میں مولانا فضل الرحمن کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، محمود خان اچکزئی نے بڑی پیشکش کردی

سوشل میڈیا‎‎

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کسی ایک جماعت نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا مارچ ہے،پاکستا ن واحد ملک ہے جہاں لیڈر ایجادکر نے کے تجربے ہورہے ہیں، موجودہ حکومت کی وجہ سے پاکستان دن بدن مشکل میں پھنس رہا ہے عمران خان میرے دوست رہے ہیں اگر وہ استعفیٰ دے دیں تو اس میں کونسی بری بات ہے،

آئین کی بالادستی،ادارے کے اپنی حدود میں کام کرنے اورنئے انتخابات کی گارنٹی دے دی جائے میں مولانا فضل الرحمن کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں مولانا کو بیٹھانا اور ٹائر کو پنجر کرنا میری ذمہ داری ہے، سینیٹ انتخابات اور چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران جو کچھ ہوا وہ ملک کے لئے باعث شرمندگی ہے، جا معہ بلوچستان سمیت صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنایا جائے اور یہ اداروں کے ذریعے ہونی چاہیے،نواز شریف کی صحت تشویشناک ہے سپریم کورٹ اس پر ازخود نوٹس لے اگر انہیں بیرون ملک بھی بھیجنا پڑے تو جا نے دیا جائے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، اس موقع پررکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے،سابق صوبائی وزراء ڈاکٹر حامد اچکزئی،عبدالرحیم زیاتوال، سابق رکن قومی اسمبلی عبدالقہارودان،سابق میئر کوئٹہ ڈاکٹر کلیم اللہ سمیت دیگر بھی موجود تھے،محمود خا ن اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن  نے آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے موجودہ حکومت جس انداز میں بنائی گئی اور جس طرح بلوچستان میں مخلوط حکومت کو گرایا گیا پیسے بانٹے گئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں منڈی لگائی گئی ہمیں یہ کسی صورت قبل نہیں ہے اس کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں ہم نہ لڑیں گے نہ گالی دیں گے آزادی مارچ جمہوری حق ہے اس مارچ کے بعد کیا ہوتا ہے ہم نے حساب دینا ہے اگر آزادی مارچ کہیں رکتا ہے تو اس حکومت کو گرانے کے لئے پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے کارکن اپنی صفوں کو تیار رکھیں کوئی اور ہو نہ ہو کم از کم ہم یہاں یہ کام کر سکتے ہیں،

ہم مسلح جتھے بنا نے کے الزامات لگائے جارہے کیاحکومت چاہتی ہے لوگ لڑیں،خون خرابہ یا خانہ جنگی ہو ملک میں ایسانہیں ہونے دیں گے،مولانا فضل الرحمن نے ہمت کی لیکن یہ آواز پنجاب سے اٹھنی چاہیے تھی موجودہ حکومت کو جانا چاہیے عمران خان شریف آدمی ہیں میرے دوست رہے ہیں کونسی بری بات ہے کہ اگر وہ استعفیٰ دے دیں لیکن اس کے نتیجے میں یہ نہ ہو کہ استعفیٰ دو اور پھر ٹھپہ بازی ہو اگر غیر جانب دار الیکشن ہوں تو لکھ کر دینے کو تیار ہیں کہ اگر ہار بھی جائیں تو ہم برداشت کریں گے

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو پیغام ہے کہ مصلحت پسندی سے کام نہیں چلے گا مصلحت پسندی نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے یہ مارچ صرف جمعیت علماء اسلام نہیں سب پارٹیوں کا ہے ہم حکومت کے مخالف نہیں لیکن جس انداز میں ہماری حکومت گرائی گئی جو کچھ ہوا اس پر دکھ ہے ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد کر رہے ہیں سینیٹ کے انتخابات اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں جو کچھ ہواوہ ملک کے لئے شرمندگی کے باعث ہے ایک طرف نیب کو لوگوں کے پیچھے لگا یا جارہا ہے

اور پھر ایک ایک آدمی کا ووٹ خریدا گیااگر آئین کی بالادستی،ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں،نئے انتخابات کی گارنٹی دے دی جائے میں مولانا فضل الرحمن کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں مولانا کو بیٹھانا اور ٹائر کو پنجر کرنا میری ذمہ داری ہے لیکن جو بھی غیر آئینی عمل ہوگا ہم اسکے سامنے کھڑے ہونا چاہیے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمن کے پیچھے ایسے لوگ ہیں جو وردی میں ہیں یا بغیروردی کے ججز یا جرنل ہیں اور وہ ان سے کہہ رہے ہیں کہ آئین کی بالادستی کی جنگ لڑو انکے منہ میں گھی شکر اگر وہ لوگ کہتے ہیں کہ ملک تنہائی کی طرف جارہا ہے اسے تنہائی سے نکالنا ہے تو ہم انہیں بھی خوش آمدید کہیں گے

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں پہلے بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں لوگ سزائیں بھی بھگت رہے ہین لیکن نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے، پاکستان کا سب سے مشہور لیڈر میاں نواز شریف اور انکی بیٹی نہ جانے کس گناہ میں جیل میں ہیں وزیرداخلہ نے کھلے عام کہا ہے کہ نواز شریف اگر اپنے ایک ساتھی کی بات مان لیتے تو آج وہ چوتھی بار وزیراعظم بنتے کیا یہ سارا ڈرامہ اور نواز شریف کو جیل میں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ ماتحت پوزیشن پر ہوں اور انہیں کسی فیصلے کا اختیار نہ ہو، اگر کوئی بھی اس بات کو تسلیم کریگا پشتونخواء اسکا ساتھ نہیں دیگی، ہمارا مطالبہ ہے کہ پارلیمان طاقت کا سرچشمہ ہوگی،آئین بالادست ہوگا سپریم کورٹ میاں نواز شریف

کی صحت کا از خود نوٹس لے اور ضرورت پڑے تو انہیں بیرون ملک بھی بھیجا جائے نواز شریف اگر بھاگنے والا ہوتا تو وہ سزا ملنے کے باوجود بھی اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کرنا نہیں آتا، پنجاب کے عوام سے گلہ ہے کہ وہ کب نکلیں گے،کیا نیب، شوگر مل وغیر تماشے اور محض باتیں ہیں اصل محرکا ت کچھ اور ہیں ایسے پاکستان نہیں چل سکتا،انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں معاملہ شروع دن سے گڑبڑھ ہے آج ہمارا ملک اور ریاست اقوام عالم میں تنہائی کا شکار ہے،ملک پر بدترین الزامات عائد کئے جارہے ہیں وزیر اعظم بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم نے دیگر ملکوں میں مداخلت کی اور لوگ پیدا کئے۔اس ملک اور ریاست کو بچانا ہر پاکستانی کا

فرض ہے جو بھی جمہوریت کا علم بردار صحافی، جج، جرنل، کاروباری یاعام شخص ہو سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کام کے لئے اٹھیں ہمیں کسی کی نسل، شکل سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے، سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ریاست کو اسکے دائرہ کار میں رکھیں،انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا س پر ہاتھ اس لئے ہلکا ہاتھ اس لئے رکھا کیونکہ کہ یہ تاثر نہ جائے کہ پشتونخواء ملی عوا می پارٹی آزادی مارچ کو سبو تاژ کرنا چاہتی ہے میں چاہتا تھا کہ اس معاملے میں مثبت انداز میں کود پڑوں جامعہ بلوچستان سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں ہراسگی کسی صورت بھی ناقابل معافی ہے میں پی ایس اور اور بی ایس او سے خفا ء ہوں جن کے ہزاروں لوگ انقلابی

نعرے تو لگاتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بہن،بیٹیوں کے ساتھ یہ تماشا ہورہا ہے اور وہ بیٹھے ہیں میرا خوف یہ ہے کہ اس قصے پر مٹی ڈالی جارہی ہے ہم اسے دفن نہیں ہونے دیں گے لسبیلہ کے کالج سے چمن، چمن سے موسیٰ خیل تک اسکی تحقیقات ہونی چاہیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بنایا جائے جس میں اچھی شہرت کے حامل مرد اور خواتین شامل ہوں کمیشن کے سامنے بچے،بچیاں بات کر سکیں ایف آئی اے میں عورتیں اور مرد بھی ہیں ہر ایک سے انکوائر ی ہونی چاہیے،وومن یونیورسٹی، گرلز کالج سمیت دیگر اداروں میں آزادنہ تحقیقات ہونی چاہیے ایسے شواہد ہیں کہ ایمبولنس آئی ہے لیکن وہ ہسپتال کے بجائے کہیں اور گئی پاکستان کی ایجنسیاں قابل ہیں

وہ اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہیں اس پر پوری صلاحیت خرچ کر کے معاملے کی تحقیقات کروائی جائیں غلطی قابل معافی ہے لیکن مستقبل بد اخلاق بدکردار افراد کسی ادارے میں داخل نہیں ہونا چائیئں یونیورسٹی سے ایف سی کو نکال کر طلباء کی فورس بنا کر یونیورسٹی کا تحفظ کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کو کہہ دیا کہ مولانا فضل الرحمن کے مارچ میں حصہ لینا ہے میں اس میں ہونگاتمام اضلاع کو ہدایت کردی گئی ہے ہر ایک کی اپنی مرضی ہے ہر ضلع سے معلو م ہوجائیگا کون آیا کون نہیں انہوں نے کہا کہ پارٹی میں بھگ دڑ مچی ہوئی ہے ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کر نے والوں کو ہدایت کر رہا ہوں کہ وہ رک جائیں جو نہیں رکے

گا وہ پارٹی میں نہیں ہوگا ہم انہیں معلوم کریں گے پھر کسی کا کوئی گلہ نہیں ہوگاپشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے کارکن اپنے جمہوری حقوق کے لئے صفوں کو تیار کریں یہ حکومت جس انداز میں حکمرانی کر رہی ہے ہمیں نہ چھڑیں جس نے چھیڑا اسکا بیڑا غرق ہوا ہے ہم نے اپنے اصولوں پر کبھی سودا نہیں کیا آئین کی بالادستی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 126دن کے دھرنے کے جمہوری عمل سے اختلاف نہیں کیا انہیں کسی نے اکسایا تھا 40ہزار مسلح اداروں کے لوگ ہاتھ باندھے دھرنے کے اردگر کھڑے رہتے تھے ڈی ایس پی تک کو مارا پیٹا گیا ان کے پاس کونسی گیدڑ سنگی تھی کچھ تو تھا کہ کوئی حرکت نہیں کر رہا تھاپارلیمنٹ کی دیواریں گرا کر خیمے لگائے گئے، پی ٹی وی پر حملہ ہوا، کرین سے رکاوٹیں ہٹا کر وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا کہا گیا کوئی

رو ک نہیں رہا تھا کہاگیا کہ امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے اس تما م عمل سے پاکستان کی جنگ ہنسائی ہوئی چین کے صدر کا دورہ منسوخ ہواہاشمی صاحب نے جو کچھ کہا وہ سب کو معلو م ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ریاست اور حکومت ہوتی ہے ریاست مقدم اور مقدس ہے ہر شہری پر فرض ہے کہ وہ اسکے اداروں کا دفاع کرے،ملک میں اس وقت حکومت اور ریاست کو گڈ وڈ کردیا گیا ہے احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے انہوں نے کہا کہ ریاست چلانے کی ذمہ داری ریاستی اداروں کی ہوتی ہے ہر ادارے کو اسکی ضرورت کے مطابق اختیارات کو بجٹ دیا جاتا ہے ریاست چلانے کے لئے آئین ہوتا ہے یہ محض ایک کاغذ کاٹکرا نہیں ہے اس میں ہر

ادارے کا فریم ورک بنایاگیا ہے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ ا س بات پر نظر رکھے کہ کوئی ادارہ اپنی حدود سے تجاوزنہیں کر رہا اگر ایسا ہو انہیں روکنا ریاست بچانے کے مترادف ہے نہ کہ ریاست بگاڑنے کے، ہر ریاست کا ممبا لوگوں کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ ہوتی ہے وہی اسکے داخلی اور خارجی فیصلے کرتی ہے اور اگر پارلیمان یا کسی اور ادارے کو مزید اختیارات دینے ہوں تو اسکے لئے آئین میں ترمیم کی جاتی ہے لیکن بد قسمتی سے لوگ ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے عدلیہ فوج پارلیمنٹ کا اپنا دائرہ کار ہے جو بھی ادارہ اپنے دائرے سے نکلے گا اسے روکنے کے لئے عوام کو لڑنا پڑتا ہے۔عدلیہ فوج یا پارلیمنٹ اپنی حدود سے نکلیں تو عوام لڑتی ہے

جو اقوام اس پالیسی پر چلتی ہیں وہ دن بدن ترقی کر تی ہیں انہوں نے کہا کہ پشتونخواء ملی عوامی پارٹی ان لوگوں کی پیروکارہے جنہوں نے اپنے حقوق اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں ہم سے کوئی گلہ نہ کر ے کہ ہم یہ سب کیوں کررہے ہیں پشتونخواء ملی عوامی پارٹی نے ہمیشہ نتائج کی پراہ کئے بغیر حقوق اور آئین کی بالادستی،جمہوریت کی آواز بلند کی ہے ہم نے جو تکالیف برداشت کیں نہ اس پر آج تک روئے نہ کسی پر احسان کیا ہم نے یہ سب اپنا فرض سمجھ کر کیا ہے قیام پاکستان کے وقت بھی ہمارے اکابرین نے محمد علی جناح، لیاقت علی خان و دیگر کو خطوط لکھے کہ ملک میں حقوق دینے،مذہبی روادری کا راستہ اپنائیں ہم نے کبھی پاکستان مردہ باد نہیں کہا

نہ ہم نے صبر کا دامن چھوڑا،انہوں نے کہا کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس میں بچوں کو کرپٹ کیا جاتا ہے پیسے دیکر وفاداریاں خریدی جاتی ہیں منڈے کے ٹماٹر اور خربوزوں کو کہاں پیش کیا جاسکتا ہے،بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو انگریز سے لیکر عمران خان کی حکومت تک اقتدار میں رہے ہیں جام کمال کا خاندا ن بھی اسی زمرے میں آتا ہے ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ تم کس کھیت کی مولی ہو جو جناح، لیاقت علی خان،ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر سمیت ہر حکومت کے ساتھ رہے ہیں ہمیں ملک کو چلانے کے لئے عوام پر بھروسہ کرنا ہوگا ملک انتہائی خطر ناک حالات میں ہے کبھی ہم گرے لسٹ میں ہوتے تو کبھی دیگر مسائل میں ان حالات میں عدلیہ کو چاہیے کہ وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے ایک گول میز کانفرنس بلائے جس میں فوج، عدلیہ، ٹیکنو کریٹ، صحافی،سیاسی کارکن، این جی او، دانش وروں سمیت تمام اداروں کے لوگ شامل ہوں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر