کشمیر پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے بیانات سے متعلق افواہیں،پاکستان کا شدید ردعمل سامنے آگیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ دونوں حکام نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور کشمیر کاز کیلئے حمایت کا اظہار کیا، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف واضح ہے، مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار داد وں کے مطابق حل ہو نا چاہیے، مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے،

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کیلئے کئی ممالک ثالثی کیلئے تیار ہیں مگر بھارت تیار نہیں،پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی بیک ڈور سفارت کاری نہیں ہو رہی،افغان تنازع کا واحد حل سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہے، امید ہے امریکہ اور فغان طالبان کے درمیان مذاکرات جلد بحال ہو نگے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے حوالے سے مبینہ رپورٹس کو قیاس آرائیاں قرار دیا اور کہا کہ دونوں حکام نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن 40 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بریفنگ کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر مکمل پابندی عائد ہے، انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کشمیری قیادت کی رہائی، میڈیا اور عالمی برادری کو کشمیر تک رسائی کے مطالبات کیے گئے۔دوران بریفنگ جب ان سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ ثالثی کی پیش کش سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ بھارت اس کیلئے تیار نہیں ہے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ

ہم ہمیشہ دو طرفہ مذاکرات سمیت ثالثی کے لیے تیار ہیں اور ہم نے (مذاکرات) کے لیے کئی کوششیں کی تھیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ہمیشہ یہی موقف ہے کہ ہر مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد ایک عمل ہے، یہ کوئی ایونٹ نہیں، یہ عمل جاری ہے اور یہ آگے بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ (آج) جمعہ کو وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر جائیں گے اور وہاں کے لوگوں کے لیے پالیسی بیان دیں گے،

اس کے علاوہ (دیگر) مختلف اقدامات زیرغور ہیں اور جیسے ہی کچھ حتمی ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں بتائیں گے، فی الحال ابھی کچھ حتمی نہیں ہے۔اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کو پس پردہ کوئی مذاکرات جاری نہیں ہیں۔ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران افغان امن عمل کی معطلی سے متعلق سوال پر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اس عمل کی حمایت کی جس کی قیادت افغانوں کی جانب سے کی گئی۔انہوں نے کہا کہ

پاکستان کو کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر اور طالبان رہنماؤں کی خفیہ ملاقات کی معطلی کے بارے میں معلوم ہوا، اس معاملے پر پاکستان چاہتا ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کرے اور تشدد سے گریز کریں۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازع کا واحد حل ان سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہے جس کی قیادت افغانوں کی جانب سے کی گئی ہو۔اس موقع پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جلد بحال ہوں گے۔دوران بریفنگ بھارتی صدر کے لیے فضائی حدود کی بندش سے متعلق انہوں نے کہاکہ یہ سیاسی فیصلہ ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطین کے قیام کا حامی ہے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر