پاکستان کے بڑے شہرمیں کم عمر بچوں کے ذریعہ منشیات فروشی،سکولوں میں بھی فروخت کا انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس زیر صدارت چیرمین کمیٹی صلاح الدین ایوبی جمعرات کو منعقد ہوا۔رکن کمیٹی جمیل احمد خان نے کمیٹی میں کراچی میں کم عمر بچوں کے ذریعہ منشیات فروشی کا انکشاف کرتے ہوبتایا کہ منشیات سمگلر منشیات فروشی کے لیے بچوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

کراچی منشیات کا گڑھ بن گیا اور ضلع ملیر اسکا حب بن چکا ہے، ملیر میں بچے چوک چراہوں پر منشیات فروخت کر رہے ہیں۔ جمیل احمد خان کا کہا تھا کہ پولیس اور اے این ایف کا عملہ منشیات سمگلروں کے ساتھ مل کر پیسے لیتے ہیں۔پو لیس اور نارکوٹکس گزشتہ ایک سال میں منشیات فروشوں کیخلاف کاروائیاں بتائیں تو مان جاؤں گا۔ انہوں نے کہا ڈی جی اے این ایف کو نہ صرف خط لکھا بلکہ منشیات سمگلر کا نام بھی بتایا،ایک سال سے نشاندہی کے باوجود کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری انسداد منشیات امجد جاوید سلیمی نے اجلاس کو بتا یا کہ آپ گلیوں کی بات کرتے ہیں یہاں سکولوں میں منشیات بکتی ہے۔سکولوں کے ساتھ موجود کھوکھوں سے بچوں کو منشیات مل جاتی ہے۔آج صبح اپنے ضلع کے ڈی پی او کو فون کر کے شکایت کی۔میں انسداد منشیات کی وفاقی وزارت دیکھتا ہوں اور میرے ضلع میں ہیروئن فروخت ہو رہی ہے۔ملک میں اس وقت 40 لاکھ سے زائد منشیات کے عادی افراد ہیں۔صحت, داخلہ, تعلیم سمیت سب کو مل کر اس پر کام کرنا ہوگا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر