سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعدایران پر حملے کی تیاریاں،شہزادہ محمد بن سلمان کا امریکی وزیردفاع کو فون،متحدہ عرب امارات نے حمایت کی اپیل کردی

سوشل میڈیا‎‎

ریاض(این این آئی)امریکی وزیر دفاع مارک ایسپرنے کہاہے کہ ایران کی طرف سے تخریب کاری کا نشانہ بننے والے عالمی نظام کے دفاع کے لیے امریکا اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں بتایاکہ انہوں نے تھوڑی دیر قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلی عہدے داروں کے ساتھ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ارامکو حملوں کے بعد پیدا ہونے والی

صورت حال پرغور کیا گیا۔صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ امریکا ارامکو حملوں کے ذمہ داروں کو جواب دینے کے لیے تیار ہے۔سعودی وزارت برائے امور خارجہ نے کہا ہے کہ 14 ستمبر 2019 ء کو سعودی عرب میں بین الاقوامی منڈیوں کو تیل کی فراہمی کی تنصیبات پر ایک غیر معمولی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سعودی ارامکو کی پیداوار کا تقریبا 50 فی صد رسد معطل ہوئی ہے۔سعودی عرب کی پریس ایجنسی نے وزارت خارجہ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں ایرانی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔ان حملوں کے ذرائع کی تصدیق کے لیے کام جاری ہے۔بیان میں سعودی عرب کی طرف سے اس سنگین حملے کی مذمت کی تصدیق کی گئی ہے جس نے بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے سے دوچار کردیا۔ بیان میں اس بات زور دیا گیا ہے کہ اس حملے کا مقصد بنیادی طور پر عالمی توانائی کی رسدکو نقصان پہنچانا تھا۔ یہ حملہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات ایرانی جارحیت کی سابقہ کارروائیوں کا تسلسل ہے۔سعودی عرب نے عالمی برادری کی طر ف سے ارامکو تنصیبات پر حملوں کے بعد مملکت کے ساتھ اظہار یکجہتی پر اس کا شکریہ ادا کیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ارامکو تنصیبات پرحملوں کی تحقیقات کے لیے الاقوامی اور اقوام متحدہ کے ماہرین کو حقائق کی چھان بین کرنے اور تحقیقات میں حصہ لینے کے لیے مدعو کرے گی۔جبکہ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین سینیٹر جم رش نے

پیر کو سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد ایرانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی مشرق وسطی میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رش نے یہ بھی انتباہ کیا کہ امریکی افواج پر کوئی بھی حملہ ممکن ہے۔ بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں پر کسی بھی حملے کا بھر پور جواب دینا ہوگا۔ آپشن زیرغور ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے لاحق خطرات سے

صرف سعودی عرب کو ہی خطرہ نہیں بلکہ پورا خطہ اور عالمی سلامتی ایران کی وجہ سے خطرے میں ہے۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ولی عہد نے ان خیالات کا اظہار امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کیا۔ ایسپر نے شہزادہ محمد بن سلمان کو ٹیلیفون کیا اور ان سے ارامکو حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونیو الی صورت حال تبادلہ خیال کیا۔امریکی وزیر دفاع نے بعقیق اور خریص میں تیل کی دو تنصیبات پر حالیہ حملوں کے بارے میں امریکی موقف سے

آگاہ کیا اور ان حملوں کے ذمہ داروں سے نمٹنے کے لیے سعودی قیادت کو ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ارامکو حملوں کے ذمہ داروں سے نمٹنے کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ایرانی دھمکیوں کا ہدف نہ صرف سعودی عرب ہے بلکہ ایران مشرق وسطی اور پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ٹویٹر پر کہا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے

آرمکو کی تیل کی دو تنصیبات پر تازہ ترین حملے کے بارے میں بات کی ہے۔دریں اثناء متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے خارجہ امور انور قرقاش نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب میں ہفتے کے روز تیل کی دو تنصیبات پر ہونے والا حملہ بذات خود ایک خطر ناک جارحیت ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں قرقاش نے کہا کہ ارامکو کی تنصیبات پر غیر معمولی نوعیت کے دہشت گرد حملے کا کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں ہے، سعودی عرب پر

حملہ بذات خود ایک خطرناک جارحیت ہے۔ اس موقع پر ہر عرب ملک اور عالمی برادری کی ہر ذمے دار ریاست کو سعودی عرب اور خطے کے استحکام اور سلامتی کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں خلیجی ریاست بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بات چیت میں ہفتے کے روز ارامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پرحملوں کی شدید مذمت کی۔

عرب ٹی وی کے مطابق بحرینی فرمانروا شاہ حمد بن عیسٰی آل خلیفہ نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ٹیلیفون کرکے انہیں اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان خطے کی سلامتی اور ارامکو حملوں کے بعد پیدا ہونیو الی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔بحرین کے فرمانروا شاہ حمد نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان سے بھی ٹیلیفون تبادلہ خیا کیا۔ انہوں نے ارامکوحملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اپنی طرف سے سعودی عرب کو ہرممکن تعاون کو یقین دلایا۔

جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی و صنعت سہیل المزروعی نے کہا ہے کہ ارامکو تیل تنصیبات پرحملوں کے بعد سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ تیل کی سپلائی کے لیے ہرممکن تعاون کیا جائے گا۔ تیل کی رسد میں کسی بھی دور کرنے کے لیے اور کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ یقینی تعاون کیا جائے گاعرب ٹی وی کے مطابق المزروعی نے ابو ظہبی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام اجلاس کے موقع پر بتایا کہ آرامکو تنصیبات پر حملوں فوری بعد ہم نے سعودی عرب کی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس دہشت گردی کے واقعے کے نتائج پر قابو پانے کے لیے سعودی عرب کی قابلیت پر اپنے اعتماد ہے۔سعودی عرب عالمی توانائی کے میدان میں اہم اور موثر ملک ہے جو تیل کی کل پیداوار کا 10 فی صد فراہم کرتا ہے۔سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر کسی بھی قسم کی تخریبی کارروائی عالمی سطح پر توانائی مارکیٹ کو متاثر کرتیہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں المزروعی نے کہا کہ اوپیک کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی بات قبل از وقت ہے۔ ہنگامی اجلاس صرف سعودی عرب کی درخواست پر بلایا جاسکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اوپیک کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پرعمل درآمد یقینی بنائے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کی امدادی ٹیموں کی طرف سے آرامکو تنصیبات میں لگنے والی آگ پر جلد از جلد قابو پانے کی کوششوں کو سراہا اور کہا ریسکیو آپریشن سے سعودی عرب کی کسی بھی مشکل سے نمٹنے کی صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ذخیرہ شدہ تیل کی وافرمقدار موجود ہے۔ ضرورت پڑنے پر اسے استعمال میں لایا جائے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر