باآسانی یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انسانی حقوق کا پہلا چارٹر دینے والی ریاست، ریاست مدینہ تھی۔موجودہ حکومت روز اول سے ہی ملک کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کے سلسلے میں مصروفِ عمل ہے۔ ایک سال کی قلیل مدت میں کابینہ کے پچاس سے زائد اجلاس ہوئے ہیں جو بذاتِ خود اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ حکومت اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے فعال اور متحرک ہے۔مجھے خوشی ہے کہ وزیراعظم پاکستان ذاتی دلچسپی لے کر ہر وزارت کی کارکردگی پر خود نظر رکھے ہوئے ہیں۔وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایت پر”پاکستان

سٹیزن پورٹل” کا اجراء کیا گیا جس سے عوام کو اپنی شکایات براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچانے اور اْن کے جلد سے جلد حل میں بے پناہ سہولت ملی ہے۔ میں چاہوں گا کہ اس نظام کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ ملک میں گڈ گورننس اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ کے ان فیصلوں کو بھی سراہا جانا چاہیے جو کفایت شعاری کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔ میں یہاں حکومت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال حکومتی معاملات میں شفافیت لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ہم آئی ٹی کی مقامی مارکیٹ کو ترقی دیے بغیر دْنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکیں گے۔میں اس بات پر بھی زور دینا چاہوں گا کہ معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ہم Technology

Driven Knowledge Economy اور IT کو اپنی پالیسیوں میں خاص توجہ دیں تاکہ پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب میں ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوسکے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو Languages Computer کا ادراک اور انھیں Artificial Intelligence? Internet of Things Cloud Computing اور Blockchain جیسے جدید علوم سے روشناس کرانا ہوگا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وطن عزیز کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے۔ جمہوری اداروں کا استحکام اور وفاقی اکائیوں کی مضبوطی سے ہی پائیدار جمہوریت فروغ پا سکتی ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں ہونے والے انتخابات سے ملک میں

جمہوری عمل ایک قدم اور آگے بڑھا ہے۔ ان علاقوں کی خیبر پختونخوا میں انضمام سے انہیں ملکی ترقی کے مرکزی دھارے میں شمولیت کا موقع ملے گا۔ حکومت نے فاٹاکی تعمیر وترقی کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔یہ رقوم کامیاب جوان، کم لاگت مکانوں کی تعمیر، صاف وسر سبز پاکستان، صحت انصاف کارڈ اور بلین ٹری سونامی کے علاوہ ہیں۔اس سے قبائلی عوام کے معیارزندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت کو کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے۔ ملکی قرضے بھی انتہائی حدود سے زیادہ تھے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر تھی۔

ہمارے محصولات کاایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے اور ترقیاتی کاموں کے لیے خاطر خواہ وسائل نہیں بچتے۔ یہ بات اہم ہے کہ پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے‘Current Account Deficit“میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے Reserves Exchange Foreign بھی بڑھے ہیں۔ پاکستان2015ء میں ”Millennium Development Goals”“ کے اہداف پورے نہ کر سکا۔ میں یہاں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ اب Sustainable Development Goals(SDGs) کے اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ میں تمام متعلقہ اداروں سے توقع کرتا ہوں کہ وہ ایک مربوط حکمت

عملی کی بدولت SDGs کے اہداف کے حصول کی جانب مثبت پیش رفت کو یقینی بنائیں گے۔ سمگلنگ کسی بھی قوم کی معیشت کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معیشت سے وابستہ تمام کاروبارِ زندگی کی ڈاکومنٹیشن(Documentation) کرکے حکومتی دائرہ اختیار میں لائے اور سمگلنگ کی لعنت کا قلع قمع کرے۔گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا ہے اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ یہی

وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا ایک بڑا حصہ Economy Black کی نذر ہوگیا جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ان بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کو 2019-20 کے بجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے اہم ہیں۔ FBRکی جانب سے نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے اور ٹیکس کی شرح میں اضافے کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں بہت اچھا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک Process Continuousہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ میں چاہتا ہوں کہ FBR میں اصلاحات لائی

جائیں،ٹیکس گوشواروں کے نظام کو مزید عام فہم بنایا جائے اور ٹیکس گزاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ ہماری ترقی و خوشحالی میں تجارت اور سرمایہ کاری کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تجارت کے فروغ کے لیے آسان اور قابل عمل پالیسیوں کی تشکیل ایک اہم قدم ہے۔ متعدد ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اس ضمن میں مختلف منصوبوں پر کام شروع بھی ہو چکا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ Ease of Doing Business Indexمیں پاکستان کی درجہ بندی میں کئی درجے بہتری آئی ہے اور امید ہے کہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔ یہ سہولت صرف بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ہی نہیں بلکہ اندرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی

ضروری ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں اداروں اور سول سروسز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے موجودہ دور تک ہمارے سول افسران نے نامساعد حالات کے باوجود Public Service Delivery اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔تاہم موجودہ حکومت نے اداروں کو جدیدخطوط پر استوار کرنے کیلےReforms Institutional ”کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ میں چاہوں گا کہ جلد از جلد اس اہم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔بدعنوانی کسی بھی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرکے اسے تباہ وبرباد کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں یہ لعنت بری طرح پھیل چکی ہے۔ ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے۔ یاد رکھیے کہ معاشرہ پاک اور صاف ستھرا ہوگا تو

اخلاقی اعتبار سے ہم اپنی شاندار قومی روایات کو زندہ رکھنے اور خود کو اقوامِ عالم میں سربلند رکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔ ایک اور مسئلہ جس کی سنگینی کی طرف ہماری توجہ ضروری ہے۔ وہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہے جو ملکی وسائل پر دباؤ کا باعث ہے۔ میری حکو مت کو تاکید ہے کہ اس جانب فوری توجہ دے اور عوام میں اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ اس ضمن میں ذرائع ابلاغ پر بھرپور آگاہی مہم مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ علمائے کرام، سیاسی و سماجی قائدین کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کی شمولیت سے عوام کو آبادی کے پھیلاؤ کے منفی اثرات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں، میں اس بات پر بھی آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اولاد میں وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے ماں کی Mal-nutrition اور بچوں کی Stunting بھی ہو

رہی ہے۔ یہاں میں حکومت کو ہدایت کرنا چاہتا ہوں کہ وہStunting اور Mal-nutritionکی طرف بھی خصوصی توجہ دے۔زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت نے اس شعبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی نوعیت کی اجناس گندم، چاول اور گنے کی پیداوار بڑھانے کے لیے Prime Minister’s Agriculture Emergency کا آغاز کیا ہے۔اس پروگرام کے تحت“National Oilseeds Enhancement Program”،آبی ذخائر کے تحفظ اور بہتر استعمال، ماہی گیری کا فروغ، چھوٹے اور درمیانے درجے کی لائیو سٹاک فارمنگ، مرغ بانی اور زیتون کی کاشت کو تجارتی پیمانے پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔اس شعبے کی ترقی کے لیے زرعی ادویات، کھاد اور دیگر زرعی سازو سامان کی کاشت

کار کو مناسب قیمت پر فراہمی کے لیے ایک مؤثر اور جامع پالیسی کے ساتھ ساتھ اجناس کی منڈی تک رسائی کو آسان اور یقینی بنانا ازحد ضروری ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت اس جانب بھی اپنی توجہ مرکوز رکھے گی۔ کسی بھی ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کا ہر ممکن خیال رکھے۔ شہریوں کے جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت، تعلیم وصحت، اور فوری انصاف کی بلاتعطل فراہمی بہتر طرز حکومت کی علامت ہیں۔ ہم نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے، جہاں روزگار،محروم طبقے کی صحت، تعلیم، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انصاف کی سہولیات مہیاہو سکیں۔ جلد اور آسان انصاف کی فراہمی ریاستِ مدینہ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس ضمن میں:

Code of Civil Procedure (Amendment) Bill
Legal Aid and Justice Authority Bill
Letters of Administration and Succession Certificate Bill
Whistleblower Protection and Vigilance Commission Bill
Enforcement of Women’s Property Rights Bill
Mutual Legal Assistance Bill
جو کہ ابھی مختلف مراحل میں ہیں، انتہائی اہم قانونی اقدامات ہیں۔ میری پارلیمنٹ سے درخواست ہوگی کہ ان قوانین کو جس قدر جلد ہوسکے منظور کرے تاکہ لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرنے میں مدد مل سکے۔ اس موقع پر میں عدلیہ کے کردار کو بھی سراہنا چاہوں گا۔ پچھلے کچھ عرصہ میں ہماری عدالتوں نے دہائیوں سے زیر التوا مقدموں کو سرعت سے نمٹایا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ Model Courts کے اجراء کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے جس سے عوام کو فوری اور سستا انصاف میسر کرنے میں مدد ملے گی۔ موجودہ حکومت نے“ احساس پروگرام”کا آغاز کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اس پروگرام کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔یہ پروگرام اپنے حجم کے اعتبار سے سوشل پروٹیکشن کا سب سے مؤثر پروگرام ثابت ہوگا۔‘“Poverty Alleviation and Social Safety کی وزارت اپنے اندر بڑی وسعت رکھتی ہے۔ اس وزارت کے تمام فلاحی پروگرام ملکی آبادی کے اْن طبقات کے لیے مددگار ثابت ہوں گے جن کی آمدنی کم ہے اور جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میں حکومتِ وقت کو ہدایت کرتا ہوں کہ

اس پروگرام میں شفافیت کے عمل کو یقینی بنا ئے۔وزیراعظم کے ویڑن کے مطابق خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے “احساس پروگرام ”میں خواتین کو برابر کی شراکت دی جا رہی ہے۔حکومت کیگزشتہ پروگرام جو اس سلسلے میں شروع کیے گئے تھے،اْن میں مزید بہتری لانے کی کوشش جاری ہے جس سے اس میں شفافیت لانے اورخامیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ ضروری ہے کہ حکومت اس پروگرام کو توسیع دیتے ہوئے ملک کے دوردراز علاقوں میں آباد محروم طبقات تک اس کے ثمرات کو یقینی بنائے۔ ہمیں خواتین کو معاشرہ میں با وقار بنانا ہوگا تاکہ وہ پورے کنبہ کو ملک و قوم کے لئے مفید اور باعثِ فخر بنانے میں اپنا مثالی کردار ادا کر سکیں۔میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ خواتین کو معاشرے میں اپنا صحیح مقام دلانے کے لیے ان کے وراثتی حقوق کا

تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں قانون سازی اور عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کے وارثتی حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کے افراد صحت مند نہ ہوں۔ یہ صحت جسمانی اور ذہنی ہر دو لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ حکومت نے بھرپور توجہ دیتے ہوئے“صحت سہولت پروگرام”کا آغاز کیا ہے جس کے تحت“صحت انصاف کارڈ”کا اجرا کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ خاندان صحت کی مفت سہولیات حاصل کرسکیں گے اور ملک بھر میں متعدد سرکاری و نجی ہسپتال اس کارڈ کی سہولت کے تحت مفت علاج فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم کا“National Programme for Prevention and Control of Hepatitis-Cایک انتہائی اہم کاوش ہے۔ میں امید

کرتا ہوں کہ اس پروگرام کو ایک جامع انداز میں ملک کے کونے کونے میں پھیلایا جائے گا تاکہ ہمیں اس موذی مرض سے چھٹکارا مل سکے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں کا قیام ایک انتہائی قابلِ ستائش قدم ہے۔میں چاہوں گا کہ اس طرح کے فلاحی منصوبوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلایا جائے۔ اسی طرح بے گھر افراد کے لئے سستے اور آسان شرائط پر گھروں کی دستیابی حکومت کا انقلابی قدم ہے۔ وزیراعظم پاکستان اس سلسلے میں مختلف منصوبوں کا افتتاح کر چکے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ منصوبے تیز رفتاری سے تکمیل کی جانب بڑھیں گے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ تعلیم میں سرمایہ کاری نہ کرے۔ دْنیا میں انہی قوموں نے ترقی کی جنہوں نے تعلیم کے شعبہ پر توجہ دی۔ حکومت نے ملکی

ترقی میں تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی فریم ورک کی تیاری میں تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا ہے۔ یہ ایک احسن قدم ہے۔ NAVTTC اور دیگر اداروں کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ حکومت اس سلسلے میں ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔ پاکستان کا نوجوانوں کی آبادی کے لحاظ سے ایشیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بے شک ہماری قوم کا مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم کے “ کامیاب جوان پروگرام”کے تحت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ایک اور خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ

Forbes کے مطابق دْنیا کی دس تیز ترین بڑھتی ہوئی ”“Software Freelance Markets میں پاکستان اس سال 47 فیصد Growth کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ان ابھرتے ہوئے موقعوں کے لیے تیار کریں تاکہ وہ باوقار روزگار کمانے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ حکومت نے ان کی سہولت اور آسانی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلدبینکنگ چینل سے رقوم بھیجنے کی راہ میں حائل چند باقی رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ ترسیلاتِ زر کو بڑھایا جا سکے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ اور Wallet Digital کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہر فرد اپنے فون کے ذریعے چھوٹی سے چھوٹی Payment کرسکے۔اس سے Documentaion میں بھی آسانی ہوگی۔معاشرے کا ایک اہم حصہ ہمارے خصوصی افراد ہیں جو کسی جسمانی یا ذہنی معذوری کا

شکار ہیں۔ ایسے افراد ہماری خصوصی توجہ اورمحبت کے مستحق ہیں۔ ان افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے بہتر سہولتیں اور مواقع دینا ضروری ہیں۔ میری حکومت کو تاکید ہے کہ وہ معاشرے کے ایسے افراد کے لیے بہترین منصوبے بنائیں تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد اور فعال شہری بن سکیں۔عالمی سطح پر جو مسائل شدت سے سراٹھارہے ہیں ان میں ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ گھمبیر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دْنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں گلیشیئرتیزی سے پگھل رہے ہیں اس کے منفی اثرات ہمارے ملک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فضائی اور صنعتی آلودگی میں اضافہ شہروں کی آب وہواپر اثرانداز ہو رہا ہے۔ اس کے مضراثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کلین اینڈگرین پاکستان پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ جس کے تحت 5 سال میں ملک بھر میں 10ارب درخت لگائے جائیں گے۔ پانی کے ذخائر کی تعمیرپر ترجیحی

بنیادوں پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کا واحد حل نئے ڈیموں کی تعمیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پانی کے ضیاع کو بھی روکنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام اور کاشتکار کو آگاہی دی جائے کہ ہم پانی کے روزمرہ استعمال میں کس طرح کفایت شعاری کر سکتے ہیں۔ دین اسلام بھی ہمیں پانی کے استعمال میں میانہ روی کی تلقین کرتا ہے۔اس سے بہتر کوئی ہدایت نہیں ہو سکتی کہ میرے پیارے نبی حضور اکرم ?نے وضو میں بھی اسراف سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔ وطن عزیز گزشتہ دہائی سے توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے۔ اس حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اس جانب بھرپور توجہ دی اور توانائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے انتظامی اورتیکنیکی سطح پر متعدد اقدامات کیے۔ عوام اور صنعتوں کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ بجلی چوری، billing۔

Overاور محکمانہ کرپشن کے خلاف Tolerance Zeroکی پالیسی پر بھی عمل درآمد جاری ہے۔تاہم عوام تک ان کوششوں کے ثمرات اسی صورت میں منتقل ہوں گے جب بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی آئے گی۔ حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینا ہو گی۔پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جودْنیا بھر سے سیّاحوں کو راغب کرسکتا ہے۔ یہاں مذہبی اور روایتی سیاحت کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ اگر سیاحت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں توملکی معیشت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔حکومت نے 175ممالک کے ساتھ Online Electronic Visa Regimeمتعارف کرایا جو سیاحت کے فروغ کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہوگا۔ اسی تناظر میں کرتارپور راہداری کا آغاز ایک انتہائی قابل ستائش فیصلہ ہے اس سے ناصرف سکھ یاتریوں کو اپنے مقدس مقام تک با آسانی رسائی حاصل ہوگی بلکہ ہمارے ملک میں ہونے والی مذہبی سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ وطن عزیز کی

جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اقوام عالم کی نظریں اس خطے پر ہیں۔ پاکستان دْنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہے، ہمارے ایٹمی اثاثے اور ایٹمی میزائل پروگرام مخالفین کی جارحیت کی خواہش کو سر نہیں اٹھانے دیتے۔ ہمارے لیے قابلِ فخر بات یہ ہے کہ ہماری بہادر اور پرعزم افواج دہشتگردی کے خلاف ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ لڑ کر دْنیا پر اپنی قابلیت کی دھاک بٹھا چکی ہیں، ہماری افواج، وطن کے تحفظ کیلئے جو قربانیاں دے رہی ہیں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں ہے۔ میں اپنی قابل فخر اور بہادر افواج کو سلام پیش کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ پوری قوم وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ قیامِ امن کے لیےNational Internal Security Committee اورNational Intelligence Committeeکی تشکیل خوش آئند ہے۔ ماضی میں سیاسی غلطیوں کی وجہ سے ہم انتہا پسندی جیسی لعنت کی

زد میں آئے اور ان میں سب سے بڑا غلط فیصلہ ہمارا دوسروں کی جنگ میں ملوث ہونا تھا۔ نامساعد سیاسی اور علاقائی حالات کی وجہ سے ہم دہائیوں سے افغان بھائیوں کو بھی پناہ دیئے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کو پناہ دینا عالمی سطح پر رواداری اور مہمان نوازی کی بے نظیر مثال ہے لیکن اس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور معاشرتی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان معاملات کا ادراک کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں ملکی مفاد کو مقدم رکھناہوگا۔ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک اور دیگر اقوام عالم کے ساتھ بلا تفریق، برابری، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات کا خواہش مند ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی خارجہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکاہے۔ وزیراعظم نے مختلف ممالک کے اہم دورے

کیے۔کئی ممالک کی اہم شخصیات اس عرصے میں پاکستان کے دورے پر تشریف لائیں جو کہ پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا مظہر ہیں۔ یہ ہمارے بیانیے کی کامیابی ہے کہ آج دْنیا بھی اعتراف کر رہی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن کا قیام افغان ملکیت اور افغان قیادت کی سرپرستی میں سیاسی مذاکرات کے عمل کے ذریعے پورا کیا جائے۔پاکستان اور افغانستان کے تاریخی تعلقات ہیں، دونوں ممالک ہمسائیگی، بھائی چارے اور دوستی کے دیرینہ رشتے میں منسلک ہیں۔ہمارے اس ہمسایہ ملک میں دیرپا امن سے خطے کے لیے تجارت کی نئی راہداریاں کھلیں گی اور ہم اس سلسلے میں ہمیشہ انتہائی خلوص سے کام کرتے رہیں گے۔ پاک چین تعلقات مثالی دوستی اور باہمی اعتماد کا مظہر ہیں۔ ان تعلقات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مضبوطی اور اعتماد کی سطح بڑھتی جار ہی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (CPEC) نہ

صرف ان دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس کی تکمیل سے خطے کا مستقبل بھی تابناک ہو گا۔ اس سے وسط ایشیا تک رسائی آسان ہو گی۔ملک میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے CPEC کے تحت نئے شعبہ جات کا اضافہ کیا گیا ہے۔  ملکی ضروریات کے مدِ نظر CPEC منصوبوں کا Focus توانائی اور انفرا سٹرکچر سے صنعتی تعاون، سماجی و معاشی ترقی، زراعت، دیگر فریقوں کی شمولیت اور گوادر کی جانب مرتکز کر دیا گیا ہے۔ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت معاہدے کے دوسرے مرحلے سے پاکستان میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھلیں گے۔ چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، کرپشن کے خلاف ٹھوس اقدامات کئے، حکومت، چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاکر ملک سے غربت اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کر سکتی ہے۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات تاریخی اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران باہمی تعلقات عدم اعتماد کی وجہ سے سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔ وزیرِ اعظم کے حالیہ کامیاب دورے نے اس رجحان کو یکسر بدل دیا ہے اور دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ پاکستانی عوام بھی خادم الحرمین شریفین کے لیے عقیدت اور احترام کے جذبات رکھتی ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا دورہ ایران اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اپنے برادر ہمسائے کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہش مند ہے اور بہترین تعلقات پاک ایران عوام

کے مشترکہ مفادات کے لئے اہم ہیں۔ترکی کے ساتھ ہمارے خصوصی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔ہم شکرگزار ہیں کہ ہمارا یہ برادر ملک ہرمشکل گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ہمارا معیشت، دفاع، ثقافت اور دیگر تمام شعبوں میں باہمی تعاون جاری ہے اس میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ہونا چاہیے۔ پاکستان یورپ اور یورپی یونین سے قریبی معاشی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کا خواہش مند ہے۔ اس سلسلے میں یورپین یونین کے ساتھ Strategic Engagement Plan پر حالیہ اتفاق ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ نئی حکومت کی بر اعظم افریقہ کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کی پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔اسی طرح مشرق بعید اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے

ساتھ تعاون بڑھانے کا عمل جاری و ساری ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اور علاقائی تنظیموں بشمول ECOاور SCOمیں ایک متحرک اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیشہ کی طرح ہمارے بہادر فوجیوں کا اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں مثبت کردار جاری رہے گا۔ ذرائع ابلاغ یعنی میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ موجودہ حکومت کی پہلے دن سے یہی کوشش رہی ہے کہ میڈیا اپنا مثبت اور معیاری کردار ادا کرے۔ پاکستان میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ موجودہ صدی پوری طرح ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے عبارت ہے۔ البتہ یہاں میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ موجودہ حالات میں میڈیا کو پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا بہتر اور معیاری کردار ادا کرنا ہوگا جو صداقتوں کا امین اور ملی جذبات کا آئینہ دار ہو۔ سوشل میڈیا کی اہمیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس کی وسعت اور پہنچ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک جامع اور

مؤثر پالیسی وضع کرے تاکہDisinformation, Misinformation Fake News کا خاتمہ اور درست اور اہم خبروں کی ترویج ہو سکے۔ اس اہم میڈیم کو قومی تشخص کے پرچار، صحت، تعلیم اور تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ مدینہ جیسی فلاحی ریاست کا قیام اس حکومت کا خواب ہے اور اس سلسلے میں شب و روز کوششیں جاری ہیں۔لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم بحیثیت قوم اجتماعی طور پر اس میں شامل نہیں ہوجاتے۔ اس لیے لازمی ہے کہ قوم کا ہر فرد اس ریاست کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالے۔ اگر ہم چاہیں تو یہ ملک قائدِ اعظمؒ کی خواہش کے مطابق ریاستِ مدینہ کی جھلک دْنیا کو دکھا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پاکستان کی تعمیر وترقی اور اس کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو،آمین۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر